آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍شوال المکرم 1440ھ 20؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پچھلے کچھ عرصہ سے پاکستان میں دہری شہریت پر اچھی خاصی بحث کا سلسلہ جاری ہے اور چند ایک پارلیمنٹ کے ممبران نے اپنی امریکہ، ولایت، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر ممالک کی شہریت کی خاطر پارلیمنٹ کی سیٹ چھوڑ دی اور باہر کی شہریت کو ترجیح دی۔ باہر کے ممالک کی شہریت کو ترجیح دینے والوں کو اس ملک سے کتنی محبت ہے، اسکے بارے میں کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں، دلائل دینے والے ہر طرح کی وزنی دلیل دے سکتے ہیں۔ یہ ایک علیحدہ بحث ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے سیاسی لوگ اس ملک میں اپنے گاؤں اور علاقوں سے منتخب ہو کر اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں اور پھر جب وطن پر لمبی لمبی تقریریں جھاڑتے ہیں اور جب دہری شہریت کا مسئلہ آیا تو پارلیمنٹ کی رکنیت چھوڑنے کو تیار ہو گئے، بعض نے تو پہلے غلط بیانی سے کام لیا مگر جب بھانڈا پھوٹنے کا ڈر ہوا تو اسمبلی کی رکنیت چھوڑ دی۔ جب لیڈران کی ترجیح غیر ملکی شہریت ہو گی تو پھر عوام کی بہتری نہیں؟ پاکستان میں 1951ء سٹیزن شپ ایکٹ بنایا گیا تھا، جس کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے 13 اپریل 1951ء کو منظور کیا تھا اس کی قانون کی 23 شقیں تھیں، جن میں وقت کے ساتھ ساتھ ترامیم کی گئیں، ہمارے ہاں ہر قانون کو نافذ کرنے کے کچھ عرصہ بعد اس میں ترامیم کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ ترامیم ہمیشہ مخصوص لوگوں کے مفاد کو

سامنے رکھ کر کی جاتی ہیں، غریب عوام کا صرف نام استعمال کیا جاتا ہے۔ اس قانون کی شق نمبر 14 میں واضح طور پر پاکستانی شہریوں کو دوسرے ممالک کی شہریت اختیار کرنے کی اجازت نہیں، البتہ 29اگست 2002ء کو ایک نوٹیفیکیشن کے تحت پاکستان کے شہریوں کو درج ذیل 16 ممالک میں دہری شہریت حاصل کرنے کی اجازت دی گئی۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ، ولایت، فرانس، اٹلی، بلجیم، آسٹریلیا،آئس لینڈ، نیوزی لینڈ، سویڈن، کینیڈا، نیدرلینڈ، سویٹزر لینڈ، شام، مصر، اردن اور آئر لینڈ۔
دنیا میں بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ دہری شہریت کے حامل چھوٹے چھوٹے ممالک کے بعض اہم لوگوں نے بڑے بڑے ممالک کی شہریت کو چھوڑ دیا لیکن ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو فخریہ انداز میں دوسرے ممالک کی شہریت کا ذکر کرتے ہیں۔ انہیں باہر کے ممالک کے پاسپورٹ پر فخر ہوتا ہے۔ بابا رحمن ملک، ڈاکٹر طاہر القادری کو تو کہتے ہیں کہ گرین پاسپورٹ کے تقدس کو بڑھائیں، کوئی بابا رحمن ملک سے پوچھے انہوں نے اس ملک کے گرین پاسپورٹ کے احترام اور تقدس کو بڑھانے کے لئے کَیا کِیا ہے؟
آج ہر کوئی ”امریکہ بہادر“ اور ”انگریز بہادر“ کے ممالک کی شہریت حاصل کرنے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہے۔ بے شمار پاکستانیوں نے پیپر میرج (یعنی کاغذی شادی) بھی وہاں کی لڑکیوں سے کی۔ کئی نے وہاں اولاد بھی پیدا کی اور جونہی اس ملک کا پاسپورٹ ملا تو اپنی بیوی اور بچوں کو چھوڑ آئے جو شخص اپنی بیوی اور بچوں کا نہ بن سکا، اس نے اپنے ملک کا کیا بننا ہے۔ پاکستانیوں کی اکثریت امریکہ، یو کے اور کینیڈا کی شہریت تو چاہتی ہے لیکن کوئی اپنے ملک کو ان ممالک جیسا بنانے کا جذبہ نہیں رکھتا۔ آج یہ ملک حکمرانوں کی بدولت اس حال کو پہنچا ہے، بھارتی شہری کو دوسرے ممالک کی شہریت اختیار کرنے پر بھارت کی شہریت چھوڑنا پڑتا ہے یا پھر اس کی بھارتی شہریت خود بخود ختم ہو جاتی ہے۔ بلجیم نے 28جون 1948ء اور دوبارہ یکم جنوری 1992ء کو ایک آئینی ترمیم کے ذریعے دہری شہریت پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس طرح کسی سعودی کو دہری شہریت رکھنے کی اجازت نہیں۔ اسی طرح کسی یو ای اے کے شہری اور ڈچ شہری کو بھی دہری شہریت رکھنے کی اجازت نہیں، جاپان نے بھی 1985ء میں دہری شہریت پر پابندی لگا دی۔ آخر ہمارے لوگ باہر کی شہریت اپنے پاس کیوں رکھنا چاہتے ہیں، اس کی بنیادی وجہ ہمارے ملک کے حالات اور غیر یقینی صورتحال ہے۔ بہت سارے واپس اپنے وطن آ کر کاروبار کرنا چاہتے ہیں اور بہت سوں نے ایسا کیا بھی ہے لیکن بہت سارے دوبارہ انہی ممالک کو لوٹ گئے جہاں سے آئے تھے۔
ہمارے حکمرانوں نے کبھی بھی اس ملک کے حالات کو خوشگوار بنانے کی طرف توجہ نہیں دی، اب حالات یہ ہیں کہ بڑے بڑے کاروباری لوگ بنگلہ دیش اور دبئی جا کر کاروبار کر رہے ہیں۔ ایک زمانے میں امریکہ نے لاٹری کے ذریعے امریکہ کی شہریت دینے کا سلسلہ شروع کیا تھا چنانچہ لاکھوں پاکستانیوں نے اس لاٹری میں حصہ لیا تھا اور کئی پاکستانی اس لاٹری کی وجہ سے امریکہ کے شہری بنے۔ ہمارے لاکھوں پاکستانی اس وقت دنیا کے تقریباً ہر ملک میں روزگار کے سلسلے میں گئے ہوئے ہیں لیکن وہ تمام پاکستانی اپنے اور اپنی اولاد کے لئے ہر صورت ان ممالک کی شہریت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے ہاں سینکڑوں گھرانے ایسے ہیں جو بچے کی پیدائش کے وقت امریکہ اور برطانیہ اپنی بیگمات کو لے گئے، ماں باپ پاکستانی اور بچے امریکن یا برطانوی شہریت رکھتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت دہری شہریت کے لئے کوئی قانون سازی کرے، کسی اہم سیاسی یا حکومتی عہدے پر کسی دہری شہریت کے حامل فرد کو کسی صورت نہ لگایا جائے۔ دوسرے سیاست میں بھی وہ افراد حصہ لے سکیں جو صرف اور صرف پاکستانی شہریت رکھتے ہوں، کوشش کریں کہ پاکستان کو ہم عالمی سطح پر اس مقام پر لے آئیں کہ لوگ پاکستانی شہریت حاصل کرنے پر فخر محسوس کریں۔
دنیا کے 22 معروف سیاستدانوں نے امریکہ کی شہریت باضابطہ طور پر چھوڑ دی تھی حالانکہ ان میں سے اکثریت کا تعلق غریب ممالک سے تھا۔ مثلاً تائیوان کے تین، جمیکا کے چار، یوکرائن کے دو، ڈومینین ری پبلک، اسٹونیا، بلیز، پولینڈ، بلغاریہ، گرینیڈا، یونان، پولینڈ، بھارت اور بیاماس کے ممالک شامل ہیں۔ مانا کہ لاکھوں پاکستانی باہر کے ممالک سے زرمبادلہ کما کر پاکستان بھیج رہے ہیں لیکن یہ زرمبادلہ بغیر دہری شہریت کے آ بھی رہا ہے اور آتا بھی رہے گا، تو پھر دہری شہریت آخر کس لئے؟ جذبہ ہو تو ہم اس ملک کو بھی کینیڈا، امریکہ، سویٹزر لینڈ بنا سکتے ہیں۔ اس ملک میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ریٹائرمنٹ کے بعد اس ملک کو ترقی یافتہ اور یہاں کے لوگوں کو ہنر مند بنانے کے لئے پورے جذبے کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ مثلاً پنجاب کے سابق گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول نے جذبہ فاؤنڈیشن کے نام سے ایک فلاحی تنظیم بنا رکھی ہے۔ وہ ہر سال سینکڑوں لوگوں کو قرضہ حسنہ اور مختلف ہنر سکھانے کے لئے مختلف مشینری، آلات اور چیزیں دیتے رہتے ہیں اور جنرل خالد مقبول بغیر کسی پبلسٹی کے خاموشی کے ساتھ یہ کام کرتے رہتے ہیں۔ کاش ہمارے ملک کے وہ ریٹائرڈ افراد جنہوں نے بڑی بڑی پوسٹوں پر کام کیا ہے وہ بھی اسی جذبے کے تحت کام کریں، بجائے اس کے کہ کلبوں میں بیٹھ کر ڈینگیں ماریں، کمایا تو انہوں نے بہت ہے بلکہ کئی نسلوں کے لئے کمایا ہے، اب ان کا فرض ہے کہ اس ملک کے غربت کے مارے لوگوں کے لئے کچھ کریں، بہت جھوٹ بول لیا، بہت لوٹ مار کر لی، لاہور میں جس قدر بڑا محل بلاول کے لئے بنایا گیا وہ کیا اس ملک کے غریب حکمرانوں کو زیب دیتا ہے، کیا ان بڑے محلوں میں چین کی نیند آ جائے گی۔ کئی برس قبل مکیش نے ایک گانا گایا تھا، جس کے بول یہ تھے
سجن رے جھوٹ مت بولو
خدا کے پاس جانا ہے
نہ ہاتھی ہے نہ گھوڑا ہے
وہاں تو بس پیدل ہی جانا ہے
تمہارے محل چوبارے
یہیں رہ جائیں گے سارے
اکڑ کس بات کی ہے پیارے؟
اکڑ کس بات کی ہے پیارے
اگر طارق بن زیاد سپین میں باہر سے آ کر کشتیاں جلا کر اس ملک کو اپنا ملک بنا سکتا تھا تو آج ہم کیوں نہیں اس مملکت خدادادکو دنیا کا بہترین ملک بنا سکتے؟
اے جذبہ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
منزل کے لئے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں