آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار17؍ ربیع الثانی 1441ھ 15؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

امریکا چین تنازع، ایڈورٹائزنگ سمیت بڑی انڈسٹریوں کو خطرہ درپیش ہے، سرمارٹن سورل

لاہور(نمائندہ جنگ،دی نیوز رپورٹ) اکتیسویں ویں ایڈ ایشیا کانفرنس کا لاہور میں آغاز ہوگیا۔ گزشتہ روز افتتاحی سیشن کے دوران مقررین نے مختلف نشستوں سے خطاب کیا، ایڈورٹائزنگ گروپ ڈبلیو ڈبلیو پی کے بانی سرمارٹن سورل نے کہا کہ امریکہ چین تنازع سے ایڈورٹائزنگ سمیت بڑی انڈسٹریوں کو خطرہ درپیش ہے۔

چیئرمین ایشین فیڈریشن آف ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن ریمنڈ سو نے کہا کہ ایشین فیڈریشن ایڈایشیاکی بھرپور مدد جاری رکھے گی۔ سی این این کے اینکر رچرڈ کوئسٹ نے کہا کہ ٹرمپ نے امریکی معاشرہ دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق تین روزہ ایڈایشیا کانفرنس 2019ء کا گزشتہ روز الحمراء ہال میں آغاز ہوگیاجس میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے ایڈورٹائزنگ اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین حصہ لے رہے ہیں۔

گزشتہ روز افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایڈ ایشیالاہور 2019ء سرمد علی نے کہاکہ صرف خبروں کو سن کر پاکستان بارے درست معلومات نہیں مل سکتی ہیں، میڈیاکا کام صرف منافع کمانا نہیں بلکہ معاشرے کی بہتری کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھی ادا کرنا ہوں گی۔ 

بیرون ملک پاکستان کی نمائندگی بھی درست طور پر کرنی ہوگی، میڈیا انڈسٹری کو مشکل حالات کا سامنا ہے، امید ہے کہ اس سے نکل آئیں گے، ماضی میں کچھ جنونی لوگوں نے ایڈورٹائزنگ انڈسٹری کو موجودہ شکل دی اور اب بھی جنونی لوگ موجود ہیں جو اسےزندہ رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میر خلیل الرحمٰن اورمجید نظامی کی خدمات کے بغیر پاکستان میں میڈیا کا اپنے پائوں پر کھڑا ہونا ناممکن تھا، میر شکیل الرحمٰن نے موجودہ میڈیا انڈسٹری کو جدید شکل دی اور اس کی بقا کے لیے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

آج جو غیر ملکی مندوب یہاں آئے ہیں وہ واپس جاکر پاکستان کا مثبت عکس دنیا بھر پر واضح کریں گے۔ یہ واضح ہوگیا ہے کہ ایشیا ابھر رہا ہے اور طاقت پکڑ رہا ہے۔سر مارٹن سورل نے امریکی ٹی وی چینل سی این این کے اینکر رچرڈ کوئسٹ سے مکالمہ کیا،سر مارٹن سورل دنیا کے سب سے بڑے ایڈورٹائزنگ گروپ ڈبلیو ڈبلیو پی کے بانی اور 33 سال سی ای او رہے اور 2018 میں ایک نئی ایڈورٹائزنگ کمپنی ایس فور کیپٹل (S4 Capital) قائم کی۔ 

سرسورل نے کہا کہ امریکہ چین تنازع سے ایڈورٹائزنگ سمیت بڑی انڈسٹریوں کو خطرہ درپیش ہے اور معاشی بحالی مشکل ہے، امریکہ چین کو آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتا۔

انہوں نے کہا ان کے لیے یہ باعث شرم بات ہے کہ وہ پہلے پاکستان نہیں آئے تاہم اب یہاں آکر بہت خوشی ہوئی ہےاور پاکستان کے بارے سوچ بدل گئی ہے۔سرمارٹن سورل نے کہا کہ کمپنیوں کا بنیادی مسئلہ انتظامیہ اور پالیسی سازوں میں عدم امتیاز ہےجس کی وجہ سے کنٹرول میں عدم توازن پایا جاتا ہے ،ہم ایسے ماڈل پر کام کررہے ہیں جو موجودہ بیشتر ضروریات کو پورا کرنے کے قابل ہو۔

مصنوعی ذہانت موثر ہے لیکن وہ مکمل طور پر انسانی ذہانت کا متبادل نہیں ہوسکتی ۔ ’’کاروبار کے لیے بھوک ‘‘کے عنوان پر گفتگو کرتے ہوئے اینکر سی این این رچرڈ کوئسٹ نے کہا کہ خوش قسمتی صرف بہادر لوگوں کا ساتھ دیتی ہے۔عظیم لیڈران میں ذمہ داری ، سچائی ، احساس اور رواداری بدرجہ اتم موجود ہوتے ہیں۔

خلیج جنگ کے موضوع پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ٹونی بلیئر کو معافی مانگنی چاہیے۔ سیاسی رہنماء رول ماڈل ہوتے ہیں، ان کا کردار، اعمال اور عملیت پسندی پر مبنی گفتگو ہی عوام کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ان سے پیار کریں یا نفرت۔

رچرڈ کوئسٹ نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی بدزبانی نے امریکی معاشرہ کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ چیئرمین ایشین فیڈریشن آف ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن ریمنڈ سو نے کہا کہ انکی زندگی میں ایک کمی تھی جو لاہور آکر پوری ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے پاکستان ان کے لیے ایک پراسرار ملک تھا جس کے بارے میں کہانیاں سنی تھیں لیکن یہاں کی مہمانداری ، شاندار اور مزیدار کھانے بھلانا ناممکن ہے۔

ایشین فیڈریشن اس پلیٹ کی بھرپور مدد جاری رکھے گی۔ 1989ء میں ایڈایشیا پاکستان میں پہلی بار منعقد ہوئی تو جاوید جبار اسکے منتظم تھے، گزشتہ روز سپیشل سپیکر کے طور پر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جاوید جبار نے کہا کہ ایڈورٹائزنگ کسی ملک کی معاشی صورتحال اور ثقافت کی آئینہ دار ہوتی ہے، معیشت گرتی ہے تو ایڈورٹائزنگ کو بھی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

کانفرنس کی ایک نشست میں علی ریاض نے کہاکہ اشتہارات کے ذریعےسماج میں بڑی تبدیلی کا سوچنا وقت کی ضرورت ہے، لوگوں میں عمل کا فقدان ہے اس لئے انہیں عمل پر اکسانے کے لیےصلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنا ہوگا۔

روایتی شتہار بازی سےغیر مساوی معاشرہ جنم لیتا ہے جبکہ غیر روایتی اشتہاربازی کے نتائج برعکس ہوتے ہیں۔ ایک نشست میں اداکارہ عتیقہ اوڈھو سے دلچسپ مکالمہ کرتے ہوئے اداکار فواد خان نے کہا کہ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری ذمہ داری بن گئی ہے۔نیو میڈیا سے آسانیاں پیدا ہوئی ہیں، اب کوئی بھی اداکاربن سکتا ہے تاہم سوشل میڈیا کی وجہ سے انسان دو شخصیتوں میں بٹ کر رہ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیلبرٹی بن کر زندگی کمپرومائز ہوگئی ہے،سکرپٹ کے کردار ایک رائے عامہ کی تشکیل کرتے ہیں، اس لئے کردار سوچ سمجھ کر چنتا ہوں ، ایکٹر اس لئے بنا تھا کہ اس میں بہت پیسہ ملتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ازراہ تفنن فواد خان نے کہا کوئی بھی اشتہار کرنے سے پہلے یہ دیکھتا ہوں کہ پیسہ کتنا ملے گا۔ پراڈکٹ چوائس کا ہوتو ہی کام کرنے پر آمادہ ہوتا ہوں۔ اب بھی لوگ پوچھتے ہیں کہ ایکٹنگ کے علاوہ کام کیا کرتا ہوں۔ 

نوجوان نسل کے لیے یہ پیغام ہے کہ ایکٹنگ پھولوں کی سیج ہرگز نہیں ہے۔پاکستان ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن کے چیئرمین وقار حیدری اور سینئر وائس چیئر مین جواد ہمایوں نے حرف تشکر ادا کیا۔

آخر میں ایڈورٹائزنگ میں بے مثال خدمات کے اعتراف میںخاور مسعود بٹ( انگلش بسکٹ مینوفیکچرز ) کو ایوراڈ سے نوازا گیا ان کی عدم موجودگی میں یہ ایورڈ انکی بیٹی ڈاکٹر زیلف منیر نے وصول کیا۔

ہال آف فیم ایورڈ سابق سینیٹر جاوید جبار، میرٹ ایوارڈ ایم ڈی مارکیٹنگ جنگ گروپ سرمد علی اور سپیشل میرٹ ایوارڈ جوناتھن چن( تائیوان )کو دیا گیا۔ مقامی فوک فنکاروں نے روایتی ثقافتی ملبوسات پہن پر ڈھول اور گھوڑا ڈانس پیش کیا۔ آج ایڈ ایشیا لاہور کا دوسرا روز ہے۔  

اہم خبریں سے مزید