آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر29؍ جمادی الثانی 1441ھ 24؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔ازروئے شریعت اس امرکی وضاحت فرمادیں کہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کے رشتے کرانا فی سبیل اللہ یا معاوضہ لے کر یہ عمل قابل تحسین ہے یا قابل مذمت، علمااس حوالے سے کیا نقطۂ نظر رکھتے ہیں؟ (عروج طلحہ)

جواب:۔ اس طرح کے عمل پر اجرت کے جواز اورعدم جواز کا حکم یہ ہے کہ اگر باقاعدہ معاہدہ ہو اور اجرت متعین ہو اور رشتہ کرانے والا اس سلسلے میں بھاگ دوڑ بھی کرے تو اس کے لیے اجرت کا لینا جائز ہوگا، مگر اسلامی اخلاقیات کا تقاضا یہ ہے کہ اس طرح کے مبارک اورنیک عمل کو بطور پیشہ نہیں ،بلکہ بطورعبادت انجام دینا چاہیے، کیونکہ کسی کامناسب رشتہ کرادینا اس کی اور معاشرے کی ایک بہت بڑی ضرورت کو پورا کر دینا ہے۔ 

رسول اللہ ﷺ کا ارشادِ پاک ہے، جو شخص اپنے بھائی کی کسی حاجت کو پورا کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ہر قدم پر ستّر نیکیاں عطا فرماتا ہے۔اگر کوئی اس پر طےکردہ شرائط کے مطابق اجرت لیتا ہے تو فقہی لحاظ سے اس کے لیے اجرت لیناجائز ہوگا مگر اجرت لینا نیکی کے اجر کو کم کردیتا ہے اور اگر خلوص نیت نہ ہو تو پھر سرے سے ثواب ہی نہیں ملتا ۔( المعجم الاوسط ،3/ 344)

اقراء سے مزید