آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍ صفر المظفّر 1442ھ23؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عالمی اُردو میلہ کا دوسرا روز ”دور عصر حاضر میں نعتیہ اور رثائی ادب“ کا جائزہ

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری بارہویں عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے روز ”دور عصر حاضر میں نعتیہ اور رثائی ادب“ کا جائزہ لیا گیا۔ جس کی صدارت افتخار عارف، ڈاکٹر تحسین فراقی اور ہلال نقوی نے کی۔

عزیز احسن نے ’’جدیداردو نعت، موضوعات اورمسائل“ ، فراست رضوی نے ”پاکستان میں جدید مرثیے کاارتقاء“ اور طاہر سلطانی نے اعجاز رحمانی کی نعتیہ ادب میں خدمات پر روشنی ڈالی۔

یہ بھی پڑھیے: عالمی اُردو میلہ، دوسرے دن کا پہلا اجلاس شعروسخن کے نام

پرگروام کی نظامت کے فرائض عزیز الدین خاکی نے انجام دیئے۔

افتخار عارف، ڈاکٹر تحسین فراقی اور ہلال نقوی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ نعت ایک بہت مشکل صنف شاعری ہے، حقیقت یہ ہے کہ نعت کا معاملہ بھی مرثیہ ہی کی طرح بہت احتیاط کا متقاضی ہے۔

طاہر سلطانی نے اعجاز رحمانی کے نعتیہ ادب میں خدمات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ہمارے کئی نعت خواہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں، جن میں اعجاز رحمانی، خالد محمود، یوسف میمن، ذوالفقار علی، رشید ساقی اور دیگر اس جہاں سے کوچ کر گئے، اللّٰہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔

انہوں نے کہا کہ لفظ نعت عربی زبان سے لیا گیا ہے، نعت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیدت اور محبت کا اظہار ہے۔

یہ بھی پڑھیے: آرٹس کونسل میں بارہویں عالمی اردو کانفرنس کا میلہ سج گیا

طاہر سلطانی نے کہا کہ عربی، فارسی اور اردو میں نعت پڑھنا اور لکھنا اہم ہے۔ نعت لکھنے کے لیے قرآن و حدیث کا مطالعہ ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اعجاز رحمانی 12 فروری 1936 کو علی گڑھ میں پیدا ہوئے اور علیگڑھ میں پرائمری تک تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں پنجاب آئے، انہوں نے 1972 سے 2010 تک نعتیہ مشاعرہ لکھے اور ان کے نعتیہ مشاعرہ کو ٹی وی اور ریڈیو پر پڑھا گیا۔

فراست رضوی نے پاکستان میں جدید مرثیے کا ارتقاء بیان کیا۔ انہوں نے اردو مرثیہ دکن میں پیدا ہوا اور لکھنو میں پروان چڑھا، 19 ویں صدی اردو مرثیہ کا سنہرا دور ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدید اردو مرثیہ کو جو عروج پاکستان میں ملا وہ تاریخ ادب کا حصہ ہے۔ اردو مرثیہ کو آغاز سے ہی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا لیکن مرثیہ خود نکل کر میدان میں آیا۔

یہ بھی پڑھیے: شہناز نور اور کشمیر احمد کیلئے اعتراف کمال ایوارڈز

انہوں نے کہا کہ سب حیران ہیں کہ اردو مرثیہ پاکستان کراچی میں کیسے عروج پا گیا لیکن لکھنو جو مرکز تھا وہاں زوال پزیر ہوگیا ہے۔ اس کی وجہ بھارت میں اردو زبان کا زوال ہے۔

عزیز احسن نے جدید اردو نعت، موضوعات اور مسائل پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ آج غیر مسلم پر اسلامو فوبیا مسلط ہے اور مضحکہ خیز خاکے بنائے جارہے ہیں، یہی سب سے بڑا اسلام فوبیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خیر پھیلانے اور شر مٹانے کا واحد ذریعہ جہاد ہے۔

قومی خبریں سے مزید