آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍ صفر المظفّر 1442ھ23؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اسمارٹ کھلونوں میں سیکیورٹی فقدان، بچوں کی جاسوسی کا خطرہ

اسمارٹ کھلونوں میں سیکیورٹی فقدان، بچوں کی جاسوسی کا خطرہ


بچوں کے کھیلنے کی سب سے پسندیدہ چیز کھلونے ہی ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں ان کھلونوں میں بھی جدت دیکھنے میں آرہی ہے۔

اس وقت انٹرنیٹ سے منسلک ہونے والے پیار سے گلے لگانے والے کڈلی کھلونے ہوں یا پھر بلیو ٹوتھ سے چلنے والی کراؤکے مشینیں ہوں سب ہی اسمارٹ کھلونے آہستہ آہستہ مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔

غیر ملکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق اسمارٹ کھلونوں کی سیکیورٹی میں فقدان دیکھنے میں آیا ہے، جس کی مدد سے ہیکرز آپ کے بچوں کی جاسوسی بھی کر سکتے ہیں۔

برطانیہ میں ایسے کھلونوں کے خریدار اپنی آئندہ آنے والی حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ کھلونے بنانے والی کمپنیوں کو پابند کریں کہ وہ ان اسمارٹ کھلونوں کو فروخت کے لیے پیش کرنے سے قبل ان میں مناسب سیکیورٹی معیار کو یقینی بنائیں۔

اس وقت دنیا کرسمس کے ایونٹ پر انٹرنیٹ کے ذریعے فروخت کے لیے پیش کیے گئے کھلونوں میں ہیکنگ سے متعلق سیکیورٹی میں ناکامی کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

ان کھلونوں میں بچوں کے لیے بنایا گیا واکی ٹاکی بھی ہے جس میں بچوں کی گفتگو کو باآسانی سنا جاسکتا ہے۔

جیسے ہی بچے اپنے کھلونوں کا سوئچ آن کریں گے تو ہیکرز کو بچوں کے کھلوں کے ساتھ اپنی ڈیوائس پیئر کرنے میں صرف 30 سیکنڈ لگیں گے۔

علاوہ ازیں کراؤکے مشینوں (گانا ریکارڈ کروانے کے استعمال ہونے والا سیٹ) میں بلیو ٹوتھ کی کمزور سیکیورٹی کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ہیکرز بلیو ٹوتھ کی مدد سے بچوں کی ان ڈیوائسز کے ساتھ اپنی ڈیوائسز کو پیئر کرنے میں زیادہ وقت درکار نہیں ہوگا اور وہ 10 میٹر کی دوری سے بھی بچوں کی آوازیں ریکارڈ کر لیں گے۔

کنزیومر گروپ نے سیکیورٹی اقدامات کی خواہش کا اظہار کیا ہے جبکہ ڈیوائسز کو پیئر کرنے سے متعلق خفیہ کوڈ کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید