آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل2؍جمادی الثانی 1441ھ 28؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ایک ماہ قبل کی بات ہے کہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) میں ڈاکٹروں اور وکلا کے درمیان گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ بعد میں پتا چلا کہ تین خاکروبوں اور ایک گارڈ نے بعض وکلا کی پٹائی کی ہے چنانچہ انکوائری ہوئی اور تینوں خاکروبوں اور گارڈ کو گرفتار کر لیا گیا۔ پھر بھی ڈاکٹروں نے وکلا سے معذرت کر لی اور معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ پی آئی سی کے ڈاکٹروں نے اپنا کام جاری رکھا اور وکلا بھی حسبِ معمول عدالتوں میں جانے لگے۔ پھر اچانک پتا نہیں کیا ہوا کہ وکلا ایک دم بپھر گئے۔ کہا جاتا ہے کہ کوئی ایسی وڈیو کسی ڈاکٹر کی وائرل ہوئی جس پر وکلا کو غصہ آ گیا۔ حالانکہ یہ ویڈیو صلح سے پہلے کی تھی۔ پی آئی سی کے موجودہ سربراہ پروفیسر ڈاکٹر ثاقب شفیع نے بتایا کہ اس ڈاکٹر نے دو مرتبہ وکلا سے معذرت بھی کی۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ دونوں کا تعلق ایک معزز پیشے سے ہے۔ دونوں انسانی جان کو بچانے کے فرائض ادا کرتے ہیں۔ اگر کوئی بے گناہ کسی کیس میں پھنس جائے تو اس کی زندگی بچانے اور اس کو اس کیس سے آزاد کرانے، تختہ دار سے بچانے میں وکیل بعض اوقات ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے ہیں۔ ڈاکٹر بعض اوقات کسی مریض/ مریضہ کی جان بچانے کے لئے اپنا خون تک دے دیتا ہے۔ ماضی میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں۔ حیرت ہے جب ڈاکٹرز اور وکلا دونوں احتجاج کرنے پر آتے ہیں تو اپنی تعلیم و تربیت اور حلف سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ پی آئی سی یعنی دل کا اسپتال، جہاں 24گھنٹے ہی ایمرجنسی رہتی ہے حتیٰ کہ جو مریض اِن ڈور داخل ہوتے ہیں یا آئوٹ ڈور میں ہوتے ہیں یا جن کی سرجری اور اسٹنٹ تک پڑ چکے ہوتے ہیں، ان کو بھی کسی وقت ایمرجنسی ہو سکتی ہے۔ دل کا معاملہ جسم کی دوسری بیماریوں کے مقابلے میں انتہائی حساس اور نازک ہوتا ہے جہاں پر واقعتاً ایک ایک سیکنڈ مریض کی زندگی اور موت کا ہوتا ہے۔ سوائے حادثات میں زخمی ہونے کے، جسم کی باقی بیماریوں میں وہ ایمرجنسی نہیں ہوتی جو دل کے مریضوں کے معاملے میں ہوتی ہے۔

پی آئی سی میں روزانہ گیارہ سے بارہ سو مریض ایمرجنسی میں اور ڈھائی ہزار سے زائد مریض آئوٹ ڈور میں آتے ہیں۔ آپ سوچیں کہ اگر پی آئی سی کو صرف ایک گھنٹے کے لئے بند کر دیا جائے تو کتنی قیمتی جانوں کا نقصان ہو سکتا ہے اور کتنے مریضوں کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ ابھی جو واقعہ حال ہی میں ہوا جس کی وجہ سے ڈاکٹرز اسپتال چھوڑ کر اپنی جانیں بچانے کے لئے کہیں چھپ گئے یا اسپتال سے باہر بھاگ گئے، اس دوران وہ مریض جن کی سرجری ہوئی تھی، جو ایمرجنسی میں آئے تھے، جن کو فوری علاج اور نگہداشت کی ضرورت تھی وہ کس اذیت میں مبتلا ہوئے ہوں گے۔ تین چار گھنٹے کی اس محاذ آرائی اور توڑ پھوڑ کی وجہ سے ڈاکٹروں کے چلے جانے سے 6مریض ایمرجنسی/ان ڈور میں مر گئے کیونکہ ان کو بروقت ایمرجنسی کور نہیں مل سکا۔ ان چھ مرنے والے مریضوں کا کون ذمہ دار؟ یہ ناحق خون کس کے سر پر؟

تھوڑی دیر کے لئے یہ سوچیں اس ہنگامہ آرائی میں وکیل یا ڈاکٹر جو بھی زخمی ہو گا اس کو علاج/ ایمرجنسی کور کون دے گا؟ وہی ڈاکٹرز جن کو آپ مار پیٹ رہے ہیں، جن کی گاڑیوں گاڑیوں کو ڈنڈوں سے توڑا گیا۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں کسی ملک نے کسی اسپتال پر حملہ نہیں کیا تھا۔ تھوڑی دیر کو سوچیں آج پوری دنیا کے سامنے ہمارا کیا امیج گیا ہو گا؟ وکلا اور ڈاکٹرز دونوں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔

چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ ’’یہ بڑا افسوسناک واقعہ ہے، اب اگر ڈاکٹرز زخمی وکلا کا علاج کرنے سے انکار کریں گے تو یہ وکلا کہاں جائیں گے؟ معاشرے میں اتنی اکھاڑ پچھاڑ نہیں ہونی چاہئے جتنی وکلا نے آج کر دی ہے۔ آنسو گیس کا استعمال، وہ بھی دل کے اسپتال کے اندر انتہائی افسوسناک ہے۔‘‘ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ وکلاء پی آئی سی کی جانب رواں دواں تھے، جس کی ویڈیوز وائرل ہو چکی ہیں، اس وقت انتظامیہ اور پولیس کہاں تھی؟ ویسے بھی جب اتنے سارے لوگ اکٹھے یا جلوس کی صورت میں جا رہے ہوں، تو اس وقت کسی حکومتی ادارے /ایجنسی نے نہیں پوچھا؟ کسی کو وائرلیس نہ کیا؟ کہیں کسی کو فون نہ کیا؟ جب شعلے بھڑک اٹھے تو پھر پولیس کو ہوش آئی۔ آخر اس واقعے کا پس منظر کیا ہے؟ جب ایک ماہ قبل بھی وکلا، ڈاکٹرز اور پی آئی سی کے خاکروبوں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا تو تقریباً ہفتہ تک ڈاکٹرز ہڑتال پر رہے اور وکلاء نے آئی جی آفس کے سامنے دھرنا دیا، تو اس وقت بھی صوبائی حکومت نے کچھ نہ کیا اور اب اس حالیہ واقعہ میں بھی صوبائی وزیر صحت نے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان پر بھی وکلاء نے تشدد کیا۔ آخر یہ سارے واقعات کس سمت جا رہے ہیں اور کس بات کا اشارہ کر رہے ہیں۔ کیا حکومت نے ایسی کوئی پیش بندی کی ہے کہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔ اور اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وکلاء اور ڈاکٹروں کے درمیان جو دوری اور نفرت کی خلیج پیدا ہو چکی ہے،وہ کبھی ختم ہو گی؟ حالانکہ ڈاکٹرز اور وکلاء کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جتنے بھی میڈیکل لیگل کیس ہوتے ہیں وہ ڈاکٹری رپورٹ کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتے اور ڈاکٹروں کو بھی بعض اوقات اپنے کیسوں کیلئے وکیلوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ کیا احتجاج، توڑ پھوڑ، مارپیٹ کسی مسئلے کا حل ہے؟ اور کیا احتجاج بغیر توڑ پھوڑ اور لڑائی جھگڑے کے نہیں ہو سکتا؟

دل کےمریض بڑے حساس ہوتے ہیں، وکلا کے حملے کے دوران ڈاکٹر مریضوں کو سرجری کے درمیان ہی چھوڑ کر چلے گئے۔ دوسرے شہروں سے آنے والے مریض خوار ہوتے رہے۔ آخر کب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا؟