آپ آف لائن ہیں
جمعرات10؍ربیع الثانی 1442ھ26؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کیا دنیا سے ’ای ویسٹ‘ ختم کیا جاسکتا ہے؟

ٹیکنالوجی کی دنیا میں آج جس تیزی سے جدت اور اَپ گریڈیشن ہورہی ہے، وہ پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ اگر الیکٹرانک اپلائنسز، کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس اور موبائل فونز سمیت دیگر گیجٹس اور ڈیوائسز کی بات کی جائے تو ہر آئے دن جدت کی وجہ سے پُرانے ماڈلز غیر مؤثر یا پھر بے کار ہورہے ہیں۔

ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ دراز میں پڑے پُرانے موبائل فون یا چارجر کا کیا کرنا ہے۔ پُرانا لیپ ٹاپ، مانیٹر یا پرنٹر جو اسٹور یا بیسمنٹ میں پڑا سڑ رہا ہے، اس کا اب کیا کرنا ہے۔

جب ہم ان آلات کو چھوڑکر ان کے جدید ورژنز یا ماڈلز کو اپناتے ہیں تو ا س سے الیکٹرانک ویسٹ یا ای ویسٹ (E-Waste)جنم لیتا ہے۔

دورِ جدید کی ڈیوائسز جیسے اسمارٹ فونز، یہاں تک کہ سادہ سی الارم والی گھڑی میں بھی سیسہ، کیڈمیم اور پارہ جیسے مضرِ صحت کیمیکلز موجود ہوتے ہیں۔ جب انھیں استعمال کرکے پھینک دیا جاتا ہے تو ان کا زہریلا مادہ ماحول میں شامل ہوجاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق استعمال کے بعد پھینکے جانے والے کچرے میں، حجم کے اعتبار سے تو ای ویسٹ کا حصہ محض 2فی صد ہے، تاہم ماحولیات اور انسانی صحت کو نقصان پہنچانے والے کچرے میں ای ویسٹ کا حصہ پریشان کن حد تک 70فی صد ہے۔

جدید دنیا کی معیشتیں جس تیزی اور جن چیزوں کے سہارے ترقی کررہی ہیں، خود یہی چیزیں دنیا کے لیے بڑے مسائل پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ الیکٹرانک ویسٹ یا ای۔ویسٹ (E-Waste)ان میں سے ایک ہے۔

اکثر لوگوں کو ای۔ویسٹ کے بارے میں پتہ ہے کیونکہ ہم بسااوقات ان ڈیوائسز اور آلات کے بارے میں سوچتے بھی ہیں، جو ایک وقت کے بعد ہمارے استعمال میں نہیںرہتیں لیکن ہم انھیں ذمہ دارانہ انداز میں ٹھکانے لگانے کا منصوبہ یا ارادہ نہیں رکھتے۔

اعدادوشمار کیا کہتے ہیں

2016ء میں صرف امریکا میں ہرشخص نے اوسطاً 44پونڈ ای ویسٹ پھینکا۔ اقوامِ متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق امریکا میں سالانہ 63لاکھ ٹن ای ویسٹ پیدا ہوتا ہے، جو دنیا کے مجموعی ای ویسٹ کا 14فی صد بنتا ہے۔ 2016ء کے دوران دنیا بھر میں 45ملین ٹن (ساڑھے چار کروڑ ٹن) ای ویسٹ پیدا کیا گیا۔ اس میں سالانہ 4فی صد کی شرح سے اضافہ بھی ہورہا ہے۔ ای ویسٹ کے اتنے بڑے حجم میں سے صرف 20فی صد کسی نہ کسی شکل میں ری سائیکل ہوتا ہے۔ بقیہ 80فی صد کھلے ماحول میں پھینکے جانے والے کچرے کا حصہ بنتا ہے، جو ماحولیات کے لیے زیادہ نقصان دہ ہے۔

ری سائیکلنگ

امریکا اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں میں ای ویسٹ کو ری سائیکل کیا جاتا ہے، تاکہ ماحولیات پر اس کے اثرات کو کم سے کم کیا جاسکے۔ تاہم امریکا میں ری سائیکلنگ مجموعی ای ویسٹ کے 25فی صد سے زیادہ نہیں ہوتی اور یہ بات بھی بہت کم بتائی جاتی ہے کہ دراصل اس 25فی صد میں سے بھی ایک بڑا حصہ بیرونِ ملک بھیج دیا جاتا ہے۔ 

ترقی پذیر اور غریب ملکوں کو بھیجے جانے والے اس ای ویسٹ میں سے کچھ کو دوبارہ استعمال کے قابل بنادیا جاتا ہے، جیسا کہ پاکستان میں درآمد کردہ پُرانے کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس، موبائل فونز اور دیگر گیجٹس کی ایک بڑی مارکیٹ موجود ہے۔ 

صرف یہی نہیں، ایسا ای ویسٹ جو دوبارہ استعمال کے قابل نہیں ہوتا، اس میں سے معدنیات کو نکالا جاتا ہے۔ مثلاً سرکٹ بورڈز میں سے سونے کے ذرات کو علیحدہ کرنے کے لیے اس کی نائٹرک اور ہائیڈروکلورک ایسڈز سے دھلائی کی جاتی ہے۔ یہ پانی ندی نالیوں اور سمندروں میں جاتا ہے اور اسے زہریلا بنادیتا ہے۔ ان تمام مرحلوں سے گزرنے کے بعد ایسا ای ویسٹ جو بالکل کچرہ ہوتا ہے، اسے کھُلے میدانوں میں پھینک دیا جاتا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں ای ویسٹ کی ذمہ دارانہ ری سائیکلنگ کی شرح محض 15.5فی صد ہے۔

مستقبل کا لائحہ عمل

بلاشبہ، اس مسئلے کا حل ری سائیکلنگ کی کوششوں کو دُگنا کرنے میں پوشیدہ نہیں ہے بلکہ اس کے لیے مزید اقدامات بھی کرنے کی ضرورت ہے۔ اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں اس حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ہرچندکہ ماضی کے مقابلے میں آج ای ویسٹ کی ری سائیکلنگ پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے، تاہم جس تیزی سے نئے آلات خریدے او راستعمال کیے جارہے ہیں، اس رفتار سے پُرانے استعمال شدہ آلات کو ری سائیکل کرنا ممکن نہیں ہے۔

ای ویسٹ کا مسئلہ اس وقت اور بھی زیادہ پیچیدہ شکل اختیار کرجاتا ہے، جب اس میں نئی ڈیوائسز کے مختصر ’لائف سائیکل ‘ کو بھی پیشِ نظر رکھا جائے۔ آج کمپنیاں خطرناک رفتار سے اپنے پراڈکٹس کے نت نئے ماڈلز پیش کررہی ہیں، جنھیں خریدنے کے لیے صارفین بے چین نظر آتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آج ایک نئے موبائل فون کو اوسطاً زیادہ سے زیادہ 2سال استعمال کیا جاتا ہے، جس کے بعد اسے بدل دیا جاتا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ الیکٹرانک ڈیوائسز کی منٹیننس، ریفربشمنٹ اور ان کا ایک سے دوسری شکل میں استعمال کا دورانیہ بڑھا کر ماحولیات پر ای ویسٹ کے تباہ کن اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔ ساتھ ہی کمپنیوں کو طویل لائف سائیکل والی ڈیوائسز بنانی چاہئیں تاکہ ان کے اوسط استعمال کے دورانیے میں خاطر خواہ اضافہ اور ای ویسٹ میں کمی لائی جاسکے۔ دنیا کو ای ویسٹ کے نقصانات سے محفوظ رکھنے کا یہی عملی اور دیرپا طریقہ ہے۔