آپ آف لائن ہیں
اتوار4؍شعبان المعظم 1441ھ 29؍مارچ 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سعودی عرب میں کھیلوں کے فروغ کے لیے اقدامات

سعودی عرب میں آئندہ برس پہلی بار خواتین گولف ٹورنامنٹ منعقد کیاجائے گا۔ ٹورنامنٹ کا آغاز 19مارچ 2020کو ہوگا،جو 22 مارچ تک جاری رہے گا۔ گولف ٹورنامنٹ کا انعقاد کنگ عبداللہ اکنامک سٹی جدہ کے رائل گرین کلب کے گراؤنڈ میں ہو گا۔ سعودی گالف کے اشتراک سے یہ ٹورنامنٹ منعقد کیاجائے گا۔مقامی میڈیا کے مطابق چیمپئن شب ٹرافی کے لیے 108 خواتین کھلاڑی ٹورنامنٹ میں شرکت کریں گی۔ 

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ کو 55 ممالک میں براہ راست دکھانے کا اہتمام کیا جائے گا۔ٹورنامنٹ کے انعقاد کے لیے تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں جبکہ کھلاڑیوں کی فہرست بھی حاصل کی جارہی ہے۔ ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے کی خواہشمند مقامی کھلاڑیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ خود کو رجسٹر کروالیں۔خواتین گالف ٹورنامنٹ انتظامیہ نے توقع ظاہر کی ہے کہ دنیا بھر میں 340 ملین افراد مقابلے کو براہ راست دیکھ سکیں گے۔ ٹورنامنٹ کی ٹیلی کاسٹ کے انتظامات کے لیے متعلقہ اداروں اور کمپنیوں سے رابطے کیے جارہے ہیں۔

یادرہے کہ سعودی عرب میں اس سے قبل اس قسم کی سرگرمیوں پر پابندی تھیں۔ یہاں کامقبول اور قومی کھیل فٹبال ہے جبکہ رواں سال تفریحی کمیٹی کے زیر اہتمام مختلف کھیلوں کے عالمی مقابلے منعقد کیے گئے، جن میں ریسلنگ، باکسنگ، کار ریلی وغیرہ شامل ہیں۔ دوسری جانب 2020ء تفریحی کمیٹی کی جانب سے عالمی اسنوکر کے مقابلوں کا بھی اعلان کیا جا چکا ہے، جو آئندہ سال منعقد ہوں گے۔ 

اسنوکر کے عالمی مقابلے میں دنیا بھر سے کھلاڑی شرکت کریں گے۔تفریحی کمیٹی اس حوالے سے آنے والے عالمی کھلاڑیوں کے لیے تمام انتظامات مکمل کرنے کی ذمے دار ہوتی ہے۔ اس ضمن میں تفریحی کمیٹی کے ذرائع کا کہنا تھا کہ آئندہ برسوں میں کھیلوں کے میدان میں بڑی تبدیلیاں سامنے آئیں گی۔ مملکت کی تاریخ میں آئندہ برس پہلی بار اسنوکر کے عالمی مقابلے منعقد ہوں گے ۔ مقابلوں کے لیے سعودی اسپورٹس اتھارٹی اور ورلڈا سنوکرز کے مابین معاہدہ ہو گیا ہے۔معاہدے کے مطابق آئندہ برس عالمی اسنوکر چیمپئن شپ کے مقابلے 4 اکتوبر سے شروع ہوں گے جو 20 اکتوبر تک جاری رہیں گے۔ 

معاہدے میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر جیتنے والوں کو 2.5 ملین پونڈ دیے جائیں گے۔ ورلڈ چیمپئن کا ٹائٹل حاصل کرنے والے کے لیے 5 لاکھ پونڈ کا انعام رکھا گیا ہے۔ا سنوکر کے عالمی مقابلے میں 126 کھلاڑی شرکت کریں گے، جن میں چار سعودی بھی شامل ہیں۔ جنرل اسپورٹس اتھارٹی کے سربراہ شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی الفیصل آل سعود کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے ’اسنوکر مقابلوں کی میزبانی سے سعودی اسپورٹس اتھارٹی کے تحت باقاعدہ ایک اور کھیل کا اضافہ ہو گا۔ 

قبل ازیں کار ریسنگ اور باکسنگ جیسے عالمی مقابلوں کا کامیاب انعقاد کیا جاچکا ہے، ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ اسنوکر چیمپن شپ کو بھی شامل کیا جارہا ہے ،جو آئندہ برس 2020 میں ہوگا۔‘. دوسری جانب ورلڈ اسنوکرز کے نگران باری ہیرن کا کہنا ہے کہ 'ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ اسنوکر کا کھیل مشرق وسطیٰ میں بھی رواج پائے گا اور اسے باقاعدہ طور پر اسپورٹس اتھارٹی کی سرپرستی حاصل ہو گی۔‘ہیرن نے مزید کہا کہ سعودی عرب میں اسپورٹس کے شائقین کی بڑی تعداد موجود ہے‘۔ 

بلادی سے مزید
کھیل سے مزید