آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ15؍ ربیع الثانی 1441ھ 13؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
پاکستان میں انتخابی سرگرمیوں کا کسی نہ کسی طرح آغاز ہوچکا ہے جبکہ پاکستان میں کاروبار کرنے والے اور بیرونی سرمایہ کاروں نے ابھی سے سوچنا شروع کردیا ہے کہ عام انتخابات کے بعد کا نقشہ کیا ہوگا اور کیا کوئی ا یسی حکومت اقتدار میں آجائے گی جو معاشی شعبہ کے حالات کی بہتری اور اس حوالے سے عوام کے سماجی اور معاشی مسائل کے حل کی اہلیت اور صلاحیت رکھتی ہوگی۔ فی الحال اس کا جواب نفی میں ملتا ہے، اول یہ کہ زیادہ تر امکان یہی ہے کہ نئی پارلیمنٹ جب بھی بنے وہ2013ءہو یا 2014ءکی آخری سہ ماہی وہ ہنگ پارلیمنٹ ہی ہوگی جس میں امریکی اور مختلف ملکی اداروں کے اپنے مفادات کے بریف کی روشنی میں تین سے زیادہ قومی اور علاقائی پارٹیاں ہونگی جب کہ آزاد امیدوار اس کے علاوہ ہوں گے۔ اس سے سیاسی سودے بازی کی مارکیٹ میں تیزی آئے گی اور اس سے کئی مسائل ختم ہونے کی بجائے ان میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ دوسرا امکان یہ بھی ہے کہ پیپلز پارٹی اور اس کے اتحادی نہ سہی اگر مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادی بھی اقتدار میں آجاتے ہیں یاا نہیں عالمی ضروریات کے پس منظر میں”پاور“ دیدی جاتی ہے تو ان کے پہلے دو تین سال تو سابق حکمرانوں کے خلاف بیان بازی اور مختلف الزامات ہی کی نذر ہوجائینگے گو کہ ان میں 80-70فیصد باتیں ٹھیک ہونگی مگر وہ لوگ بہتر میڈیا مارکیٹنگ کے

ذریعے معاملات چلانے کو زیادہ ترجیح دیں گے جبکہ موجودہ حکمرانوں نے ا یسا نہیں سوچا یا انہیں سوچنے نہیں دیا گیا تاہم کوئی بھی وجہ ہو، موجودہ حکومت کی اقتصادی شعبہ میں بیلف شیٹ عوامی نقطہ نظر سے کوئی اچھی نہیں ہے۔ ان کے دور کے کچھ کام اچھے تھے جس میں اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کی خود مختاری میں اضافہ، این ایف سی کے تحت صوبوں کے وسائل میں ریکارڈ اضافہ سمیت کئی اچھے کام بھی ہیں مگر حکومت نے اپنا زیادہ وقت عدلیہ اور میڈیا سے بنا رکھنے کی بجائے بگاڑنے پر صرف کیا جس سے معاشی شعبہ کی ترقی تو نہ ہوسکی البتہ معاشی تنزلی میں اضافہ ہوا ۔ یہ سب چیزیں بری اکنامک گورننس اور مس مینجمنٹ کے زمرے میں آتی ہیں، مثلاً انرجی سیکٹر کا بحران بے قابو جن کی طرح بڑھتا رہا اس عرصہ میں پانچ سالوں میں ڈیڑھ ارب ڈالر سے ز یادہ کی سبسڈی کی بجائے اگر نئے ہائیڈل ڈیمز پر یہ رقم خرچ کر دی جاتی تو اس سے کالا باغ ڈیم نہ سہی بھاشا ڈیم ہی بن سکتا تھا مگر افسوس کہ حکومت ہو یا اپوزیشن نجانے کیوں اپنے اپنے ووٹ بینک کو بچانے کے لئے کالاباغ بنانے پر اتفاق نہ کرسکے اور اب ایسے لگتا ہے کہ نہ تو نگران حکمران ایسا کرسکیں گے اور نہ ہی منتخب پارلیمنٹ ایسا کرسکے گی بلکہ نئی پارلیمنٹ یا حکومت سے عوام کو کوئی زیادہ توقع بھی نہیں رکھنی چاہئے۔ انہیں انہی حالات کو بہتر بنانے کے لئے سب کچھ خود ہی کرنا ہوگا اس کے لئے انہیں اپنی اپنی سطح پر ریاست کے نظام کو چلانے اور قانون کی حکمرانی کو ماننے کی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔ انہیں خود ہی بچت اور خود انحصاری کی طرف آنا ہوگا جیسے قومی وسائل کا ضیاع موجودہ حکمرانوں نے نئے جہازوں اور گاڑیوں کی خریداری یا ملکی و غیر ملکی دوروں پر کیا ہے۔ یہ سلسلہ ہمارے نئے حکمران بھی جاری رکھیں گے اس لئے کہ حکومتیں بدلنے سے ریاست کا نظام نہیں بدلا کرتا۔ ملک میں جو بھی ہو بیوروکریسی اور پالیسی میکرز تو وہی رہیں گے بلکہ تقریر نویس بھی وہی رہیں گے البتہ ان کے ریٹ مزید بڑھ جائیں گے اور وہ ملک کی خراب معاشی صورتحال کو بڑی خوبصورتی سے سابق حکمرانوں کے کھاتے میں ڈال کرعوام کو نئے نئے خواب دکھائیں گے اور ہوسکتا ہے کہ امید کی ایسی کرن دکھادیں جس سے ان کا عرصہ اقتدار بھی پانچ سال پورا ہوجائے مگر ہمارے خیال میں اب جو بھی آئیگا یا تو مقررہ وقت سے دو سال تاخیر سے آئیگا اور یا پھر دو یا تین سال میں واپس گھر چلا جائیگا۔اس لئے کہ ملک کے معاشی حالات کی ابتری کو درست کرنا ان کے بس میں نہیں ہوگا۔ ہاں اگر وہ نیک نیتی سے کچھ کرنا چاہیں اور صرف اپنے اثاثے ہی وطن میں لاکر انویسٹ کردیں تو صورتحال بدلنے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔ بین الاقوامی جریدے ا کانومسٹ کے ایک حالیہ شمارے میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 60-50ٹیکس چوری،ڈرگ منی، سمگلنگ اور کالے دھن کے اہم مراکز ہیں جہاں دنیا کے مختلف ممالک اور افراد کے21کھرب ڈالر سے بھی ز ائد پڑے ہوئے ہیں جو بین الاقوامی سرمایہ کاری کا30 فیصد ہے۔ ان میں اگر بھارت کی ا یلیٹ کلاس کے 1.4کھرب ڈالر سوئس بینکوں میں پڑے ہیں تو کئی سو ارب روپے ہمارے پاکستانیوں کے بھی ہیں۔ اس سلسلہ میں پیرس سکول آف اکنامکس کی ایک پرورٹ کے مطابق سو سے زائد ترقی پذیر ممالک کے9.3کھرب ڈالر کسی نہ کسی شکل میں منجمد ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس میں پاکستان ہو یا بھارت ان کی ایلیٹ کلاس کے پیسے نہ ہوں۔ کیا اس میں سے پاکستان کے حصے کے ڈالرز اگر موجودہ نہ سہی آئندہ حکمران ہی لے آئیں تو اس سے پاکستان کو کئی سال تک آئی ایم ایف یا عالمی بنک سے کچھ نہیں لینا پڑیگا اور نہ ہی امریکی دباﺅ پر اپنا سانس بند کرکے سب کچھ ماننا پڑیگا ۔ اس کے لئے دعا کرنی چاہئے کہ انتخابات بروقت ہوجائیں اور ان میں پاکستان کا دردکھنے اور پاکستان میں اپنا سب کچھ رکھنے والے آگے آجائیں یہ کام پاکستان کے عوام کرسکتے ہیں اور انہیں ہی اب یہ کام کرنا ہوگا۔