آپ آف لائن ہیں
جمعرات13؍ صفر المظفّر 1442ھ یکم اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

برطانوی حکومت نے نکولاسٹرجن کا آزادی کے دوسرے ریفرنڈم کا مطالبہ مسترد کردیا

گلاسکو (طاہر انعام شیخ) برطانوی حکومت نے سکاٹ لینڈ کی حکومت کی سربراہ نکولاسٹرجن کی طرف سے آزادی کے دوسرے ریفرنڈم کا مطالبہ مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ ایک نئے ریفرنڈم کی صورت میں سکاٹ لینڈ میں وہ سیاسی جمو د بدستور رہے گا جو پچھلی دہائی سے جاری ہے ۔سکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر اور سکاٹش نیشنل پارٹی کی سربراہ 2014کے ریفرنڈم سے قبل یہ کہہ چکی ہیں کہ یہ ایک پوری نسل کے لئے ہے۔نکولا سٹرجن کا پروگرام ہے کہ وہ 2020کے آخر میں سکاٹ لینڈ کی آزادی کا ایک نیا ریفرنڈم کرائیں۔ ا ن کا کہنا تھا کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے بعد صورتحال بالکل تبدیل ہو چکی ہے کیونکہ سکاٹ لینڈ بدستور یورپی یونین کا ممبر رہنا چاہتا ہے اور اس کے لئے وہ دوبارہ اپنی رائے کا اظہار کر چکا ہے۔ اس مقصد کیلئے نکولاسٹرجن نے برطانوی حکومت سے درخواست کی تھی کہ وہ سکاٹش پارلیمینٹ کو نئے ریفرنڈم کے لئے پاور منتقل کرے۔ وزیراعظم بورس جانسن نے نکولاسٹرجن کے نام خط میں جواب دیا ہے کہ میں نے آپ کے دلائل بڑے غور سے دیکھے ہیں

لیکن میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ آپ اور آپ سے پہلے سکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر نے ایک ذاتی وعدہ کیا تھا کہ 2014 کا ریفرنڈم ایک پوری نسل کے لئے ہو گا۔ سکاٹ لینڈ کے عوام نے بڑی واضح اکثریت کے ساتھ اس ریفرنڈم میں برطانیہ کے ساتھ رہنے کیلئے ووٹ دیا تھا۔ان نتائج کے برطانوی حکومت اور سکاٹش حکومت دونوں پابند ہیں ۔ چنانچہ میں کسی ایسی درخواست کو قبول نہیں کرسکتا جس کے تحت ہم ایک نئے ریفرنڈم کے لئے اختیارات سکاٹش پارلیمینٹ کو منتقل کریں۔ نکولا سٹرجن نے اس کے جواب میں ٹویٹ کی ہے کہ کنزرویٹو جمہوریت کا انکار کر رہے ہیں اور سکاٹش حکومت اسی ماہ اس کا مناسب جواب دے گی۔

یورپ سے سے مزید