آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سائنسی خبرنامہ ’مادام میری کیوری‘

عمران ہاشمی

پیارے بچو! مادام کیوری کے بارے میں تو آپ نے اپنی نصابی کتاب میں پڑھا ہوگا ،وہ فرانسیسی طبیعیات دان اور کیمیا دان تھیں۔ جنہوں نے ریڈیم اور پولونیم کی دریافتیں کی تھیں۔ وہ تابکاری (radioactivity) کے شعبے کی بانی تھیں ان کا پورا نام ماریا سکلوڈوسکاتھا۔وہ پانچ بہن بھائی تھے۔ان کے والدین تدریس کے شعبے سے منسلک تھے۔ان کےوالد فزکس اور ریاضی کے استاد تھے اور ایک ہائی اسکول میں پڑھاتے تھے، جبکہ والدہ ایک پرائیویٹ اسکول چلاتی تھیں۔ ماریا نے ہائیا سکول پاس کیا تو اپنی بڑی بہن اور بھائی کی طرح طلائی تمغہ حاصل کیا۔ 

جب اُس نے اپنی بہن کے ساتھ پیرس جاکر طب پڑھنے کی خواہش ظاہر کی توان کے والد نے بتایا کہ وہ صرف ایک بیٹی کو پڑھانے کے اخراجات برداشت کرسکتے ہیں، چنانچہ ماریا اپنی بہن برونیا کے حق میں دستبردار ہوگئی۔ جب برونیا نے اپنی تعلیم مکمل کرلی تو ماریا کو پیرس بلوالیا اس طرح چھ سال کے انتظار کے بعد ماریا نے پیرس میں طب کی تعلیم حاصل کرنا شروع کردی۔ اُس نے اپنی بہن پر بوجھ بننے کی بجائے ایک کمرہ کرایہ پر حاصل کیا اور چار سال تک بھوک اور غربت میں گزارا کرلیا۔ برونیا کے اصرارکے باوجود بھی ماری نے کسی قسم کی مدد قبول کرنے سے انکار کردیا۔ وہ خود بھی پڑھتیں اور بچوں کو بھی پڑھاتی تھیں۔

1893ء میں ماری نے طب کی بجائے فزکس میں اپنی تعلیم مکمل کی اور امتحان میں اوّل رہی۔ اگلے ہی سال وہ ایم۔اے ریاضی میں دوم رہی۔ 1895ء میں اُس نے مسٹر پیٹر کیوری سے شادی کرلی جو خود بھی ایک سائنسدان تھے اور مختلف دریافتیں کرچکے تھے۔ 1897ء میں ان کی بیٹی Irene پیدا ہوئی، جس نے بعد میں نوبل انعام حاصل کیا۔

مادام کیوری نے اپنے خاوند کے ساتھ مل کر یورینیم کے کئی خواص معلوم کئے اور پھر چار سال کی غیرمعمولی جسمانی محنت کے نتیجے میں وہ دو نئے عناصر پلاٹونیم اور ریڈیم دریافت کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ اس کارنامے پر 1903ء میں ماری اور پیٹر کیوری اور ایک اَور سائنسدان کو جو پہلے یورینیم پر کام کرچکا تھا، نوبل انعام سے نوازا گیا۔ 

لیکن دونوں میاں بیوی اتنے بیمار تھے کہ اپنا انعام وصول کرنے خود نہیں جاسکے۔ پھر اُن کو کئی اعزازات ملے لیکن اُن کے مالی حالات تبدیل نہ ہوسکے۔ مادام کیوری کا رہن سہن بہت سادہ تھا۔ ریڈیم کی قیمت ڈیڑھ لاکھ ڈالر فی گرام تھی لیکن مادام کیوری نے اس سے پیسہ نہیں کمایا۔ بعض لوگوں نے انہیں اپنی تحقیق کو رجسٹرڈ کروانے کا مشورہ بھی دیا لیکن انہوں نے جواب دیا کہ’’ ریڈیم مہربانی اور کرم کا ہتھیار ہے اور یہ دنیا کی ملکیت ہے‘‘۔

19؍اپریل 1906ء کو پیٹر کیوری سڑک کے ایک حادثے میں چل بسے۔ ماری کے لئے یہ اتنا بڑا سانحہ تھا کہ وہ کئی سال کے لئے گوشہ نشین ہوگئی۔ 1911ء میں ماری نے ایٹم کے نیوکلیئس کی تشریح کی اور اُسی سال اُنہیں خالص ریڈیم کو الگ کرنے اور اُس کے ایٹمی وزن کو معلوم کرنے پر کیمسٹری میں بھی نوبل انعام دیا گیا۔ 

وہ پہلی خاتون تھیں، جس کو فرانس میں اعلیٰ تعلیم کی تدریس کا کام دیا گیا۔ 1912ء میں فرانسیسی حکومت نے ’’کیوری انسٹیٹیوٹ آف ریڈیم‘‘ کے نام سے ایک تحقیقاتی مرکز قائم کیا اور ماری کو اُس کا صدر مقرر کیا۔ 1921ء میں امریکہ کے صدر نے ماری کو ایک گرام ریڈیم بطور تحفہ پیش کیا جو کیوری انسٹیٹیوٹ کو دیدیا گیا۔ 1929ء میں اُنہیں پھر ایک گرام ریڈیم کا تحفہ ملا جو انہوں نے وارسا میں نوقائم شدہ کیوری انسٹیٹیوٹ کو دیدیا۔

1934ء میں ماری خون کے خلیات کی ایک ایسی لاعلاج بیماری میں مبتلا ہوگئی جو بہت زیادہ تابکاری اثرات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ چنانچہ 1934ء میں ہی اُن کا انتقال ہوگیا۔ آئن سٹائن نے مادام کیوری کو یوں خراج عقیدت پیش کیا: ’’ماری کیوری کی قوت، اس کی قوت ارادی، اس کی اپنے معاملہ میں درویشی، اس کی غیرجانبداری، اس کی لازوال منصف مزاجی … یہ تمام چیزیں ایسی ہیں جو شاذونادر ہی کسی ایک فرد میں اکٹھی ہوتی ہیں۔ اس کا عجز و انکسار حد سے بڑھا ہوا تھا۔‘‘