آپ آف لائن ہیں
اتوار9؍صفر المظفّر 1442ھ 27؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

او آئی سی کی عدم فعالیت ... ذمے دار کون ؟

او آئی سی کی عدم فعالیت ... ذمے دار کون.....؟
کوالالمپور میں منعقدہ سربراہ کانفرنس میں شریک اسلامی ممالک کے رہنمائوں کا گروپ

گزشتہ برس دسمبر میں ملائیشیا کے دارالحکومت، کوالالمپور میں منعقدہ اسلامی ممالک کی سربراہ کانفرنس کا ایجنڈا عالمِ اسلام کو درپیش مسائل پر غور اوراُن کا حل تجویز کرنا تھا۔ نیز، اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے پر بھی زور دیا گیا او ر اس مقصد کے لیے سی این این اور بی بی سی طرز کے ایک بین الاقوامی انگریزی ٹی وی چینل کو ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر پیش کرنے کی تجویز دی گئی ۔ تاہم، کانفرنس کے اعلامیے میں امریکا کی جانب سے عاید اقتصادی پابندیوں کے مقابلے پر سب سے زیادہ توجّہ مرکوز کی گئی۔ 

یاد رہے کہ مذکورہ کانفرنس میں ملائیشین وزیرِ اعظم، مہاتیر محمد، تُرک صدر، رجب طیّب اردوان اور اُن کے ایرانی ہم منصب، حسن روحانی پیش پیش رہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک این جی او کے تحت منعقدہ کانفرنس میں اقتصادی پابندیوں جیسے بین الاقوامی مسئلے کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے اور کیا صرف یہی اسلامی ممالک کا بنیادی مسئلہ ہے۔ دوسری جانب کانفرنس پر سعودی عرب کے تحفّظات کا ذکر کرتے ہوئے مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد، شاہ سلمان کا ماننا ہے کہ عالمِ اسلام کے مسائل پر غور اور اُن کا حل تلاش کرنے کے لیے او آئی سی ہی بہترین فورم ہے۔ اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ او آئی سی اب تک اُمّتِ مسلمہ کو یک جا کرنے اور اس کے درد کا درماں بننے میں ناکام رہی ہے، لیکن کیا عالمِ اسلام کے پاس اس کا متبادل فورم موجود ہے۔

مزید تفصیل میں جانے سے پہلے ہم او آئی سی کے اغراض و مقاصد اور اس قسم کے دوسرے پلیٹ فارمز کی کارکردگی پر نظر ڈالتے ہیں۔ او آئی سی یا آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن ستمبر 1969ء میں قائم کی گئی۔ یہ اقوامِ متّحدہ کے بعد سب سے بڑا بین الاقومی فورم ہے، جس کے 53ارکان ہیں۔ او آئی سی کے قیام کا مقصد عالمِ اسلام کے مفادات کا تحفّظ اور بین الاقوامی امن و ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ تاہم، گزشتہ برس ستمبر میں اس کی گولڈن جوبلی منانے میں کسی بھی رُکن مُلک نے دل چسپی نہیں لی اور نہ ہی اس موقعے پر مسلمان رہنمائوں نے ایک چھت تلے بیٹھنا گوارا کیا، حالاں کہ اس وقت اُمّتِ مسلمہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ پھر ہماری ایک بد قسمتی یہ بھی ہے کہ ہم ہمہ وقت اسلامی دُنیا کے زوال کا رونا تو روتے رہتے ہیں، لیکن اس کے تدارک کے لیے عملی اقدامات پر آمادہ نہیں اور جب بھی کوئی نیا سیاسی نظریہ منظرِعام پر آتا ہے، اس کے زیرِ اثر آکر تقسیم ہو جاتے ہیں۔ آج فرقہ واریت کے سبب اسلامی ممالک میں خوں ریزی جاری ہے، لیکن مسلمان رہنما اس کا ذمّے دار عالمی سازشوں کو قرار دے کر اپنے عوام کو بہلا رہے ہیں۔

بہرکیف، او آئی سی کے قیام کے ذریعے خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے سے اسلامی دُنیا میں پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ تاہم، اس اَمر پر غور نہیں کیا گیا کہ خلافت کے خاتمے میں مغربی طاقتوں کے علاوہ عربوں اور تُرکی کے رہنما، کمال مصطفیٰ اتا ترک کا بھی کردار تھا۔ اس تنظیم کا ہیڈ کوارٹر جدّہ میں ہے اور وہیں اس کا پہلا باقاعدہ اجلاس منعقد ہوا۔ او آئی سی کے اغراض و مقاصد میں اسلامی، سماجی، ثقافتی اور اقتصادی اقدار کا فروغ، رُکن ممالک کے درمیان اتحاد و یک جہتی، سماجی، ثقافتی، سائنسی اور سیاسی تعاون میں اضافہ، بین الاقوامی امن و سلامتی کا قیام اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی ترویج و ترقّی شامل ہیں۔ 

یاد رہے کہ مقاصد میں دفاعی امور شامل نہیں اور سائنس اور ٹیکنالوجی اور سماجی و ثقافتی ہم آہنگی پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم، یہ مقاصد بھی حاصل نہیں ہو سکے۔ دوسری جانب جب سعودی عرب نے اسلامی ممالک کی مشترکہ فوج کے قیام کا فیصلہ کیا، تو کئی اسلامی ممالک نے اسے عالمِ اسلام کے درمیان تقسیم سے تعبیر کیا، نیز پاکستان میں بھی مختلف طبقات نے اس پر تحفّظات کا اظہار کیا، جسے عالمِ اسلام کی دو عملی کہا جا سکتا ہے۔ البتہ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس کا بنیادی سبب رُکن ممالک میں سماجی، سیاسی اور ثقافتی ہم آہنگی کا فقدان ہے۔ یاد رہے کہ اسلامی دُنیا مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک پھیلی ہوئی ہے اور ہر خطّے کی ثقافت دوسرے سے جُدا ہے، لہٰذا یہ کیسے ممکن ہے کہ اس فرق کو سمجھے بغیر ہی تمام اسلامی ممالک کو وسیع تر تعاون پر آمادہ کیا جائے۔

اگر دیگر کثیر الملکی فورمز پر غور کیا جائے، تو شاید او آئی سی کے رُکن ممالک کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ممکن ہو جائے۔ البتہ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ او آئی سی کسی خلافت کا نعم البدل نہیں اور اس کا بنیادی مقصد اسلامی ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔ سو، اگر اس کوشش میں طاقت کا عُنصر شامل کر دیا گیا، تو اس کے نتائج ایران، عرب تنازعے کی شکل ہی میں نکلیں گے اور اس تنظیم کے وجود کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ واضح رہے کہ او آئی سی کے غیر مؤثر ہونے کا ایک سبب بعض رُکن ممالک کی اپنے انقلابی نظریات کی ترویج اور انہیں مسلّط کرنے کی خواہش بھی ہے۔ 

دوسری جانب اقوامِ متّحدہ کی جنرل اسمبلی میں تمام 193رُکن ممالک کے ووٹ کی طاقت مساوی ہے۔ گرچہ یہ پلیٹ فارم بھی توقّعات پر پورا نہیں اُتر پایا، لیکن اس نے عالمی امن اور ترقّی میں ممکن حد تک اپنا کردار ادا کیا۔ اسی طرح 29رُکن ممالک پر مشتمل یورپی یونین مختلف یورپی ممالک کے درمیان تعاون کی بہترین مثال ہے، جو تعلیم، سماجی ترقّی اور اقتصادی مضبوطی کی وجہ سے ممکن ہوا۔ گرچہ اسے بھی ’’بریگزٹ‘‘ جیسے غیر متوقّع دھچکے لگتے رہے، لیکن اس کی اہمیت مسلّم ہے۔ مختلف ممالک کے درمیان تعاون کی ایک اور مثال ’’آسیان‘‘ ہے۔ یہ تنظیم اقتصادی و دفاعی دونوں معاملات میں کردار ادا کرتی ہے۔ امریکا نے جب مشرقِ وسطیٰ سے جنوب مشرقی ایشیا کی طرف منتقل ہونے کا فیصلہ کیا، تو اسی تنظیم کو مضبوط بنانے پر توجّہ دی۔ 

’’آسیان‘‘ میں جاپان جیسی طاقت وَر معیشت مرکزی کردار کی حامل ہے، جب کہ نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، کینیڈا اور انڈونیشیا اس کے اہم ارکان ہیں۔ دوسری جانب چین نے بھی دو ایسے ہی بین الاقوامی فورمز تشکیل دیے ہیں۔ مثال کے طور پر اہمیت کی حامل ’’شنگھائی تعاون تنظیم‘‘ میں چین کے علاوہ رُوس، بھارت اور پاکستان سمیت خطّے کے دیگر ممالک شامل ہیں اور رواں برس اس کا اجلاس نئی دہلی میں منعقد ہو گا، جب کہ ’’برکس‘‘ میں چین اور بھارت اپنے تمام تر اختلافات کے باوجود خوش حالی کی خاطر ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں۔ عالمِ اسلام کو او آئی سی کو فعال بنانے کے لیے ان پلیٹ فارمز سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔

او آئی سی میں سب سے زیادہ زور اس تنظیم کے اسلامی تشخّص پر دیا جاتا ہے اور بالخصوص پاکستان کے عوام اسے اسلامی اتحاد یا خلافت کے نعم البدل کی صورت میں دیکھتے ہیں۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ انہیں او آئی سی سمیت اس قسم کے دیگر پلیٹ فارمز کے اصل مقاصد سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً، یہ تصوّر کر لیا گیا ہے کہ کسی اسلامی مُلک کے حالتِ جنگ میں ہونے کی صورت میں او آئی سی کا یہ فرض ہے کہ وہ فوراً اسلامی ممالک پر مشتمل اپنی افواج وہاں بھیج دے۔ 

واضح رہے کہ او آئی سی کے ایجنڈے میں یہ نکتہ شامل نہیں۔ البتہ یہ تنظیم زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی فریم ورک میں رہتے ہوئے متاثرہ مُلک کے حق میں کوئی قرار داد منظور کر سکتی ہے۔ تاہم، شام اور یمن میں جاری خانہ جنگی کو حسّاس معاملہ سمجھتے ہوئے زیرِ بحث نہیں لایا جاتا۔ اگر ہم ماضی پر نظر دوڑائیں تو پتا چلتا ہے کہ بیرونی یورش کی صورت میں بھی طاقت وَر مسلمان حُکم رانوں نے ایک دوسرے سے کبھی فوجی اتحاد نہیں کیا ، بلکہ ایک دوسرے کے خلاف دشمن کا ساتھ دیتے رہے۔ 

مثال کے طور پر مغلیہ سلطنت اور خلافتِ عثمانیہ کے درمیان کبھی کوئی فوجی اتحاد نہیں دیکھا گیا اور دونوں برطانیہ عظمیٰ اور یورپ کے ہاتھوں تباہ ہوئیں۔ لہٰذا، ہمیں جذباتی نعروں کی بجائے تلخ تاریخی و زمینی حقائق پر نظر رکھنی چاہیے اور مسلمان دانش وَروں کو عالمِ اسلام کو یہ باور کروانا چاہیے کہ کسی بھی اتحاد کے لیے سیاسی و اقتصادی تعاون اہم ہوتا ہے۔ امریکا نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی اور یہ دونوں اب ایک دوسرے کے سب سے قریبی اتحادی ہیں۔ نیز، جب برطانوی باشندوں کے لیے یورپی ناقابلِ قبول ہو گئے، تو انہوں نے پُرامن طریقے سے بریگزٹ کر لیا، تو کیا اسلامی ممالک ان طریقوں پر عمل پیرا ہو کر ایک دوسرے سے اتحاد و یک جہتی کا مظاہرہ نہیں کر سکتے۔

غالباً یہ تمام امکانات اور خدشات او آئی سی کے بانیان کے پیشِ نظر تھے، لہٰذا تنظیم کے اغراض و مقاصد میں ثقافتی و اقتصادی روابط اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو اوّلیت دی گئی۔ اس ضمن میں ہمیں اقوامِ متّحدہ کے چارٹر سے واضح رہنمائی ملتی ہے۔ یاد رہے کہ ہم مسلمان کسی دوسرے سیّارے پر نہیں رہتے ۔ ہمیں دوسرے مذاہب اور نظریات کے ساتھ رہتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔ اس سلسلے میں کمیونسٹ چین اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مابین دیرینہ دوستی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ 

نیز، جب تک خود اسلامی ممالک سماجی، ثقافتی، علمی اور اقتصادی شعبوں میں ایک دوسرے سے وسیع تر تعاون نہیں کرتے، تب تک اُمّتِ مسلمہ دُنیا میں کوئی اعلیٰ مقام حاصل نہیں کر سکتی، جب کہ موجودہ صورتِ حال میں تو سیاسی یا فوجی اتحاد کا تصوّر بھی نا ممکن ہے۔ گرچہ یہ سوچ قابلِ صد احترام ہے، لیکن اسے حقیقت کا رُوپ دینے کے لیے ایک طویل اور کٹھن سفر طے کرنا ہو گا۔ لہٰذا، اسلامی ممالک بالخصوص پاکستانی عوام کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ او آئی سی مذکورہ بالا شعبوں میں تعاون کے ذریعے ہی عالمِ اسلام کو متّحد کر سکتی ہے۔

او آئی سی کے غیر مؤثر ہونے کا ایک سبب اپنے مقاصد کے حصول کے لیے متعلقہ اداروں کی عدم تشکیل بھی ہے۔ مثال کے طور پر اس پلیٹ فارم کے تحت ایسے مضبوط و مستحکم علمی و تحقیقی ادارے قائم نہیں کیے گئے کہ جہاں مسلمان اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے اسکالرز کے درمیان علوم و فنون کا تبادلہ ہو اور مشترکہ ثقافت کو زیرِ بحث لایا جائے۔ یاد رہے کہ خلافتِ عثمانیہ کے زوال کا اصل سبب سائنس اور ٹیکنالوجی کو غدّاری کے مترادف سمجھنا تھا اور آج بھی اسلامی ممالک میں تعلیم ثانوی حیثیت اختیار کر چُکی ہے۔ 

یہی وجہ ہے کہ اسلامی دُنیا کے بیش تر سربراہان، اہلِ دانش اور ماہرین غیر مُلکی جامعات سے فارغ التّحصیل ہوتے ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اسلامی ممالک کے رہنمائوں کو تعلیم و تحقیق کی اہمیت کا احساس نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی ممالک اگر ترقّی کرتے بھی ہیں، تو وہ دیرپا نہیں ہوتی۔ تعلیمی و تحقیقی اداروں کے فقدان کے سبب اسلامی دُنیا میں عوامی رائے اور فرد کی اہمیت بھی اُجاگر نہیں ہو سکی۔ نیز، سماجی علوم کے پست معیار نے معاشرے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا، جنہیں انسانی شعور بلند کرنے کی بجائے ڈگریوں کے کاروبار میں تبدیل کر دیا گیا۔ نتیجتاً، عالمِ اسلام میں جمہوریت نہیں پنپ سکی۔ 

آزادی حاصل کرنے کے بعد اسلامی ممالک میں سپہ سالاروں کو نجات دہندہ کا مقام دیا گیا، جنہوں نے دہائیوں تک بِلا شرکتِ غیرے حُکم رانی کی۔ اس سلسلے میں مصر کے کرنل جمال عبدالنّاصر ،شام کے حافظ الاسد، لیبیا کے معمّر قذافی، عراق کے صدّام حسین، انڈونیشیا کے سوہارتو، الجزائر کے بومدین اور سوڈان کے عُمر البشیرسمیت پاکستان میں مختلف ادوار میں حُکم رانی کرنے والے آمروں کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ان حُکم رانوں نے سیاست دانوں کو بے توقیر کیا، جس کی وجہ سے اسلامی ممالک میں فوجی تنازعات، خانہ جنگیاں اور بغاوتیں عام ہو گئیں اور پھر انہیں بیرونی سازشوں کا لبادہ پہنا کر عوام کو جھوٹی تسلیاں دی جاتی رہیں، جب کہ دیگر ممالک میں بادشاہتیں قائم ہیں۔ 

آمریت کی وجہ سے اسلامی ممالک کے عوام کو نہ تعلیم کے مواقع ملے، نہ جمہوری حقوق اور نہ ہی بہتر معیارِ زندگی، جب کہ اس کے برعکس اُن میں یہ احساس اُجاگر کیا گیا کہ مطلق العنانیت ہی عالمِ اسلام کی بقا اور طاقت کی ضامن ہے اور اس مقصد کے لیے اسلامی تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا رہا۔ یاد رہے کہ اس وقت جن دو چار اسلامی ممالک کو ترقّی کا رول ماڈل قرار دیا جاتا ہے، انہیں اس مقام تک جمہوریت نے پہنچایا۔ آج اسلامی ممالک کے حُکم ران اور دانش وَر یورپ کی کام یابی کی داستانیں تو سُناتے ہیں، لیکن خود ان پہ عمل پیرا ہونے پر آمادہ نہیں اور نہ ان میں اتنی صلاحیت ہے کہ یہ تنازعات حل کر کے اپنے عوام کو خوش حال بنا سکیں، تو ایسے میں او آئی سی سے کیا توقّع کی جا سکتی ہے، جو محض بیرونی سازشوں کے خلاف غیر مؤثر احتجاج کا فورم بن کر رہ گیا ہے۔ 

کوالالمپور کانفرنس میں اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے کے لیے انگریزی چینل کے قیام کا اعلان ایک مستحسن فیصلہ ہے، لیکن اسلامی ممالک میں تعلیم، معیارِ زندگی اور آزادیٔ اظہار پر کون توجّہ دے گا۔ کیا یہ صرف اقوامِ متّحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی ذمّے داری ہے۔ ہم کبھی سوویت یونین کو تو کبھی امریکا اور یورپ کو اپنی تباہی کا سبب قرار دیتے ہیں، لیکن خود اپنا محاسبہ نہیں کرتے۔ یہ نہایت خطرناک روِش ہے اور اگر اس سے نجات حاصل نہ کی گئی، تو اسلامی ممالک ہمیشہ زوال کا شکار رہیں گے۔

واضح رہے کہ موجودہ اسلامی ممالک آزاد ہونے سے قبل مختلف سلطنتوں کا حصّہ تھے۔ گرچہ مغربی دُنیا میں بھی بادشاہتیں قائم تھیں، لیکن وہاں پندرہویں صدی کے بعد حالات نے کروٹ بدلی۔ نتیجتاً، سوچ و فکر نے نئے زاویے تلاش کیے، امریکا جیسی نئی دُنیائیں دریافت ہوئیں اور تعلیم بالخصوص سائنسی ایجادات نے پُرانے تصوّرات کی جگہ لی۔ تاہم، بد قسمتی سے اسلامی سلطنتیں سائنسی ترقّی سے فائدہ نہ اُٹھا سکیں، کیوں کہ ان کے حُکم راں اسے کُفر اور لادینیت قرار دیتے تھے اورخلافتِ عثمانیہ سے لے کر مغلیہ سلطنت تک میں یہ’’ گناہ‘‘ کسی سے سر زد نہ ہوا۔ 

نو آبادیات میں شامل ہونے کے بعد پہلی مرتبہ مسلمانوں کا رابطہ ترقّی یافتہ دُنیا سے ہوا۔ اس عرصے میں مسلم علاقوں میں سڑکیں، ریلوے نظام اور پُلوں کی تعمیر جیسے ترقیاتی کام تو ہوئے، لیکن ان کے نئے آقائوں نے تعلیمی نظام کو اپنی سلطنتوں کی مضبوطی کے لیے استعمال کیا۔ تاہم، اس کے باوجود یہاں تعلیمی ادارے قائم ہوئے اور مقامی باشندے حصولِ علم کے لیے بیرونِ مُلک گئے۔ مثال کے طور پر قائد اعظم محمد علی جناح نے برطانیہ سے قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور علاّمہ محمد اقبال نے جرمنی سے ڈاکٹریٹ کیا۔ 

ان دونوں شخصیات کی جانب سے برِصغیر کے مسلمانوں میں پیدا کی گئی انقلابی سوچ کی آج پوری اسلامی دُنیا معترف ہے۔ چُوں کہ ان نو آبادیات کے قیام میں افواج نے کردار ادا کیا تھا، لہٰذا یہ دَور ختم ہونے کے بعد اسلامی ممالک میں پہلے انقلابات اور پھر آمریت نے جگہ لے لی۔ نتیجتاً، آزادیٔ اظہار و افکار کا تصوّر اسلامی ممالک میں راسخ نہ ہو سکا۔ یہی وجہ ہے کہ آج چند ایک اسلامی ممالک کے علاوہ باقی تمام ریاستوں میں حُکم ران عوام کو درحقیقت اپنی رعایا سمجھتے ہیں۔

جب بھی اسلامی ممالک کی صورتِ حال کا ذکر کیا جاتا ہے، تو ان کی غُربت اور تعلیمی پس ماندگی پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ تاہم، ان کی سب سے بڑی کم زوری کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ آج عالمِ اسلام پائے دار اقتصادی ترقّی کے حصول سے قاصر ہے اور اس کا سبب سیاسی نظام میں شخصیت پرستی اور تسلسل کا فقدان ہے۔ اسلامی ممالک کوئی ایسا نظامِ حُکم رانی تشکیل دینے میں کام یاب نہ ہو سکے کہ جس میں عوام کو بالادستی حاصل ہو۔2015ء کے اوائل تک، جب تیل کی قیمتیں بلندی پر تھیں، عرب دُنیا کے پیٹرو ڈالرز کو عالمِ اسلام کے متموّل ہونے کا ثبوت ظاہر کر کے خوشیاں منائی جاتیں۔ 

تب اسلامی ممالک شاید یہ نہیں جانتے تھے کہ 1974ء کی عرب، اسرائیل جنگ کے بعد جب سعودی عرب نے تیل کی برآمد پر پابندی عاید کی، تو ترقّی یافتہ ممالک نے اُسی وقت ہی متبادل ذرایع کی تلاش شروع کردی تھی۔ اس سلسلے میں جنگی بنیادوں پر اقدامات کیے گئے، لیکن اسلامی ممالک کو اس بات کا ذرا بھی ادراک نہ ہو سکا، کیوں کہ یہ اندرونی اُکھاڑ پچھاڑ میں مصروف تھے۔ ترقّی یافتہ ممالک نے سورج کی روشنی، ہوا، کوئلے اور پانی سمیت دیگر ذرایع سے توانائی کا حصول شروع کیا اور پھر امریکا میں شیل آئل کی دریافت نے بازی ہی پلٹ کر رکھ دی۔ امریکا کی اس پیش رفت کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آنا شروع ہوئی، جو 114ڈالرز فی بیرل سے 28ڈالرز فی بیرل تک جا پہنچی، لیکن عالمِ اسلام نے پھر بھی ہوش کے ناخن نہ لیے۔ البتہ اپنے دیگر ذرایع سے ترقّی کرنے والے جمہوری اسلامی ممالک، تُرکی اور ملائیشیا اقتصادی رول ماڈل بن گئے۔ 

تاہم، کچھ عرصے بعد یہ ممالک بھی اقتدار کی کشمکش میں پھنس گئے اور اب اردوان اور مہاتیر کی جانب سے قائم کی گئی جمہوری روایات خود ان ہی کے ہاتھوں انجام کو پہنچ رہی ہیں۔ یاد رہے کہ غیر معمولی اور دیرپا اقتصادی ترقّی کے لیے داخلی امن اور بیرونی تنازعات سے گریز لازم ہے، جب کہ اسلامی ممالک ان دونوں مسائل سے دو چار ہونے کی وجہ سے تنزّلی کی جانب گام زن ہیں۔ اسلامی ممالک کی اس کم زوری نے دُنیا میں ان کی ساکھ تقریباً ختم کر کے رکھ دی ہے، لیکن بد قسمتی سے ان کی قیادت کو اس بات کا احساس تک نہیں۔ یہ حُکم راں قرضوں پر گزارہ کرنے کو اپنی فتح سمجھتے ہیں اور عوام کو صبر اور حوصلے کی تلقین کرتے ہیں۔

اقتصادی کم زوری نے اسلامی ممالک میں انتظامی نظم و نسق کو اس قدر لاغر کر دیا کہ وہاں ملیشیاز نے سَر اٹھانا شروع کر دیا۔ ان جنگ جُو تنظیموں نے مذہب کا نام استعمال کرتے ہوئے تشدّد اور انتہا پسندی کو اپنا وتیرہ بنایا۔ ان ملیشیاز کو کبھی مطلق العنان حُکم رانوں نے اپنے حق میں استعمال کیا، تو کبھی ان کے خلاف جنگ کی۔ نیز، جنگ جُوئوں کو بیرونِ مُلک موجود اپنے مفادات کے حصول کے لیے بھی بروئے کار لایا۔ 

تاہم، پھر یہی ملیشیاز بوتل کے جن کی طرح قابو سے باہر ہو گئیں، تو انہوں نے اپنے مُلک ہی میں تباہی و بربادی پھیلانا شروع کر دی اور تمام تر ریاستی طاقت ان کے خلاف استعمال ہونے لگی اور اس موقعے پر عوام خوش حالی کی بجائے امن ہی کو ایک بڑا کارنامہ سمجھنے لگے۔ ان جنگ جُو تنظیموں کی وجہ سے مسلمانوں کی رہی سہی ساکھ بھی تباہ ہو گئی اور ان پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں ہو گیا۔ بعد ازاں، دُنیا بَھر میں اسلامو فوبیا نے زور پکڑا اور اب اسلامی ممالک اس کے تدارک کے لیے اپنی ساری توانائیاں صَرف کر رہے ہیں، جنہیں ترقّی، خوش حالی اور معیارِ زندگی بہتر کرنے کے لیے استعمال میں لانا چاہیے تھا۔

اسلامی ممالک کے حُکم رانوں کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ خود کو قیادت کے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں، جب کہ ترقّی یافتہ ممالک کا جائزہ لیا جائے، تو پتا چلتا ہے کہ معاشی استحکام، تعلیم، پالیسی میں تسلسل،امن، مفاہمت اور عوام میں اقتصادی ترقّی کا شعور اور اپنا معیارِ زندگی بلند کرنے کی خواہش جیسے عوامل کے بغیر کوئی مُلک ترقی نہیں کر سکتا۔ شام، یمن، فلسطین، مقبوضہ کشمیر اور افغانستان کے حوالے سے اصولی مؤقف اختیار کرنا اور مظلوم مسلمانوں کی حمایت کرنا ہمارا حق ہے، لیکن ان کے داخلی مسائل کون حل کرے گا۔ یاد رہے کہ شامی صدر ہی شام کی خانہ جنگی کے ذمّے دار ہیں اور یمن کے معاملے میں دو اسلامی ممالک فریق ہیں۔ 

یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ افغانستان میں طالبان اپنے مسلمان بھائیوں کو کیوں ہلاک کر رہے ہیں، تُرکی میں کُرد بغاوت پر کیوں آمادہ ہیں، عراق میں احتجاج ختم ہونے کا نام کیوں نہیں لے رہا اور لیبیا میں خانہ جنگی کیسے پھیلی۔ اس تمام تر صورتِ حال کے ذمّے دار دہائیوں تک مسلّط رہنے والے وہ غیر منتخب حُکم ران ہیں، جنہوں نے نہ صرف اپنے مُلک کا دیوالیہ نکالا، بلکہ اپنے عوام کی قائدانہ صلاحیتوں کا بھی گلا گھونٹا۔ نیز، کرپشن کی نِت نئی مثالیں قائم کیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ جب ہمارے سیاسی رہنما اپوزیشن میں ہوتے ہیں، تو امریکا اور یورپ کو اپنا دشمن قرار دیتے ہیں، لیکن جب برسرِ اقتدار آتے ہیں، تو انہی ممالک کے رہنمائوں سے گُفت و شنید کو فخر اور اپنی سفارت کاری کی فتح سمجھتے ہیں، جب کہ شعور سے عاری عوام اُن کی ہاں میں ہاں ملاتے رہتے ہیں۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آج دُنیا کے مختلف خطّوں میں مسلمان اقلیتیں ظلم و ستم کا شکار ہیں، لیکن اسے روکنے کے لیے اسلامی ممالک کو خود کو اقتصادی طور پر مستحکم کرنے کے ساتھ ہی سیاسی بالغ النّظری کا بھی مظاہرہ کرنا ہو گا۔ ہمیں اپنے داخلی و خارجی تنازعات کو اپنی معیشت کی ترقّی کی راہ میں رُکاوٹ بننے سے روکنا ہو گا۔ اس سلسلے میں چین، بھارت، جاپان، امریکا اور یورپ کی مثال ہمارے سامنے ہیں۔ مذکورہ ممالک کے ایک دوسرے سے مختلف تنازعات ہیں، لیکن انہوں نے کبھی انہیں اپنی کم زوری نہیں بننے دیا۔ یاد رہے کہ جب ہم میں کم زوریاں موجود ہوں گی، تو ہر کوئی ہمارا استحصال کرے گا، لیکن جب ہم جم کر کھڑے ہوں گے، تو کوئی ہمیں ٹیڑھی آنکھ سے بھی نہیں دیکھ سکتا۔ 

جاپان، جرمنی اور چین مفاہمت، اقتصادی یکسوئی اور ٹیکنالوجی کی ترقّی کے سبب عالمی طاقت بنے اور ہمیں ان کی تقلید کرنا ہو گی۔ اس سے زیادہ شرم ناک بات اور کیا ہو گی کہ ہم اپنے مظلوم شامی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی جرأت تک نہیں کر پاتے۔ شامی حکومت نے ایک اسلامی مُلک کی مدد سے اپنے 5لاکھ شہریوں کو قتل کر ڈالا اور ان کے حق میں آواز اُٹھائی تو اُن اغیار نے کہ جنہیں اسلامی دُنیا کا دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ اسی طرح شام، افغانستان اور لیبیا سے کروڑوں مہاجرین مغربی کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں، جب کہ اسلامی ممالک خاموشی سے تماشا دیکھنے میں مصروف ہیں۔ 

اس پس منظر میں او آئی سے کس قسم کے کردار کی توقّع کی جا سکتی ہے، کیوں کہ اوّل تو اُس کے چارٹر میں سیاسی تنازعات شامل ہی نہیں۔ چناں چہ اگر وہ اسلامی ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کرے گی، تو شاید اُس کا اپنا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔ شام اور یمن کے معاملے میں سعودی عرب، ایران کشمکش کی وجہ سے پورا مشرقِ وسطیٰ ایک الائو کی صورت اختیار کر چُکا ہے۔ فریقین مذاکرات کے لیے رُوس تو جاتے ہیں، لیکن مکّہ میں مل بیٹھ کر بات چیت پر آمادہ نہیں۔ اگر نصف صدی بعد بھی عالمِ اسلام کی سب سے بڑی تنظیم غیر مؤثر ہے، تو اس کا سبب خود اسلامی دُنیا کے حکم ران ہیں، جنہوں نے اپنے عوام کی آواز دبانے کے بعد اسے بھی بے دست و پا کر دیا۔ 

تاریخ بتاتی ہے کہ اسلامی ممالک کبھی متّحد نہیں رہے، لیکن پھر بھی ہم اس فریب میں مبتلا ہیں کہ ایک روز اچانک دُنیا کے ایک ارب چالیس کروڑ مسلمان یک زبان و ہم خیال ہو جائیں گے، لیکن اس بات پر کبھی کسی نے غور نہیں کہ مختلف ثقافتی، نسلی و اقتصادی پس منظر رکھنے والے مسلمانوں کو یک جا کیسے کیا جا سکتا ہے۔ 

اگر ہمیں اُمّتِ مسلمہ کا اتحاد مقصود ہے، تو او آئی سی کے چارٹر کی روشنی میں اسلامی ممالک کے درمیان سماجی، ثقافتی اور اقتصادی روابط کو مستحکم کرنا ہو گا اور اس کے لیے طویل منصوبہ بندی اور ریاضت کی ضرورت ہے۔ صرف یک جہتی کے نعرے یا غیر مسلموں کی کسی مذموم حرکت کے خلاف مشترکہ ردِ عمل یا وقتی اُبال کسی صُورت کارگر ثابت نہیں ہو گا۔ اس وقت مسلمان حکم رانوں کو بہادری اور حوصلے سے زیادہ تدبّرکی ضرورت ہے۔