آپ آف لائن ہیں
جمعہ3؍رجب المرجب 1441ھ 28؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’’گریٹا تھنبرگ کو میرا مشورہ ہے کہ اپنے غصے پر قابو پائے اپنے دوستوں کے ساتھ کوئی اچھی سی پرانے زمانے کی فلم دیکھے اور ’چِل‘ کرے‘‘۔ یہ الفاظ کسی عام آدمی کے نہیں بلکہ دنیا کے طاقتور ترین ملک کے صدر نے سویڈن کی ایک سترہ سالہ لڑکی پر طنز کرتے ہوئے ادا کیے۔ گزشتہ ہفتے ڈیووس (سوئٹرز لینڈ) میں ’’ورلڈ اکنامک فورم‘‘ کے اجلاس میں ماحولیاتی تبدیلی پر بات کرتے ہوئے گریٹا تھنبرگ نے عالمی رہنمائوں پر زور دیا ہے کہ وہ سائنسدانوں کی باتوں پر دھیان دیں اور عالمی سطح پر ہونے والی منفی ماحولیاتی تبدیلیوں میں اضافہ روکنے کے لئے ضروری اقدامات کریں۔ گریٹا اسٹاک ہوم میں گزشتہ آٹھ سال سے ماحولیات کے لئے اسکول سے ہڑتال کے سلوگن تلے دنیا بھر کے نوجوانوں میں ایک نئی تحریک پیدا کر چکی ہے، اس کی اس تحریک کی وجہ سے ہر ہفتے دنیا کے کسی نہ کسی اسکول میں ایک مسئلے پر ہڑتال ہوتی ہے۔ گریٹا کو درجنوں ملکی اور عالمی ایوارڈ مل چکے ہیں، گزشتہ سال اسے نوبیل پیس پرائز کے لئے بھی نامزد کیا گیا جبکہ ٹائم میگزین نے اسے 100بااثر ترین افراد میں شامل کیا۔ وہ 2018سے اقوام متحدہ کی کلائمیٹ چینج کانفرنس میں بھی خطاب کر چکی ہے۔ گریٹا تھنبرگ نے یوں تو کبھی اپنی تقریر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا کسی دوسرے عالمی لیڈر کا نام لے کر ان پر تنقید نہیں کی لیکن ٹرمپ گریٹا کی ہر تقریر کا اشارہ اپنی طرف ہی سمجھتے ہیں۔ گریٹا اور ٹرمپ کے مابین ’ٹویٹر جنگ‘ بھی ہوتی رہتی ہے۔ ٹرمپ نے تو سائنسدانوں کی ماحولیات سے متعلق کی گئی ہر پیشگوئی کو ہوا میں اڑاتے ہوئے انہیں فضولیات قرار دیا اور ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے بھی انہوں نے کہا کہ یہ سب ماہرین ماحولیات ’تباہی کے پیامبر‘ ہیں۔ کئی دہائیوں سے ان کی پیشگوئیاں غلط ثابت ہو رہی ہیں، رہے ماحولیاتی تبدیلیوں کے مسائل تو تخلیقی معاشروں میں ان مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ ڈیووس میں فورم کے اجلاس کے بعد صحافیوں نے جب صدر ٹرمپ سے گریٹا سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ اس لڑکی نے ٹائم میگزین میں بھی مجھ پر بڑی تنقید کی تھی، یہ بڑی خوش مزاج لڑکی لگتی ہے جو اپنے روشن اور زبردست مستقبل کی منتظر ہے لیکن میں مطمئن ہوں، دنیا کو کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے کیونکہ ہمارا (امریکہ کا) پانی اچھا ہے، ہماری ہوا اچھی، ہمارے ملک کی صفائی بہترین اور ہمارا سمندر بحر اوقیانوس بہت اچھا ہے لیکن دوسرے کئی ممالک اس میں کچرا پھینکتے ہیں جو ہماری طرف آتا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ناقدانہ گفتگو سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کا رویہ کس قدر غیر سنجیدہ ہے حالانکہ سائنسدان کئی دہائیوں سے اوزون کی تہہ مٹنے، انٹارکٹیکا کی تیزی سے پگھلتی برف، سمندر کی سطح بڑھنے اور موسموں کی شدت کا ذمہ دار ماحولیاتی آلودگی کو قرار دے رہے ہیں لیکن ٹرمپ ایک ذمہ دار عہدے پر ہونے کے باوجود ایک چھوٹے سے ملک کی چھوٹی سے بچی اور سائنسدانوں کا مذاق اڑا رہے ہیں، یقیناً ان کے اس رویے کو امریکہ سمیت دنیا بھر میں پسند نہیں کیا گیا۔

گریٹا اور ٹرمپ کی نوک جھونک سے قطع نظر، اصل مدعا پاکستان کے اثر انداز ہونے والے حلقوں کے لئے لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے کہ اپنے ملک میں وہ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ کے لئے کیا منصوبہ بندی کر رہے ہیں، مثلاً کیا ہمیں علم ہے کہ پلاسٹک ہماری زندگیوں کے لئے کتنا خطرناک ہے اور یہ ہماری ہوا، مٹی اور پانی کو بھی آلودہ کر رہا ہے؟ کیا پاکستان کی وزارتِ ماحولیات کو پتا ہے کہ ہر انسان یہاں ایک ہفتے کے دوران پانچ گرام پلاسٹک نگل جاتا ہے؟ گزشتہ سال پاکستان میں ہونے والی ایک ریسرچ کے مطابق کراچی کے کلفٹن ساحل پر صرف ایک گرام ریت میں مائیکرو پلاسٹک کے 300ذرات پائے جاتے ہیں اور یہ انسانوں کے ساتھ ساتھ آبی حیات کے لئے بھی خطرہ ہے۔ جب پلاسٹک کے کسی برتن میں کھانے کی چیز مائیکرو ویو میں گرم کی جاتی ہے تو کئی خطرناک کیمیکل کھانے میں شامل ہو کر ہمارے معدے میں چلے جاتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت ’’ڈبلیو ایچ او‘‘ کے مطابق پاکستان، ایران اور منگولیا کا شمار دنیا کے آلودہ ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔ برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں پلاسٹک کا استعمال بڑی تیزی سے ختم ہو رہا ہے، کیا پاکستان کی وزیر ماحولیات کو علم ہے کہ برطانیہ میں فیصلہ ہو چکا ہے کہ آئندہ 12سال تک پورے ملک میں ڈیزل اور پٹرول سے چلنے والی گاڑیاں ختم ہو جائیں گی اور صرف الیکٹرک کاریں چلیں گی؟ حکومت نے وسطی لندن میں پٹرول و ڈیزل کاریں داخل ہونے پر ہی 24پونڈ ٹیکس روزانہ کا لگا رکھا ہے تاکہ کم سے کم گاڑیاں سنٹرل لندن آئیں اور ماحول صاف رہے۔ کئی سال پہلے حکومت کے علم میں لایا گیا کہ سگریٹ پینے سے ہر سال 25ہزار برطانوی شہری موت کے منہ میں جا رہے ہیں، حکومت نے فوری ایکشن لیا اور دکانداروں کو پابند کیا کہ وہ سگریٹ کے پیکٹ ڈسپلے نہیں کر سکتے بلکہ چھپا کر رکھیں گے، سگریٹ کا پیکٹ مہنگا کر دیا گیا اور دس سگریٹ والا پیکٹ ختم کردیا تاکہ لوگ کم سے کم سگریٹ خریدیں۔ عوامی مقامات، بسوں، ٹرینوں، ٹیکسی وغیرہ میں سگریٹ نوشی پر پہلے سے پابندی ہے۔

پاکستان بھر میں جابجا شہری آبادیوں کے درمیان لگے ہوئے بڑے بڑے موبائل ٹاور انسانوں سمیت تمام جانداروں کے لئے نہایت مضر ہیں، کیا حکومت پاکستان کے پاس معلومات ہیں کہ یہ ٹاور کینسر جیسی بیماری کی ایک بڑی وجہ ہیں؟ ان کی وجہ سے اس قدر تابکاری پیدا ہوتی ہے کہ حاملہ خواتین کے حمل ضائع ہو سکتے ہیں یا بچوں میں کینسر پیدا ہونے کا خطرہ ہے؟ ان فون ٹاورز سے آج ہماری صحت کو ہمارے اجداد کی صحت سے 50لاکھ فیصد زیادہ خطرات لاحق ہیں لیکن یہ تو جدید اور ترقی یافتہ ممالک کے مسائل ہیں، اس لئے تقریباً دس سال پہلے پورے برطانیہ میں یہ ٹاور ختم کر دیے گئے اور اب صرف ایک کھمبا نما ٹاور لگایا جاتا ہے جس کا تمام میکنزم اس کھمبے کے اندر ہوتا ہے لیکن پاکستان میں ابھی تک اس کی معلومات تک نہیں ہیں اور یہی صورتحال پاکستان کی زمینی، فضائی اور آبی آلودگی کی ہے، کھانے پینے کی اشیاء اور دوائوں میں ملاوٹ اس کے علاوہ ہے، کاش کوئی گریٹا تھنبرگ پاکستان میں بھی ہو ورنہ تباہی کے پیامبر تو ہمارے ہاں وافر تعداد میں موجود ہیں۔