آپ آف لائن ہیں
اتوار9؍صفر المظفّر 1442ھ 27؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ذیابطیس سے بچاؤ کا قومی پروگرام شروع کیا جائے، ماہرین

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ملکی سطح پر شوگر سے بچاؤ کے لیے قومی پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے،تاک آنے والے چند سالوں میں لاکھوں لوگوں کو اموات اور مستقل معذوری سے بچایا جاسکے۔

ان خیالات کا اظہار پاکستان کے نامور ماہرین ذیابطیس اور انٹرنل میڈیسن ایکسپرٹس نے پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کے تحت اتوار کے روز کراچی چپٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ماہرین صحت کا کہنا تھا کہ ملک میں ذیابطیس سے متاثرہ افراد کی تعداد پانچ کروڑ کے لگ بھگ ہو چکی ہے۔

 ماہرین نے کہا کہ اگر اس صورتحال کا فوری طور پر تدارک نہ کیا گیا تو آنے والے چند سالوں میں اس بیماری سے لاکھوں لوگ ہلاک اور  مستقل معذوری کا شکار ہو جائیں گے، ذیابطیس کے مرض کا سستا اور مفید ترین علاج لوگوں میں آگاہی پھیلانا ہے، پاکستان میں لوگوں کو وزن کم کرنے اور ورزش کرنے کی ترغیب دے کر اس مرض پر بڑی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔

مقامی ہوٹل میں منعقدہ تقریب سے ماہرین صحت پروفیسر صمد شیرا، پروفیسر زمان شیخ، پروفیسر اعجاز وہرہ، لاہور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر اور پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کے صدر پروفیسر جاوید اکرم، پروفیسر عبدالباسط، پروفیسر علی محمد انصاری، پروفیسر بھیکارام، پروفیسر سعید حامد، پروفیسر مشہور عالم، پروفیسر شبین ناز مسعود، پروفیسر خالد مسعود اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

اس موقع پر ماہرین نے کیک کاٹ کر پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کے کراچی چیپٹر کا افتتاح کیا جبکہ پاکستان بھر سے آئے ہوئے ماہرین کو شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔

انٹرنیشنل ڈائبٹیز فیڈریشن کے اعزازی صدر پروفیسر صمد شیرا نے اس موقع پر کہا کہ ذیابطیس کے مرض کا مؤثر ترین اور سستا علاج تعلیم اور عوامی آگاہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ وہ پچاس سال سے زائد عرصے سے پاکستان میں ذیابطیس کے مرض پر قابو پانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں اور اللہ کا شکر ہے کہ اب اس مرض کے نتیجے میں اسپتالوں میں داخلے کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے۔

انہوں نے اس موقعے پر کم کھانے اور زیادہ چلنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کے احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اس مرض پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ معروف ماہر ذیابطیس پروفیسر اعجاز وہرہ کا کہنا تھا کہ یونیورسل ہیلتھ کوریج یا صحت کی آفاقی سہولت ہر پاکستانی کا بنیادی حق ہے۔

حکومت پاکستان کو چاہیے کہ ہر پاکستانی کو صحت کی بنیادی سہولتیں  فراہم کرے، پاکستان میں ذیابطیس کے مرض پر قابو پانے کے لیے عوامی آگاہی کا پروگرام شروع کیا جائے، پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کے صدر اور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر جاوید اکرم کا کہنا تھا کہ اس سوسائٹی کے قیام کا مقصد پاکستان میں مقامی بیماریوں پر قابو پانے کے لئے ریسرچ کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں بیماریوں کے علاج کے لیے غیرملکی ڈیٹا اور اعدادوشمار پر انحصار کرنا پڑتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مقامی بیماریوں کے لیے اپنے اعداد و شمار اور ریسرچ کی ضرورت ہے تاکہ ہم پاکستان میں ہونے والی بیماریوں کا کامیابی سے تدارک سے کرسکیں۔

پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن ذیابطیس چیپٹر کے صدر پروفیسر زمان شیخ کا کہنا تھا کہ شوگر کا مرض ایک خاموش قاتل ہےاور اس مرض میں مبتلا افراد کو پانچ سے دس سال تک کوئی پیچیدگی لاحق نہیں ہوتی۔

ذیابطیس کےمرض میں مبتلا افراد شروع کے مہینوں اور سالوں میں کوئی احتیاط نہیں کرتے جس کی وجہ سے ان کا مرض آگے چل کر ناقابل علاج ہو جاتا ہے، پروفیسر زمان شیخ کا کہنا تھا کہ ان کی سوسائٹی پورے ملک میں عوامی آگاہی کے پروگرام شروع کرے گی جبکہ ڈاکٹروں کی ٹریننگ کے لیے بھی سرٹیفکیٹ کورسز شروع کیے جائیں گے۔

انٹرنیشنل ڈائبٹیز فیڈریشن مینا ریجن کے صدر پروفیسر عبدالباسط نے پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کے ذیابطیس چیپٹر کے قیام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ سوسائٹی پاکستان میں بیماریوں سے بچاؤ اور تدارک میں اہم کردار ادا کرے گی۔

اس موقع پر ماہرین نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ پولیو پروگرام اور حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام کی طرز پر ملک میں ذیابطیس سے بچاؤ اور اس پر قابو پانے کے لیے ملکی سطح کا پروگرام شروع کیا جائے کیونکہ پاکستان کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ کروڑوں لوگوں کو بیماری، معذوری اور اموات سے بچانے پر بے تحاشا وسائل خرچ کرسکے۔

صحت سے مزید