آپ آف لائن ہیں
بدھ21؍ذی الحج1441ھ12؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’’بٹ کر رہے گا ہندوستان، بن کر رہے گا پاکستان‘‘۔ یہ وہ نعرہ تھا، وہ آواز تھی، وہ عزم تھا، وہ تحریک تھی، جس کی قیادت قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک آزاد خود مختار مملکت کے لیے کی تو ہندوستان کے مسلمان ان کی راہ نمائی میں متحد ہوکر آگے بڑھے اور پھر14؍اگست47ء کو پاکستان کی صورت میں ایک آزاد ملک دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ قائد اعظم کی صورت میں برصغیر کے مسلمانوں کو وہ لیڈر عظیم ملا، جس نے ہندوستان کی تقسیم کو یقینی بناکر پوری دنیا کو درطہ حیرت میں مبتلا کردیا۔ پُوری دنیا اس عظیم قائد کی شخصیت اور مدبرانہ سیاست کی قائل ہوئی، کیا مسلمان کیا، غیرمسلم سب ہی نے انہیں تاریخ کی ایک عظیم ہستی قرار دیا اور ان پر بے شمار کتابیں لکھی گئیں۔ 

کہانیاں، ڈرامے، فلموں میں اس عظیم شخصیت کو مرکزی خیال بناکر بنایا گیا۔ پاکستان کی فلمی تاریخ میں متعدد ایسی فلمیں بنائی گئیں، جس میں تحریک پاکستان اور قائد اعظم کی زندگی کو موضوع بنایا گیا۔ ملی نغمات اور قومی شاعری میں شعراء کرام نے اس عظیم شخصیت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ملت کا پاسبان قرار دیا۔ یہ وہ موضوع ہے ،جس پر بے شمار کالمز لکھے جاسکتے ہیں، چند مختصر جملوں میں اس موضوع کو بیان کرنا خاصا ناممکن ہے، اس وقت ہم صرف ان فلموں کا تذکرہ کریں گے، جن میں ہمیں اس عظیم قائد اور پاکستان کی جھلک نظر آتی ہے۔ اس سلسلے کی ابتداء 5؍مئی 1949ء کو ہدایت کار این ای اختر نے شروع کرتے ہوئے ایک فلم ’’پاکستان زندہ باد‘‘ بنانے کا اعلان کیا، جس کے چند نغمات بھی ریکارڈ ہوگئے تھے۔ 

یہ وہ زمانہ تھا، جب فلمی صنعت ابتدائی دور سے گزر رہی تھی۔ نیا نیا وطن آزاد ہوا تھا، تو اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے وطن عزیز کی آزادی کا پس منظر عوام الناس کو بتانے کے لیے کام شروع ہوچکا تھا۔ ’’پاکستان زندہ باد‘‘ مکمل نہ ہوپائی۔ تحریک پاکستان اور قائد اعظم کی سیاسی بصیرت پر تصویری خبرنامے کو اس وقت کے سینما گھروں میں دیکھانا لازمی قرار دیا گیا۔

 جس کا دورانیہ 20سے 25منٹ ہوا کرتا تھا اور یہ سلسلہ ایک طویل عرصے تک جاری رہا، اس وقت مغربی اور مشرقی پاکستان کے تمام سینما ہالز میں اردو اور بنگالی زبانوں میں یہ خبرنامہ دکھایا جاتا تھا۔ فلم بین اپنے عظیم قائد کو دیکھ کر والہانہ انداز میں عقیدت و احترام سے اپنی اپنی سیٹوں سے کھڑے ہوکر تالیوں سے اس خبرنامے کا استقبال کرتے تھے۔ 

اس فلمی خبرنامے میں بیک گرائونڈ میں اس زمانے کے معروف ریڈیو آرٹسٹ اور فلمی اداکار آزاد کی آواز میں کومنٹری ہوا کرتی تھی، جو عوام الناس میں پاکستان حاصل کرنے کی تاریخی جدوجہد سے آگہی کا باعث بنی۔ فلمی صنعت کے ابتدائی دور میں سے فلم ساز اور مصنفین نے اپنی فلموں اور کہانیوں میں اپنے محسن لیڈر قائد اعظم کے فرمودات، زریں اصول اور ان کے کردار کی سچائیوں کو محور بنایا، جو فلم کے ذریعے پیغام بن کر فلم بینوں تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ کراچی میں جب فلمی صنعت کا آغاز 1955ء میں ہوا، تو یہاں بننے والی پہلی فلم ’’ہماری زبان‘‘ کا مرکزی خیال اردو زبان کو بنایا گیا، کہانی میں حب الوطنی کے ساتھ قائد اعظم کی تعلیمات کو موثر انداز میں فلمی رنگ دیا گیا۔

1957ء میں فلم ساز حسن لطیف نے قومی جذبے سے سرشار ہوکر فلم ’’بیداری‘‘ بنائی جس کے ہدایت کار رفیق رضوی تھے۔ اس فلم کے نغمات اور مکالموں میں قائد اعظم کے اقوال اور شخصیت کو سامنے رکھا گیا۔ نغمہ نگار فیاض ہاشمی نے عظیم قائد کو نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہوئے یہ لازوال نغمہ تحریر کیا، جس کے بول یہ ہیں ؎’’یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیراں، اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان‘‘۔ اس فلم کو طویل عرصے تک قومی فلم کی حیثیت حاصل رہی، پاکستان بھر کے پرائمری تعلیمی اداروں میں اسے 14؍اگست اور دیگر قومی ایام میں بچوں کو دکھائی جاتی رہی۔ 

اس فلم کے ایک ملی نغمے ؎’’آئو بچوں سیر کرائیں تم کو پاکستان کی‘‘ میں بچوں کو نہایت موثر انداز میں جہاں پاکستان کے جغرافیہ سے آگاہ کیا گیا تو اسی فلم کے ایک اور گیت میں ایک آزاد ملک کی اہمیت اور ہمارے قومی ہیروز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ایک نغمہ شامل کیا گیا، جس کے بول یوں ہیں؎ ’’ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے اس ملک کو رکھنا میرے بچوں سنبھال کے‘‘۔ اُن ہی دنوں حکومت نے ایک فلم ’’نئی کرن‘‘ کے نام سے بنائی، جس میں چاروں صوبوں کی ثقافت، رہن سہن اور طرز زندگی کی عکاسی قومی یک جہتی کو مدنظر رکھ کر گئی۔ 

یہ فلم اردو، سندھی، پشتو، بلوچی اور پنجابی زبانوں میں بنائی گئی، جس میں اس زمانے کے تمام بڑے آرٹسٹوں نے بلامعاوضہ قومی جذبے کے تحت کام کیا۔ ملکہ ترنم نورجہاں، مسرت نذیر، نیلو، صبیحہ، سبھی نے اس فلم میں اداکاری کی۔ یہ شارٹ مووی کوئی سوا گھنٹے کے دورانیہ کی تھی، جسے سینما ہالز میں مفت دکھائی گئی۔ پاکستان کی تاریخی اور ثقافتی حیثیت سے فلم ’’نئی کرن‘‘ نے فلم بینوں کو بڑی حد تک آگہی دی۔ 1960ء میں ریلیز ہونے والی فلم اور ’’اور بھی غم ہیں‘‘ ایک بہت ہی اعلیٰ بامقصد فلم قرار پائی، جو تعلیم کے موضوع پہ بنائی گئی۔ 

اس فلم کی کہانی دانش دیروی نے تحریر کی۔ اداکار جعفری نے اس فلم میں جمیلہ رزاق کے مقابل ہیرو کا کردار کیا، ہدایت کار اے ایچ صدیقی نے قائد اعظم کی تعلیم کے بارے میں کی گئی باتوں کو اس فلم کی کہانی کا مرکزی خیال بنایا۔ اسی سال انقلابی سوچ کے حامل ہدایت کار خلیل قیصر نے وطن عزیز کے ہزاروں کلرکوں کے مسائل پر پہلی انقلابی فلم ’’کلرک‘‘ بناکر قائد اعظم کے اس خواب کی تعبیر پیش کی ، جس میں انہوں نے اس طبقے کو پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا تھا، اس فلم کے ہیرو خود خلیل قیصر تھے، جب کہ ہیروئن مسرت نذیر تھیں۔ 1961ء میں بننے والی نغمہ نگار فیاض ہاشمی کی ذاتی فلم ’’ہم ایک ہیں‘‘ کے موضوع میں بھی قائد اعظم کے فکری نظرئیے کو مدنظر رکھا گیا۔ اس فلم کے ہدایت کار میں فیاض ہاشمی خود تھے۔ 

یہ پہلی جزوی کلر فلم تھی۔ شہرت یافتہ ہدایت کار ایس ایم یوسف نے 1962ء میں اپنی فلم ’’اولاد‘‘ میں خواتین کا سربلند کرتے ہوئے ایک ایسا گانا شامل کیا، جس کے بول یہ ہیں ؎’’تم قوم کی ماں ہو‘‘ اس نغمے میں قائد اعظم کے اس فرمان کا رنگ جابجا پھیلا ہوا نظر آتا ہے۔انہوں نے خواتین کی تعلیم و تربیت پر زور دیا۔ 1960اور 1980تک فلم ساز کہانی نویس پاکستان کے بانی قائد اعظم اور دیگر رہنمائوں کو کسی نہ کسی طرح اپنی فلموں اور کہانیوں میں خراج عقیدت پیش کرتے رہے۔کمی اس بات کی رہی کہ قائد اعظم اور دیگر اکابرین کی نجی اور سیاسی زندگی کو موثر انداز میں اسکرین پر نہ پیش کیا جا سکا، جب کہ بھارت نے گاندھی اور اپنے دیگر قومی رہنمائوں کی بائیو گرافی کو نہایت موثر انداز میں پیش کرتے ہوئے متعدد فلمیں بنائیں، پاکستان کی فلمی صنعت ایسی مثال سے محروم رہی۔ 

اصل قومی ہیروز کے بجائے بدمعاشوں اور کرمنلز کو فلمی ہیروز پیش کر کے فلمی صنعت کا بیڑا غرق کر دیا گیا۔ چند مفاد پرست فلم ساز، ہدایت کار اور مصنفین نے سلور اسکرین کو خون میں لت پت کرکے اسے زخمی کر دیا اور بالاخر باکس آفس ان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے آج سینما بینی نہایت کم ہو چکی ہے۔ کمرشل ازم کے نام پر باکس آفس کا یہ قتل عام 1980کے بعد شروع ہوا ، جب ہم 60کی دھائی کا ذکر کرتے ہیں، خاص طور پر 65کی جنگ کے بعد پاکستان باکس آفس میں حب الوطنی کا جذبہ پایا گیا۔ وہ نہایت قابل ستائش ہے۔ 

اس دور میں ملنگی ،آزادی یا موت، ہمراہی ،معجزہ، وطن کا سپاہی ،مادر وطن جیسی جرات مندانہ قومی جذبے کی حامل فلمیں بنائی گئیں۔ فلم ہمراہی کے ایک سپر ہٹ گانے میں قائد اعظم اور قومی رہنمائوں کو شاندار خراج تحسین پیش کیا گیا، جس کے بول یہ ہیں، یاد کرتا ہے زمانہ ان انسانوں کو ،روک لیتے تھے جو بڑھتے ہوئے طوفانوں کو، جب کہ 1959میں بننے والی لازوال کلاسیک پنجابی فلم ’’کرتار سنگھ‘‘ بھی اسی سلسلے کا حصہ ہے۔ 1976میں ہدایت کار پرویز ملک نے قائد اعظم کے سنہرے اقوال کو اپنی فلم ’’سچائی‘‘ کی کہانی کا مرکزی خیال بنایا۔ 

یہ اصلاحی اور حب الوطنی، کے موضوع پر بننے والی سب سے کام یاب فلم ثابت ہوئی،جس میں اداکار قوی فن کی بلندیوں پر نظر آئے۔ 1979میں حکومتی ادارے نیف ڈیک نے تحریک پاکستان کے پس منظر میں تاریخی فلم خاک اور خون بنائی، جس کے ہدایت کار مسعود پرویز تھے، جنہوں نے ’’ہیر رانجھا‘‘ جیسی عظیم کلاسیک پنجابی فلم بنائی تھی۔ ’’حیدر علی‘‘ جیسی معیاری اور کام یاب تاریخی فلم میں ان کے کریڈٹ پر ہے۔

1982میں بننے والی اردو فلم ’’سہارے ‘‘ کا موضوع بھی قائد اعظم اور پاکستان تھا۔ یہ فلم ماضی میں بننے والی سپر ہٹ کام یاب فلم بیداری کا ری میک تھی۔ اس فلم کے ایک نغمے میں قائد اعظم کو شان دار خراج عقیدت پیش کیا گیا ،نغمے کے بول یہ ہیں۔ ’’قائد اعظم کا احسان جیتا جاگتا پاکستان‘‘۔ 1978میں اداکار حیدر نے تاریخی فلم ’’غازی علم دین شہید‘‘ بنائی، جس کے ہدایت کار بھی وہ خود تھے۔ 

پہلی بار اس فلم میں قائد اعظم محمد علی جناح کے کردار کو اداکار قومی نے ادا کیا،جب کہ اسی کہانی کو ہدایت کار رشید ڈوگر نے 2002میں دوبارہ غازی علم دین کے نام سے فلمایا ۔ جس میں اداکار معمر رانا نے ٹائٹل رول ادا کیا ،اس بار بننے والی غازی علم دین شہید میں قائد اعظم کا کردار اداکار محمود ارشد نے ادا کیا ۔ محمد علی جناح کی سیاسی اور نجی زندگی پر بننے والی پہلی مکمل فلم پاکستان میں1998فلم میں ’’جناح‘‘ کے نام سے بنی۔ یہ انگریزی اور اردو زبان میں بنی ، جس کے فلم ساز و ہدایت کار جمیل دہلوی تھے۔ یہ بین الاقوامی معیار کی حامل فلم تھی، جس میں قائد اعظم کا کردار ہالی وڈ کے نامور اداکار کرسٹو فرلی نے کیا تھا، جس پر تنقید کی گئی کہ ایک ڈریکولا فلموں سے شہرت پانے والے اداکار کو ’’جناح‘‘ کیوں بنایا گیا۔ اس فلم کو دنیا بھر میں ریلیز ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ 

ٹی وی اور فلم کے معروف اداکار شکیل اور طلعت حسین نے بھی اس فلم میں کردار نگاری کی، جب کہ بھارتی اداکار ششی کپور بھی بطور اداکار اس فلم میں نظر آئے۔ معروف اداکار غلام محی الدین نے اس فلم میں اردو ڈبنگ میں صداکاری کی ۔ فلم ’’جناح‘‘ کے کافی عرصے بعد نئی آنے والی فلم ’’قائد اعظم زندہ باد ‘‘ جسے نبیل قریشی ڈائریکٹ کر رہے ہیں ۔ اس کی متوقع ریلیز عیدالاضحیٰ 2020ہے۔ اس فلم میں فہد مصطفےٰ اور ماہرہ خان کی جوڑی پہلی بار سینما اسکرین پر سامنے آئے گی۔فلم ریلیز کے بعد یہ فیصلہ ہو گا کہ ’’قائد اعظم زند باد‘‘ عوام کو کہاں تک متاثر کرتی ہے۔ 

اس وقت بھارت میں جو حالات مسلمانوں کے لیے خاص طور پر جو رونما ہو رہے ہیں، اس نے ایک بار پھر شاید اس نعرہ کو زندہ کر دیا ہے کہ ’’بٹ کر رہے گا ہندوستان ،بن کر رہے گا ایک اور پاکستان ‘‘۔بھارت کے اصلی چہرے کو دنیا میں بے نقاب کرنے کے لیے فلم سے زیادہ پاور فل کوئی اور میڈیا نہیں ہو سکتا۔ ہمارے فلم میکرز کو اس وقت اس طرح کی فلموں کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے۔ اور وقت کا تقاضا ہے کہ فلم کے ذریعے ہمیں بھارتی عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے پروپیگنڈہ موویز کی میکنگ کرنی ہوگی۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید