آپ آف لائن ہیں
پیر12؍شعبان المعظم 1441ھ 6؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

الرجی صرف جسم پر خارش کا نام نہیں بلکہ دوسری بیماریوں کی طرح انسانی جسم کو لگنے والی عام بیماریوں میں سے ایک ہے جوکہ جینیاتی خرابی کی وجہ سے قوت مدافعت کمزور پڑنے کے سبب ہوتی ہے۔ اسے یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ خارجی مادوں کی طرف سے حملہ کیے جانے کے بعد قوت مدافعت کے ردعمل کا نام الرجی ہے۔

اس کی وجہ بننے والے خارجی مادوں یا پروٹین(بیرونی اشیا) کو الرجین کہا جاتا ہے۔ الرجین کھانے پینے کی اشیا، پالتو جانوروں یا پھرپھولوں میں پائے جاتے ہیں۔ الرجین بچوں اور بوڑھوں سمیت کسی پر بھی حملہ آورہوسکتے ہیںاور رد عمل کے طور پر انسانی جسم میں سوزش، خارش، چھینکوں اور جسم پر دھبے وغیرہ پڑجانا عام ہوتا ہے۔

الرجی کی اقسام

الرجی کی کئی اقسام ہیں جن کی نوعیت موسموں، خطوں اور خارجی مادوں کے لحاظ سے مختلف ہوسکتی ہے۔ الرجی کی چند عام اقسام میں گرمیوں کی الرجی، بہار کی الرجی، پرانی الرجی، پولن الرجی، ڈسٹ الرجی اور فوڈ الرجی وغیرہ شامل ہیں۔

الرجی کی علامات

الرجی کی مختلف اقسام میں انسانی جسم کو مختلف علامات کا سامنا کرنا پڑسکتاہے۔ یہ علامات کئی طرح کے عوامل کا نتیجہ بھی ثابت ہوتی ہیں۔ یہ جاننا اہم ہوتا ہے کہ انسانی جسم کو کس الرجی کا سامنا ہے اور الرجی کی نوعیت کتنی شدید ہے۔ ایک بار پتہ لگ جائے تو پھر معالج کے لیے علاج میں آسانی ہوجاتی ہے۔

فوڈ الرجی

فوڈ الرجی میں کھانے پینے کے ذریعے جسم میں کوئی ایسا پروٹین داخل ہوجاتا ہے جسے جسم قبول نہیں کرتا اور اس کا ردِ عمل ظاہر ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر اکثر لوگوں کو انڈہ کھانے کے بعد الرجی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ بچوں میں پائی جانے والی فوڈ الرجی کی سب سے عام قسم مونگ پھلی سے ہونے والی الرجی ہے۔ 

فوڈ الرجی کی علامات میں سوجن، چیچک، متلی اور تھکاوٹ جیسی علامات شامل ہیں۔ کسی بھی شخص کو یہ سمجھنے میں وقت لگتا ہے کہ یہ رد عمل فوڈ الرجی کی وجہ سے ہے۔ اگر آپ کو بھی کسی غذا کے کھانے کے بعد شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو فوری طور پر معالج سے رابطہ کریں۔ فوڈ الرجی کے لیے اب تک کوئی علاج دریافت نہیں کیا جاسکا، لہٰذا احتیاطی تدبیر کے تحت الرجی کا باعث بنے والی خوراک متاثرہ شخص کو نہ دی جائے ۔

موسمیاتی الرجی

الرجی کی ایک قسم موسمیاتی الرجی ہے، اس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد مختلف موسموں میں بڑھنے لگتی ہے۔

پولن الرجی: پولن الرجی کا سیزن فروری کے آخری ہفتے سے لے کر مئی تک جاری رہتا ہے۔ اس الرجی کا سبب ہوا میں زرد دانوں کی مقدار بنتی ہے،یہ زرد دانے جب حساس لوگوں کے جسم میں داخل ہونا شروع ہوجائیں تو مختلف علامات کا سبب بنتے ہیں۔

برسات کی الرجی: یہ الرجی جولائی سے ستمبر کے دوران حساس جسم رکھنے والے افراد پر حملہ آور ہوتی ہے ،اس الرجی کا سبب موسم میں موجود نمی اور اس میں موجود ذرات ہوتے ہیں۔

موسم گرما کی الرجی: موسم گرما کی الرجی جون اور جولائی کے دوران ہوتی ہے۔ اس الرجی سے متاثرہ افراد سانس کی بیماریوںاور دیگر امراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

موسم سرما کی الرجی: عام طور پر سردی کی الرجی کی علامات میں نزلہ زکام اور بخار جیسی کیفیات شامل ہیں۔ سردی کی الرجی کا سیزن ٹھنڈی اور سرد ہواؤں اور روئی کی کاشت کے بعد شروع ہوتا ہے۔

موسمیاتی الرجی کی مجموعی علامات میں نزلہ بہنا، آنکھوں کا سوج جانا اور خون جم جانا شامل ہیں۔ مرض اگر شدت اختیار کرجائے تو معالج سے رجوع کرنا ضروری ہوجاتا ہے تاکہ بروقت الرجی پر قابو پایا جاسکے۔

شدید قسم کی الرجی

شدید قسم کی الرجی کا سبب اینا فائیلیکسس (Anaphylaxis) ہے۔ یہ ایک ایسا خارجی پروٹین ہے، جس سے جسم اس قدر حساس ہو جاتا ہےکہ اس کا10دن بعد دوسرا ٹیکہ خطرناک ردعمل پیدا کرسکتا ہے۔ کم حساس ہونے کی صورت میں ردعمل کے طور پر سانس کی نالیاں تنگ ہوجاتی ہیں او ر ہارٹ فیل ہو جاتا ہے۔یوں سمجھ لیں کہ یہ ایک جان لیوا صورتحال ہے، جس کی علامات میں سانس کی تنگی، ہلکی سرخی اوربے ہوشی جیسی علامات شامل ہیں، اس کے نتیجے میں فوری طور پر مریض کا علاج ضروری ہوجاتا ہے۔

اسکن الرجی

اسکن الرجی کا سبب براہ راست الرجین ہی بنتے ہیں۔ اسکن الرجی میں مریض کی جِلد پر خارش، دانے یا جِلد جل جانے جیسی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں۔ اس سلسلے میں مریض کا ڈرماٹولوجسٹ سے رابطہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جِلدی الرجی کی مختلف اقسام ذیل میں درج ہیں۔

ریشز: ریشز جسے خراشیں بھی کہا جاتا ہے، جب جسم یا جِلد پر اپنا رنگ دکھاتی ہیں تو متاثرہ شخص بے چین ہو کر رہ جاتاہے۔ اس الرجی میں مریض کی جِلد سرخ ہوجاتی ہے یا ریشز والے ایریا پر خارش اور سوجن آجاتی ہے ۔

ایگزیما: اس مرض کے آغاز میں جِلد سرخ ہوجاتی ہے اور اس پر خارش ہونے لگتی ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹی چھوٹی پھنسیاں بنتی ہیں جن میں سے مواد رستا ہے اور جِلد کی رنگت بد وضع ہو جاتی ہے۔

جِلد کی سوزش: اس صورت میں کسی خارجی مادے کے حملے کے بعد جِلد سرخ ہوجاتی ہے یا پھر جِلد پرخارش ہونے لگتی ہے ۔

گردن میں سوجن: اس صورت میں مریض کی گردن اور گلے پر سوجن آجاتی ہے یاوہ سرخ ہوجاتے ہیں۔

کیڑوں کے کاٹنے سے الرجی ہونا

شہد کی مکھیاں، چھوٹی بھڑ اور کاٹنے والی چیونٹیاں (فائر آنٹ) ایسے کیرے مکوڑے ہیں جن کے کاٹنے سے انسانی جسم میںالرجی ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ بعض کیڑے مکوڑے ایسے بھی ہیں جو کاٹتے نہیں لیکن پھر بھی الرجی کا باعث بن جاتےہیں۔ ان میں لال بیگ اور مٹی میں پائے جانے والے کیڑے مکوڑے شامل ہیں، یہ سال بھر رہنے والی الرجی اور دمہ کا سبب بن سکتے ہیں۔