آپ آف لائن ہیں
جمعہ16؍ شعبان المعظم1441ھ 10؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستان ہی نہیں پوری دنیا ٹڈی دل کے حملوں سے پریشان

پاکستان ہی نہیں پوری دنیا ٹڈی دل کے حملوں سے پریشان


ٹڈی دل کے فصلوں پر ہونے والے حملوں اور تر و تازہ فصلوں کو چٹ کرنے کے واقعات صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر دیکھنے میں آئے ہیں۔

اقوام متحدہ نے بھی ٹڈی دل کو عالمی خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی وجہ سے انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔

غیر ملکی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق شمال مشرقی افریقا کے ممالک اتھوپیا، کینیا، صومالیہ میں ان 36 کروڑ کیڑوں نے بڑے رقبے پر کھڑی فصلوں پر اپنا فضلہ چھوڑ چکے جبکہ جبوتی اور ایریٹیریا جیسے چھوٹے ممالک میں کھڑی فصلوں کو تو مکمل طور پر تباہ کر چکے ہیں۔

اقوام متحدہ نے ٹڈی دل کے حملوں کی وجہ سے غذا کو خطرات کی زد میں قرار دے دیا۔

کچھ افریقی ممالک میں دہائیوں بعد ٹڈی دل کا اتنا بڑا حملہ ہوا ہے جبکہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ رواں برس جون میں ٹڈی دل کا حملہ مزید 500 گنا تک بڑھ سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے ڈائریکٹر جنرل کو ڈونگیو نے شمالی افریقی خطے میں غذائی قلت سے بچنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فنڈنگ کا مطالبہ کردیا۔

اقوام متحدہ پہلے ہی صرف 5 ممالک میں 7 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی مختص رقم میں سے ایک کروڑ 54 لاکھ ڈالر خرچ کرچکی ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ ان ٹڈی دل کی اگلی نسل کے اپریل میں حملوں کا امکان بھی موجود ہے جو اتنی بڑی تعداد میں ہوسکتے ہیں جو ایک دن میں 35ہزار افراد کی ایک دن کی خوراک کو پورا کرنے کے لیے پیدا ہونے والی اجناس کو چٹ کرسکتے ہیں۔

اٹلی کے دارالحکومت روم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کو ڈونگیو کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے ہم دن رات محنت کر سکتے ہیں تاکہ لوگ اپنی فصلیں کھونے سے بچ جائیں۔

انہوں نے مزید کہ ٹڈل دل کے حملوں سے بچنے کے لیے فصلوں پر صحیح وقت میں اور صحیح جگہ پر دواؤں کا اسپرے سب سے اہم ہے۔

ایف اے او کے ڈپٹی ڈائریکٹری جنرل برائے ماحولیات اور قدرتی وسائل ماریا سیمیڈو کہتی نے خبردار کیا ہے کہ ان ممالک کو جلد از جلد اقدامات کرنے ہوں گے کیونکہ ٹڈی دل کسی کا انتظار نہیں کرتے، وہ آئیں گے اور فصلوں کو تباہ کر دیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنا ہے لیکن پہلے ہمیں ذریعہ معاش کے بارے میں اور طویل مدتی منصوبہ بندی کے بارے میں سوچنا ہوگا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید