• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان اور اسلام دشمن نہیں، الزامات بدنامی کا باعث ہیں، ڈیوڈروز

لندن (مرتضیٰ علی شاہ) میل آن سنڈے کے رپورٹر ڈیوڈ روز نے کہا ہے کہ وہ نہ تو اسلام اور نہ ہی پاکستان مخالف ہیں۔ انہوں نے اس کا اظہار ازالہ حیثیت عرفی کے کیس میں واجد اقبال کے وکیل مارک لیوس کی جانب سے اخبار کے خلاف مسلم مخالف تعصب کا الزام عائد کرنے اور برٹش پاکستانی واجد اقبال کے ان ریمارکس کے بعد کیا کہ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ مسٹر روز اور اخبار نے مجھے اس لئے نشانہ بنایا کہ میرا تعلق پاکستان اور اسلامی عقیدہ سے ہے۔ ڈیوڈ روز نے یہ اظہار خیال دی نیوز میں یہ رپورٹ شائع ہونے کے بعد کیا کہ ڈیوڈ روز اور ایسوسی ایٹڈ نیوزپیپر لمیٹڈ ایک جز وقتی بائونسر اور سابق ٹیکسی لائسنسنگ افسر واجد اقبال سے 1.2 ملین پونڈز کا ازالہ حیثیت عرفی کیس ہار گئے ہیں، جس میں جھوٹا الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ سیکس گرومنگ گروہ کے ساتھ ملوث ہے۔ ڈیوڈ روز نے واجد اقبال اور ان کے وکیل لیوس کا نام نہیں لیا اور نہ ہی کورٹ کیس کا تذکرہ کیا کہ مسٹر اقبال یہ جیت گئے ہیں بلکہ بلا واسطہ عدالت کے باہر معاملات طے ہو جانے کا حوالہ دیا، جس کے نتیجے میں اخبار کو تقریباً 1.2 ملین پونڈز کی ادائیگی کرنا ہوگی۔ میل کے رپورٹر نے لکھا کہ جہاں تک پاکستان مخالف ہونے کا تعلق ہے، میں پہلی بار 18 سال کی عمر میں 1978 میں پاکستان گیا۔ اس وقت اسلام آباد ایک ولیج سے زیادہ نہیں تھا۔ میرے خیال میں اس وقت وہاں صرف ایک مارکیٹ تھی۔ مجھے اس ملک اور اس کے لوگوں سے پیار ہوگیا اور اب بھی میں ان سے محبت کرتا ہوں، یہی وجہ ہے کہ میں متعدد مرتبہ وہاں گیا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیراعظم عمران خان کے احتساب سربراہ شہزاد اکبر کو پی ٹی آئی حکومت کیلئے کام کرنے سے قبل سے جانتے تھے۔ انہوں نے اپنی پوزیشن کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہونے والی ناانصافیوں، گوانتاناموبے اور ڈرون حملوں کی تحقیقات پرانہوں نے کئی برس صرف کئے ہیں، اس کے علاوہ 20 سال سے وہ بے گناہ افریقی امریکیوں کی سزائے موت کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں، اگر اب بھی انہیں نسل پرست کہا گیا ہے تو اسے ثابت کرنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ 2009 میں پاکستانی فوج جب دیر اور سوات میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہی تھی تو وہ خود وہاں موجود تھے۔ ڈیوڈ روز کا مزید کہنا تھا کہ کوئی بھی مجھے پاکستان مخالف نسل پرست نہیں کہہ سکتا۔ میں نے پشاور، مردان اور فاٹا میں دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں وقت گزارا اور ان پولیس افسران سے بھی بات کی جو سڑکوں پر ہر دفعہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر خدمات انجام دے رہے تھے۔ شکر ہے کہ وہ وقت گزر گیا۔ شہباز شریف کی جانب سے دائر مقدمے کے ردعمل میں ڈیوڈ روز کا کہنا ہے کہ وہ مقدمے اور دیگر قانونی معاملات پر بات نہیں کرسکتے۔ تاہم ایک اور پاکستانی شہری واجد اقبال کی جانب سے ہرجانے کے مقدمے میں شکست کے بعد ان کے وکیل کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر ڈیوڈ روز کا کہنا ہے کہ ان پر مسلم دشمنی اور پاکستان مخالف ہونے کے الزامات نہایت ہتک آمیز ہیں، ان کی زندگی کا بیشتر حصہ نسل پرستی کو بے نقاب کرنے اور اس کے خلاف لڑتے ہوئے گزرا ہے۔ خیال رہے کہ دو روز قبل سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اپنے وکلا کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈیوڈ روز اور اے این ایل کے خلاف لندن کی عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا تھا، جس پر کوئنز بینچ ڈویژن نے اخبار اور صحافی کو نوٹس بھی جاری کئے ہیں۔ میل آن سنڈے نے مئی 2017 میں لکھے گئے ایک آرٹیکل میں واجد اقبال پر راچڈیل میں پیڈوفائل ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے ’’فکسر‘‘ کی حیثیت سے کام کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ شہرت کو نقصان پہنچانے والے کیسز کے ماہر، پیٹرن لا کے مارک لیوس، جنہوں نے کامیابی کے ساتھ واجد اقبال کی نمائندگی کی تھی۔ دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے برٹش پاکستانی کلائنٹ کی کامیابی شاندار ہے۔ واجد اقبال نے دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے 100 فیصد یقین ہے کہ اگر میں مسلمان اور پاکستانی نہ ہوتا تو کبھی بھی مجھے سٹوری میں شامل نہ کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں کسی کو پیڈوفائل کہنا بدترین الزام ہے، سائوتھ ربل کے لائسنسنگ ڈپارٹمنٹ میں میرے علاوہ دو سفید فام خواتین ہیں مگر ڈیوڈ روز اور میل آن سنڈے نے صرف مجھے نشانہ بنایا کیونکہ میں پاکستانی اور مسلمان تھا۔ کسی سفید فام ساتھی کو اس سٹوری میں فٹ نہیں کیا گیا جو کہ رپورٹر اور اخبار نے گڑھی تھی۔ واضح رہے کہ واجد اقبال نے عدالت میں اپنے دعویٰ میں نسل ، مذہب اور قومیت کو ایشو بنایا تھا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ابتدائی اشاعت میں راچڈیل سیکس ابیوز سکینڈل کا جو حوالہ دیا گیا تھا وہ لوگوں کے ذہنوں میں تازہ تھا۔ 16 مئی 2017 کو ٹیلی ویژن پروگرام ’’ تین لڑکیاں : درحقیقت راچڈیل سیکس ابیوز سکینڈل میں کیا ہوا تھا ؟‘‘ لاکھوں نظرین کیلئے نشر ہوا اور فوری بعد میل آن لائن میں آرٹیکل شائع ہوا۔ انہیں بلا جواز سکینڈل میں ملوث کیا گیا جس نے مجھے بہت اپ سیٹ کردیا۔ آرٹیکل پڑھنے والے لوگ اس نتیجے پر پہنچے کہ میں راچڈیل کے اس گروپ میں شامل ہوں یا ان ٹیکسی ڈرائیوروں سے تعلق ہے جنہوں نے کم عمر لڑکیوں کے ساتھ یہ سنگین جرائم کئے۔ اخبار نے ہیڈ لائن دی تھی ’’ منی کیب شکاریوں کا سکینڈل‘‘۔ میل آن سنڈے نے الزام عائد کیا تھا کہ بورو کونسل، سائوتھ ربل میں جونیئر ٹیکسی لائسنسنگ افسر اقبال جان او سلیوان نامی مقامی ڈرائیور کے لائسنس کی تجدید کا ذمہ دار ہے جو کہ سکول سے بھاگی ہوئے ایک بچی کے ساتھ جنسی حملہ میں ملوث پایا گیا تھا۔ اخبار نے مزید آگے بڑھ کر میرا تعلق ایشیائی مردوں کی جانب سے سیکس گرومنگ کے سب سے بڑے سکینڈل سے جوڑ دیا۔ اخبار نے دعویٰ کیا کہ اقبال پیڈو فائل گروہ ارکان کیلئے ایک فکسر کے طور پر کام کرتا تھا۔ واجد اقبال کے وکیل مارک لیوس نے اپنے ٹیوٹ میں لکھا ہے کہ میل آن سنڈے کو نسل پرستی، مسلم مخالف تعصب کے زیر اثر توہین آمیز اشاعت کے نتیجے میں بھاری رقم ادا کرنی ہوگی، کونسل افسر پر سیکس گرومنگ گروہ سے تعلق کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

تازہ ترین