آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ یکم رجب المرجب 1441ھ 26؍ فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

دنیا کو سب سے پہلے کورونا سے خبردار کرنے والا ڈاکٹر خود وائرس سے ہلاک


چین میں پھیلنے والے کورونا وائرس کے بارے میں دنیا کو خبردار کرنے والے ڈاکٹر لی وین لیانگ خود اس وائرس کا شکار ہوکر ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی ویب سائٹ نے گلوبل ٹائمز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ ڈاکٹر ووہان میں ہی زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔

لی وین لیانگ نامی اس ڈاکٹر نے گزشتہ برس دسمبر میں ہی اس وائرس سے متعلق دنیا کو خبردار کر دیا تھا۔

اس شخص نے میسجنگ ایپ وی چیٹ پر اپنے میڈیکل اسکول کے سابقہ طالب علموں کے ایک گروپ سے بات کرتے ہوئے سب سے پہلے اس وائرس سے آگاہ کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ووہان کی ایک مقامی مارکیٹ سے کچھ لوگ ان کے پاس علاج کے لیے آئے ہیں جن میں سیویئر ایکیوٹ ریسپائریٹری سینڈروم (سارس) جیسا مہلک وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب ان افراد کے ٹیسٹ کیے گئے تو ان میں سارس جیسے وائرسز پر مشتمل کورونا وائرس کا ایک گروپ ملا ہے۔

ان کی چیٹنگ کا اسکرین شاٹ سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلنے لگا تھا جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سارس نامی یہ وائرس پہلی مرتبہ 2003 میں سامنے آیا تھا جو چین سمیت پوری دنیا میں 800 افراد کی ہلاکت کا سبب بنا تھا۔

لی وین لیانگ نے چیٹنگ کے دوران اپنے دوستوں کا خبردار کیا کہ وہ اس وائرس سے متعلق اپنے پیاروں کو بھی آگاہ کریں۔

سوشل میڈیا پر ڈاکٹر لی وین لیانگ کی چیٹنگ کا اسکرین شاٹ ان کے نام کے ساتھ ہی وائرل ہونے لگا تو وہ پریشان ہوگئے۔

اس حوالے سے انہوں نے امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب میں نے اسے سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے دیکھا تو مجھے احساس ہوگیا تھا کہ اب بات میرے کنٹرول سے باہر  ہوچکی ہے اور یہ خبر پھیلانے کی وجہ سے مجھے سزا ہوسکتی ہے۔

بعد ازاں ووہان پولیس نے اس ڈاکٹر پر شہر میں افواہ پھیلانے کا الزام بھی عائد کردیا تھا۔

واضح رہے کہ یہ ان چند ڈاکٹرز میں سے ایک تھے جنہوں نے اس مہلک وائرس سے متعلق دنیا کو خبردار کرنے کی کوشش کی پاداش میں پولیس مقدمے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

واضح رہے کہ اب تک کورونا وائرس سے چین میں ساڑھے 5 سو سے زائد لوگ ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 28 ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں جن کا علاج جاری ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید