آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍شعبان المعظم 1441ھ 5؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بین الاقوامی درسگاہوں میں داخلے کیلئے درکار امتحانات

ہر طالب علم کا خواب ہوتا ہے کہ وہ بیرونِ ملک کسی معیاری درسگاہ میں تعلیم حاصل کرے۔ پاکستانی طالب علموں کا بیرونِ ملک تعلیم کے حصول کے لیے اولین انتخاب امریکا یا برطانیہ ہوتا ہے اور اس کے بعد وہ کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر یورپی و خلیجی ممالک کو ترجیح دیتے ہیں۔ 

ان ممالک کی درسگاہوں میں داخلے کی کچھ شرائط ہوتی ہیں، جن میں سے ایک لازمی شرط آئیلٹس، جی آر ای، ٹوفل یا جی میٹ میں سے کسی ایک امتحان میں مطلوبہ اسکور کے ساتھ کامیاب ہونا ہے، جس کے بغیر آپ دیارِ غیر میں تعلیم حاصل کرنے کا صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔

IELTS

انٹرنیشنل انگلش لینگویج ٹیسٹنگ سسٹم (IELTS) انگریزی زبان کا ایک معیاری امتحان ہے، جو دیگر غیر ملکی زبان بولنے والوں کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ بالخصوص ان طالب علموں کے لیے جو انگریزی بولنے والے ماحول میں تعلیم حاصل کرنا، کام کرنا اور رہائش پذیر ہونا چاہتے ہیں۔IELTS کا سرٹیفکیٹ بین الاقوامی تعلیم اور روزگار کے دروازے کھول دیتا ہے۔ یہ امتحان دنیا کے معروف ماہرین نے زبان کی تشخیص کرتے ہوئے تیار کیا ہے کہ لوگ کن الفاظ میں بآسانی تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ اس لیےبین الاقوامی سطح پر اس امتحان کی عمدہ ساکھ ہے۔ 

دنیا بھر میں ہزاروں اسکولوں، کالج، یونیورسٹیوں ،کمپنیوں ، امیگریشن اتھارٹیز اور پیشہ ورانہ ادار وںمیں اس امتحان کو قبول کیا جاتا ہے۔ IELTS انگریزی گفتگو کی مہارت جانچنے کا ایک نہایت مؤثر اور فطری طریقہ ہے۔ آپ اس کی اکیڈمک یا جنرل ٹریننگ لے سکتے ہیں۔ یہ ایک معیاری ٹیسٹ ہے، جس میںزبانی مہارت پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ امیدواروں کو امتحان کے دوران سننے ، بولنے، پڑھنے اور لکھنے کی مہارت پر پَرکھا جاتا ہے ۔ 

مجموعی اسکور کا تعین ہر ایک حصے کے لئے 1سے9کے پیمانے پر کیا جاتا ہے اور مجموعی اوسط کو آخری اسکور سمجھا جاتا ہے۔ امتحان میں کامیابی کے بعد ان کے لیے برطانیہ اور یورپی یونین کے ممالک میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے یا کام کرنے کی راہیں آسان ہوجاتی ہیں۔

TOEFL

ٹیسٹ آف انگلش ایز اے فارن لینگویج(TOEFL)کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگائیں کہ انگریزی زبان کی مہارت کے ثبوت طور پر اس کے نتائج چند اہم ممالک کا ویزا حاصل کرنے کے لئے قبول کیے جاتے ہیں۔ اس میں زبانی، تحریری، مطالعاتی اور گروپ بحث و مباحثہ کی تربیت دی جاتی ہے کہ مختلف امور میں کون سے الفاظ سامنے والے کو متاثر کرتے ہیں۔ٹوفل اور IELTS کی ساخت میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔ 

غیر مقامی انگریزی بولنے والے یعنی ریاست ہائے متحدہ امریکا اور ایشیا پیسیفک کے خطے میںٹوفل اسکور کو قبول کیا جاتا ہے۔ IELTS کے مقابلے میں TOEFL مکمل طور پر CBT (کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹ) ہوتا ہے، جہاں ٹیسٹ لینے والے کے اسلوبِ نگارش پر تحریری حصہ بھی درج کیا جاتا ہے۔ انفرادی حصے میں 30پوائنٹس جبکہ انگریزی سننے، پڑھنے، بولنے اور لکھنےمیں مہارت کے 120پوائنٹس ہوتے ہیں۔

GRE

گریجویٹ ریکارڈ ایگزامینیشن (GRE)، انگریزی بولنے والے ممالک خاص طور پر امریکا میں مختلف گریجویٹ اسکولوں یا بزنس گریجویٹ اسکولوں میں داخلے حاصل کرنے کے لئے مستعمل ٹیسٹ ہے۔ تقریباً160ممالک کےایک لاکھ سے زائد گریجویٹ اسکولوں کے طالب علم 700ٹیسٹ مراکز میں GRE جنرل ٹیسٹ دیتے ہیں۔ 

ماسٹر ڈگری، خصوصی ماسٹر کورس، ایم ایس، ایم بی اے، ایم ای ایم یا ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے میں دلچسپی رکھنے والے یہ ٹیسٹ دے سکتے ہیں۔ GRE میں نظر ثانی شدہ عمومی امتحان کے علاوہ سات جی آر ای مضامین ٹیسٹ ہیں، جو امیدواروں کے اپنے اپنے میدان میں معلومات کا اندازہ لگاتے ہیں۔ GRE ٹیسٹ، ایجوکیشنل ٹیسٹنگ سروس (ETS) کے ذریعہ لیا جاتا ہے۔ 

یہ واحد امتحان ہے جو آپ کو بیرون ملک ایم ایس ، ایم بی اے یا پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلہ لینے کی اجازت دیتا ہے۔ اس کے امتحان کا دائرہ کسی خاص خطے یا GMAT ، IELTS اور ٹوفل کے برخلاف کسی خاص ملک اور جگہ تک کے لیے محدود نہیں ہے۔ اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ GRE معیاری اسکورنگ کے ساتھ مطلوبہ مطالعے کے انتخاب کی بہتر گنجائش مہیا کرتا ہے تو آپ کی سوچ صحیح ہے۔

GMAT

گریجویٹ مینجمنٹ ایڈمیشن ٹیسٹ (GMAT) اپنےڈھانچے اور نوعیت میں GRE سے بالکل یکساں ہے لیکن جیسا کہ نام سے پتہ چلتا ہے کہ یہ امتحان ان امیدواروں کے لئے ہوتا ہے جو بیرون ملک یونیورسٹیوں سے ایم بی اے (ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن) پروگرام کرنا چاہتے ہیں۔ یہ امتحان 800پوائنٹس کے پیمانے پر نشان زد کیا گیا ہے، جس میں ٹیسٹ لینے والے کی کارکردگی کا تجزیہ کرنے کے لئے ہر ایک میں 800پوائنٹس پر مشتمل زبانی اور مقداری حصوں کا اوسط لیا جاتا ہے۔ 

آپ خاص طور پر کسی GMAT اسکور کے اچھے یا برے ہونے کا فیصلہ نہیں کرسکتے، جب تک کہ امیدوار کی تیاری میں کسی خاص کمی کی تجویز نہ ہو۔ پوری دنیا کی یونیورسٹیاں اپنے ایم بی اے پروگرام میں داخلے کے لئےطلبا کی GRE اسکور کی مختلف حدیں قبول کرتی ہیں۔ٹوفل اور IELTS میں امیدوار کی زبانی مہارت کی جانچ پڑتال ہوتی ہے۔ 

تاہم، ان دونوں ٹیسٹ سے امیدوار کی علمی اور فکری مہارت کی واضح تصویر نہیں ملتی۔ جب تک کہ امیدوار کے پاس GRE یا GMAT اسکور نہ ہو، اس وقت تک اسے یونیورسٹیوں میں داخلے کی ضمانت نہیں دی جاتی۔

تعلیم سے مزید