آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍شعبان المعظم 1441ھ 5؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ہمارے نظام تعلیم کی داغ بیل ڈالنے والا لارڈ میکالے 25اکتوبر 1800ء میں پیدا ہوا۔ وہ ایک مضمون نگا ر تھا، جس کے اپنے عہد کے تاریخی اور سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھے گئے مضامین تہلکہ مچا دیتے تھے۔ میکالے 1839ء اور 1841ء کی جنگوں میں ’’سیکریٹری آف وار‘‘ کے عہدے پر فائز رہا۔ 1846ء اور 1848ء کے دوران ’’پے ماسٹر جنرل ‘‘ کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔ وہ انگلستان کی تاریخ پر کتاب بھی لکھ چکا تھا، لیکن برصغیر میں وہ انگریزی تعلیم اور مغربی خیالات کے فروغ کے لیے آج تک مشہور ہے۔

لارڈ میکالے کی بات کی جائے تو اسے یہ حق ملا ہوا تھا کہ وہ اثر و رسوخ رکھتے ہوئے جو بھی پالیسی نافذ کرنا چاہے، کرسکتا تھا۔ 1835ء میں جب انگلش ایجوکیشن ایکٹ بنا تو میکالے نے اصرار کیا کہ ہندوستان کے لوگوںکو انگریزی ادب پڑھایا جائے، کیونکہ اس زمانے میں خود انگریز بھی کیمسٹری، الیکٹرونکس، میٹالرجی اور معدنی وسائل سے متعلق علوم حاصل کرنے میں مصروف تھے ۔ انگریز اچھی طرح جانتے تھے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم سے برصغیر معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا تھا جبکہ انگلش لٹریچر پڑھنے سے معاشی ترقی ممکن نہیں تھی۔

متحدہ ہندوستان کے گورنرجنرل کی قونصل کے پہلے رکن برائے قانون کے طور پر لارڈ میکالے نے برطانوی پارلیمان میں2فروری 1835ء کو اپنے خطاب میں کہا، ’’میں نے ہندوستان کے ہر خطے کا سفر کیا ہے۔ مجھے وہاں کوئی بھکاری اور چور نظر نہیں آیا۔ میں نے اس ملک میں بہت خوشحالی دیکھی ہے۔ لوگ اخلاقیات و اقدار سے مالا مال ہیں، عمدہ سوچ کے مالک لوگ ہیں اورمیرے خیال میں ہم اس وقت تک اس ملک کو زیر نہیں کرسکتے جب تک ہم انہیں مذہبی اور ثقافتی طور پر توڑ نہ دیں، جو کہ ان کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے میں تجویز کرتاہوں کہ ہم ان کا قدیم نظامِ تعلیم اور تہذیب بدل دیں۔ اگر ہندوستانیوں نے یہ سمجھ لیا کہ ہر انگریزی اور غیر ملکی شے ان کی اشیا سے بہترہے تو وہ اپنا قومی وقار اور تہذیب کھودیں گے اور حقیقت میں ہماری مغلوب قوم بن جائیں گے، جیسا کہ ہم انہیں بنانا چاہتے ہیں‘‘۔

اس تقریرکے بعد لارڈ میکالے کو ہی ہندوستان کا نظام تعلیم وضع کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی اور ٹھیک 22سال بعد 1857ء میں اس نے اپنا مقصد حاصل کرلیا۔ ہندوستان کے لوگوں میں اپنی زبان، ثقافت اور تہذیب و تمدن کے بارے میں نفرت پیدا ہوتی چلی گئی اور لوگوںنے ترقی کا ضامن اپنے زبان کی بجائے انگریزی زبان کو سمجھنا شروع کردیا۔ یہی سوچ پاکستان میں آج تک برقرار ہے، بلکہ اس کی جڑیں آج گہری در گہری ہو تی چل جارہی ہیں۔

ہمارے ملک میں تعلیم کی جو شکل ہے، اس کا ذمہ دار بھی میکالے کو ٹھہرایا جاتاہے، حالانکہ لارڈ میکالے 28 دسمبر 1859ء کو اس جہانِ فانی سے کو چ کرچکا تھا۔ مزید یہ کہ 1947ء میں گوروںنے بھی اس سرزمین کو خیر آباد کہہ دیا تھا۔ اس کے بعد 70سال سے زائد عرصہ بیت چکا ہے مگر ہم نے اپنا نظام تعلیم وضع نہیں کیا اور ہم موجودہ تعلیمی نظام کے عیوب و محاسن کو لارڈمیکالے کے ذمے ڈال کر اپنا دامن چھڑا لیتے ہیں۔ اگر لارڈ میکالے نے انگریزی ذریعہ تعلیم کو لازمی قرار دے کر کوئی غلطی کی تھی تو پھر کیا وجہ ہے کہ آج تک ہم اس نظام تعلیم کو بدلنے کی ہمت نہ کرسکے؟ شاید یہ ہماری گھٹی میں پڑ چکا ہے کہ ہم مسائل کا حل نکالنے کے بجائے یہود و ہنود کو لعن طعن کرکے اپنا کام چلاتے ہیں۔

پاکستان میں اکثر لوگ اردو میڈیم کا مذاق اڑاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ دیگر ممالک کی بات کی جائے تو آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ چین، جاپان، روس، سوئیڈن، فرانس، جرمنی وغیرہ میں تعلیم ان کی اپنی زبان میں دی جاتی ہے اور وہاں ترقی اور تعلیم کی شرح ہمارے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ ان ممالک میں ان کی زبان میں ہر قسم کی سائنس و ٹیکنالوجی کا لٹریچر اور نصاب موجودہے، جس کی ہمارے ہاں کمی ہے۔

دنیا بھر کے تعلیمی محققین اس بات پر زودیتے ہیں کہ بچوں کو ان کی قومی زبان بلکہ مادری زبان میں تعلیم دی جائے۔ ابتدائی تعلیم وتربیت کے بعدجب بچہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے مالامال ہوجائے تو پھر اسے انگریزی ودیگر زبانوں میں تعلیم دی جائے۔ ہمارے ہاں بچہ بھاری بھرکم بیگ میں ڈھیروں کتابیں اور کاپیاں اٹھائے پھرتا ہے اور صرف اپنی یادداشت کا امتحان دیتاہے۔ 

اگر وہ کسی سائنس کےسوال کا جواب دے بھی دے تو اسے تفصیل سے کسی کو نہیں سمجھا سکتا، نہ ہی اس کی خوبیوں اور خامیوں کو بیان کرسکتاہے۔ یعنی ہمارے نظام تعلیم میں طلبا کو کتابیں حفظ کروائی جاتی ہیں اورجس کی یادداشت اچھی ہوتی ہے، وہ زیادہ نمبر حاصل کرکے طرم خان بن جاتا ہے۔

دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بچے کا بستہ ہلکا پھلکا ہوتا ہے جبکہ ہمارے ملک میں نرسری کا بستہ اتنا بھاری ہوتاہے کہ اسے اٹھانے میں والدین کا کندھا اتر جاتاہے۔ بچہ آج بھی انگلش لٹریچر پڑھ رہا ہے، رٹ رہاہے، امتیازی نمبروں سے پاس بھی ہورہاہے لیکن تخلیقی نہیں ہو رہاہے، اپنی سوچوں کی آبیاری نہیں کررہا، کیا؟ کیوں؟ کیسے؟ کے سوالات نہیں کررہا ہے۔ اگر کہا جائے زمین گول ہے تو وہ مان لیتا ہے، زمین چوکور ہے تو بھی ہامی بھر لیتاہے، کیونکہ جو اس کےاندر فیڈ کیا جارہا ہے اس کی سمت وہی متعین ہو رہی ہے، بالکل ایسے ہی جیسے آج سے ڈیڑھ سو سال قبل لارڈ میکالے نے سازش رچائی تھی اورہم اس کا توڑ کرنے کے بجائے اسے سینے سےلگائے بیٹھے ہیں۔

تعلیم سے مزید