آپ آف لائن ہیں
منگل13؍شعبان المعظم 1441ھ 7؍اپریل2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

گلوبلائزیشن کے عہد میں پشتو کا مقام

اقوامِ متحدہ کی جانب سے 21 فروری کا دن’’ مادری زبانوں کے عالمی یوم‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یونیسکو(UNESCO)کے بورڈ آف گورنرز کی عمومی کانفرنس کی جانب سے 2نومبر 2001ء کو ایک اعلامیہ جاری ہوا، جس میں کہا گیا کہ ’’ہر انسان کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند، خصوصاً اپنی مادری زبان میں اپنے خیالات اور تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار اور پرچار کرے۔ تمام انسان ایسی معیاری تعلیم و تربیت کا حق رکھتے ہیں، جس کے ذریعے اُن کی ثقافت کی شناخت ہو سکے۔‘‘ گلوبلائزیشن کے ہنگامہ خیز دَور میں جہاں ایک طرف سرمائے نے جغرافیائی سرحدیں عبور کرلیں، وہیں دوسری طرف، قومی ثقافتوں کی بقا و فنا کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ خصوصاً اُن ممالک میں یہ مسئلہ زیادہ نمایاں ہے، جہاں قومی زبانیں حکومتوں کی بدسلوکی اور عوام کی لاپروائی کا شکار ہیں۔

بعض قومی زبانوں (مادری زبانوں) کو علاقائی زبانیں کہا جاتا ہے اور اُنھیں دوسرے، تیسرے درجے کی حیثیت دی گئی ہے۔بدقسمتی سے پاکستان میں بھی صُورتِ حال کچھ ایسی ہی ہے۔ تعلیمی اور سرکاری اداروں میں یہ زبانیں شجرِممنوعہ قرار پائی ہیں، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں بھی اُن پر غیر اعلانیہ پابندی عائد ہے، تو ظاہر ہے کہ جو زبان ذریعۂ تعلیم نہ ہو، معاش اور ملازمت کی ضرورت بھی نہ ہو اور ذرائع ابلاغ میں کسی بنیادی اہمیت کی حامل نہ ہو، وہ کس طرح ترقّی کر سکے گی اور زندہ رہ پائے گی۔ اہلِ فہم و دانش کہتے ہیں کہ بچّے کی ذہنی نشوونما، ترقّی، تعلیم اور تربیت مادری زبان ہی کے ذریعے اچھی ہو سکتی ہے۔ 

نیز، ماہرین اس بات پر بھی متفّق ہیں کہ بچّوں کی اُس زبان میں تعلیم و تربیت ہونی چاہیے، جس میں وہ خواب دیکھتے ہیں۔اور ظاہر ہے کہ خواب ،مادری زبان ہی میں دیکھے جاتے ہیں۔ دنیا کی تمام مہذب اور ترقّی یافتہ اقوام عملی طور پر اپنے بچّوں کو یہ حق دے چُکی ہیں۔ آزادی کی تحریک میں باچا خان کی زیرِ نگرانی’’ آزاد اسکولز‘‘ میں پہلی مرتبہ پشتو زبان کو ذریعۂ تعلیم قرار دیا گیا، پھر ڈاکٹر خان صاحب کی وزارت میں بھی پرائمری سطح تک پشتو ذریعۂ تعلیم تھی۔ 

ایّوب خان کے دورِ حکومت میں قائم کردہ’’ قومی تعلیمی کمیشن‘‘ نے بھی بچّوں کو مادری زبان میں تعلیم دینے کی سفارش کی، تاہم اس سفارش پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ 1973ء کے آئین کے آرٹیکل 251کی تیسری شق کے تحت صوبوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ قومی زبان اُردو کے ساتھ، صوبائی زبانوں کی ترقّی، استعمال اور تعلیم کے لیے مناسب قوانین وضع کر سکتے ہیں۔ اسی شق کے تحت سندھ میں سندھی زبان نہ صرف تعلیمی بلکہ دفتری زبان قرار پائی، لیکن پشتو زبان کو اُس آئینی حق سے تاحال محروم رکھا گیا ہے۔ 

البتہ، سابق گورنر پختون خوا، جنرل فضل حق کے دورِ حکومت میں باضابطہ طور پر پشتو زبان کو پشتو بولنے والے علاقوں میں پرائمری سطح تک ذریعۂ تعلیم قرار دیا گیا۔ المیہ یہ ہے کہ پشتو زبان کو اپنی قدامت اور بھاری علمی خزینے کے باوجود نہ تو قدیم پختون بادشاہوں نے تعلیم، روزگار یا دربار کی زبان بنایا اور نہ ہی قوم پرستوں نے اپنے دورِ حکومت میں اس زبان کو اُس کا آئینی حق فراہم کیا۔سو، جو زبان اپنے مُلک میں تعلیم اور معیشت کی زبان نہ ہو، وہ گلوبلائزیشن کی یلغار میں اپنا وجود کس طرح برقرار رکھ سکے گی؟ کیوں کہ آج دنیا میں زبان صرف اظہار کا وسیلہ نہیں، قوموں کی موت و زندگی اس سے وابستہ ہے۔

پشتو کے نام وَر ادیب و محقّق، ڈاکٹر شیر زمان طائزے کے مطابق، پروفیسر اسٹیفن اے وورم کی تحقیقی کتاب’’Atlas of the world's languages in danger of disappearing‘‘میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں کم و بیش 6ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں،جن میں آدھی سے زیادہ زبانیں مستقبل میں ختم ہو جائیں گی۔’’Hutchinson Encyclopedia ‘‘کے مطابق، پشتو دنیا میں آبادی کے لحاظ سے 43ویں نمبر پر ہے۔ 

مذکورہ ڈکشنری تین درجوں میں منقسم ہے، جس میں پشتو اول درجے میں شامل ہے۔ اگر ہم عالمی سطح پر نظر ڈالیں، تو پشتو زبان کی اہمیت اور بھی واضح ہوتی ہے۔ مثلاً اِس وقت دنیا کے تقریباً 18ممالک کے ریڈیو اسٹیشنز سے پشتو کے پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ 14زبانوں میں پشتو بھی شامل ہے اور وہاں پشتو میں تقاریر ہو چُکی ہیں۔ جینوا معاہدہ پشتو میں لکھا گیا اور اُس پر دست خط بھی پشتو میں کیے گئے۔ افغانستان کے سربراہ، امان اللہ خان کے دَور میں آئین پشتو زبان میں تھا۔ 

پشتو افغانستان میں سرکاری اور تعلیمی زبان رہی ہے۔ سابق ریاست سوات میں بھی پشتو دفتری اور تعلیمی زبان تھی۔ ایک لحاظ سے پشتو خلا کی زبان بھی ہے کہ روس کی جانب سے1988ء میں خلا میں بھیجے جانے والےخلائی جہاز’’میر‘‘ کے کیپٹن عبدالاحد مومند تھے، جنہوں نے جہاز میں خرابی کے بعد اپنی والدہ سے پشتو میں گفتگو کی ۔ ایشیائی زبانوں میں پشتو پر جتنا تحقیقی کام مستشرقین نے کیا، اس سے پتا چلتا ہے کہ انگریز نے اپنے سب سے بڑے حریف کو سمجھنے کے لیے کس طرح اُن کی زبان سمجھنے کی سعی کی۔پھر ایسے انگریز مستشرقین بھی ہیں، جنہوں نے خالص علمی و ادبی لگن سے پشتو زبان و ادب میں دِل چسپی لی اور قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔ پروفیسر ڈورن نسلاً انگریز تھے۔ 

جرمنی میں پیدا ہوئے، وہیں تعلیم پائی، افغانستان اور کاکیشیا کی زبانوں میں مہارت حاصل کی۔ درسی کُتب کے علاوہ 1826ء میں پختونوں کی تاریخ، 1845ء میں پشتو لغت اور 1847ء میں پشتو زبان پر ایک کتاب شایع کی۔ ایچ جی راورٹی مشہور انگریز مستشرق، پشتو زبان کے عالم اور نام وَر مصنّف تھے۔ اُنہوں نے خصوصیت سے دو اساتذہ سے استفادہ کیا۔ ایک ہشت نگر اور دوسرے قندھار کے تھے، یہی وجہ ہے کہ پشتو زبان کے دونوں لہجوں کے فرق کو بخوبی سمجھتے تھے۔ راورٹی کی گرائمر کا پہلا ایڈیشن کلکتہ میں چَھپا، جب اُس کا دوسرا ایڈیشن لندن میں آیا، تو انگلستان کے اخبارات و رسائل نے اُسے شاہ کار قرار دیا۔ راورٹی کی دوسری مشہور پشتو تصنیف’’ گلشن روہ‘‘ ہے، جو پشتو کے نام وَر شعرا کے منتخب کلام پر مشتمل ہے۔ 

اس سے پہلے پروفیسر ڈورن نے بھی پشتو منظومات اور نثر کا انتخاب شایع کیا تھا۔ راورٹی نے انگریزی میں ترجمہ کر کے پشتون شعرا کو یورپ میں متعارف کروایا۔ علّامہ اقبال بھی راورٹی کے اس ترجمے کی وساطت ہی سے پہلی دفعہ پشتون شعرا، خصوصاً خوش حال خان خٹک کے کلام سے متعارف ہوئے۔ علّامہ اقبالؒ کی بعض اصطلاحات’’ شاہین، شہباز اور خُودی‘‘ وغیرہ کا ماخذ خوش حال خان کا کلام ہی بتایا جاتا ہے۔ راورٹی نے’’ مینول آف پشتو‘‘ کے نام سے بھی ایک کتاب لکھی۔اُنہوں نے پادری جیمز کی مشہور کتاب’’ Aesop Fables ‘‘کا پشتو ترجمہ شایع کیا۔غالباً یہ پشتو نثر کی پہلی مطبوعہ کتاب ہے، جو 1871ء میں لندن میں شائع ہوئی۔ 

پروفیسر ڈاکٹر یارمحمّد مغموم خٹک کی’’کلیاتِ خوش حال بابا‘‘ کے مطابق میجر راورٹی نے 1860ء میں خوش حال بابا کی شارٹ ہینڈ لندن سے شائع کی۔اس کتاب کے صفحہ 28 پر راورٹی کا کہنا ہے کہ’’ اس مختصر نویسی کو صرف خوش حال خان اور اُن کا خاندان ہی سمجھتے تھے۔‘‘ ڈاکٹر ہنری والٹر جب سپرنٹنڈنٹ جیل، پشاور تھے، تو اُنہوں نے خوش حال خان خٹک کا پہلا دیوان 1870ء میں شایع کیا۔ سرگریرسن کو’’ ہندوستانی لسانیات کا جائزہ‘‘ پر’’ آرڈر آف میرٹ‘‘ کا اعزاز ملا۔ 19جلدوں پر مشتمل یہ کتاب 1827ء میں شائع ہوئی، جس میں پشتو زبان اور اس کے مختلف لہجوں پر بھرپور بحث کی گئی۔ مالیون نے پشتو زبان کے کچھ عوامی قصّے کلکتہ سے شایع کیے۔ 

ٹی سی پلوڈن نے انگریز افسران کے پشتو نصاب کے لیے’’گنج پشتو‘‘ لکھی، جس کا 1875ء میں انگریزی میں ترجمہ شایع ہوا، پھر 1903ء میں ایک اور انگریز، بی ای ایم گرڈن نے اس کا چترالی زبان میں ترجمہ کلکتہ سے شایع کیا۔ جیمز ڈار مسٹیٹر مشہور مصنّف اور محقّق تھے۔ 1892ء میں’’ ژنداوستا‘‘ کا ترجمہ کیا۔ وہ 1885ء میں کالج آف فرانس میں ایرانی اور پشتو زبان و ادب کے پروفیسر مقرّر ہوئے تھے۔ پشتو عوامی گیتوں کا مجموعہ ’’پختون خوا ہارو بہار‘‘ کے نام سے 1888 ء میں پیرس سے شایع کیا۔

ڈار مسٹیٹر نے اس کتاب میں نہ صرف پشتو زبان کے اصل کے متعلق محقّقانہ بحث کی، بلکہ ایسا مواد بھی محفوظ کردیا، جو اُس وقت کے سیاسی حالات اور پختونوں کے جذبۂ حریّت کی عکّاسی کرتا ہے۔ علاوہ ازیں، اس کتاب کی وساطت سے کئی پختون شعرا کے نام بھی ہم تک پہنچے، وگرنہ وہ بھی دیگر سیکڑوں عوامی شعرا کی طرح تاریکی میں کھوئے رہتے۔ سر اولف کیرو قیامِ پاکستان سے پہلے صوبہ سرحد(پختون خوا) کے گورنر تھے۔اُنھوں نے انگلستان واپس جاکر’’ دی پٹھان‘‘ کے نام سے ایک تاریخی کتاب لکھی، جس کا اُردو ترجمہ’’ پشتو اکیڈمی، پشاور‘‘ نے شایع کیا۔ گلبرٹ سن نے پشتو زبان پر اپنی پہلی تصنیف بنارس اور دوسری 1929ء میں ہرٹ فورڈ سے شایع کی۔ اُسی سال اُن کی ایک اور کتاب پشتو محاورہ لغت پر (The English Pashtu Colloquial Dictionary) لندن سے شایع ہوئی۔ 

یہ کتاب خوش حال خان خٹک کی نظموں پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر میکنزی نے بھی خوش حال خان خٹک کی کچھ نظموں کا انگریزی میں ترجمہ کیا، جو کتابی صُورت میں شایع ہوا۔ گرائیگر نے ایک رسالے میں پشتو الفاظ کا اوستا اور سنسکرت کے الفاظ سے تقابل کیا۔ ڈاکٹر مارگنسٹرن ایک عرصے تک افغانستان میں رہے، اُن کی پشتو زبان اور پشتون قوم کے متعلق کتاب(report on a linguistic mission to north-western India‘‘کے نام سے1932 ء میں اوسلو یونی ورسٹی، ناروے سے شایع کی گئی۔ اُنہوں نے پشتو الفاظ کی ساخت (Etymology) اور خوش حال خان خٹک کی شاعری پر بھی کتاب لکھی۔ڈاکٹر ٹرمپ نے 1873ء میں پشتو گرائمر لکھی۔ ٹیوبنگن، جرمنی کے کُتب خانے میں پشتو کی سیکڑوں قدیم کُتب موجود ہیں۔ ان قلمی نسخوں میں بایزید انصاری(پیر روخان بابا) کی مشہور کتاب’’خیر البیان‘‘ بھی ہے، جو دنیا بھر میں اس کتاب کا واحد نسخہ ہے۔ 

پشتو اکیڈمی، پشاور کے ڈائریکٹر، مولانا عبدالقادر(مرحوم) نے اس کتاب کی فوٹو اسٹیٹ حاصل کی اور اسے پشاور اکیڈمی سے شایع کیا۔ پادری ہیوز پشتو زبان کے مشہور عالم تھے۔اُن کی پشتو نظم و نثر کے منتخب شہ پاروں پر مشتمل ایک ضخیم کتاب’’کلیدِ افغانی‘‘ کے نام سے لاہور میں طبع ہوئی۔ایسے مستشرقین کی مزید فہرست موجود ہے، جنہوں نے پشتو زبان، ادب اور تاریخ کے حوالے سے بے مثال خدمات انجام دیں۔

امریکی مصنّف، جیمز ڈبلیو سپین اپنی معرکۃ الآراء تصنیف’’ THE PATHAN BORDERLAND ‘‘میں پشتو لوک ادب کے حوالے سے رقم طراز ہیں’’بہت سے گیت اور کہانیاں، جو پختونوں کے دیہات میں عام طور سے سُنائی جاتی ہیں، قرونِ وسطیٰ کے یورپ کے لوک ادب کی ہمہ گیری کی یاد تازہ کرتی ہیں۔ ایک بہت ہی مشہور گیت’’زخمی دل‘‘ ایک کابلی نغمۂ محبّت ہے، جو بدلے ہوئے تال اور الفاظ کی ترمیم کے ساتھ برطانوی راج کے پختون سپاہیوں کی پسندیدہ’’ MARCHING TUNE‘‘ تھی‘‘۔ مذکورہ کتاب کا ترجمہ انجینئر سیّد وہاب برق نے’’پختون سرزمین‘‘ کے نام سے کیا ہے۔ یہی امریکی مصنّف، احمد شاہ ابدالی کی ادبی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ 1761ء میں پانی پَت کی جنگ میں مرہٹوں کو خاموش کرنے والے افغانستان کے بانی، احمد شاہ ابدالی کی حکم رانی اگرچہ ایران، کشمیر اور شمالی ہندوستان کے بیش تر علاقوں تک تھی، لیکن رعایا کے ساتھ شعرو ادب سے بھی غافل نہیں رہتے تھے۔ 

یہ امر خوش گوار حیرت کا باعث ہے کہ خون ریز زندگی کے برعکس، اُن کی ذاتی زندگی عجز اور اللہ سے ربط و معافی کا شاہ کار نمونہ تھی۔ ایک پشتو نظم میں کہتے ہیں’’اے فطرتِ انسان کی مکھی، خدا تجھے نیست و نابود کردے کہ تیری ناپاک بُو نے کسی کا منہ آلودہ کیے بغیر نہیں چھوڑا‘‘نفس و ذات کی خوشیوں کے تعاقب سے یہ اجتناب، اس زبردست جنگ جُو ایشیائی سردار احمد شاہ کو ازمنۂ وسطیٰ اور تحریکِ احیائے علوم کے ابتدائی دَور کے عیسائی شہ زادوں سے مماثل بنا لیتا ہے۔‘‘حقیقت تو یہ ہے کہ پختونوں پر پختونوں سے زیادہ، غیر پختونوں نے لکھا ہے۔ ہم جتنا احمد شاہ ابدالی کے نام سے موسوم’’ابدالی میزائل‘‘ سے واقف ہیں، اس کا عُشرِ عشیر بھی ابدالی کے کلام سے آشنا نہ ہوں گے۔ یہ ابدالی بابا ہی کا شعر ہے’’د دہلی تخت ہیرَوم چہ یاد کڑم…دخپل خُکلی پختونخوا دَ غرو سرونہ‘‘ یعنی’’دہلی کا تخت و تاج بھول جاتا ہوں، جب کبھی پیارے پختون خوا کے کوہساروں کی چوٹیاں یاد آجاتی ہیں۔‘‘

پشتو ،پختون خوا میں تعلیم کی زبان ہے اور نہ ہی دفتری، باوجود اس کے کہ پشتو وہاں کی اکثریتی آبادی کی زبان ہے۔ گلوبلائزیشن کے دَور میں پشتو زبان کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کرتے وقت اپنے حالات، پشتو بولنے والوں کے رویّوں، حکم راں طبقات کے سلوک، پشتو زبان کے علمی ذخیرے، پشتو زبان و ادب کے حوالے سے کیے گئے کام اور پشتون اہلِ قلم کی سرگرمیوں کو مدّنظر رکھنا ہوگا۔

(نوٹ:مضمون کی تیاری میں پشتو عالمی کانفرنس کے چیئرمین، سلیم راز، فارغ بخاری (مرحوم) اور دیگر محقّقین کے مقالہ جات سے بھی مدد لی گئی ہے)

سنڈے میگزین سے مزید