آپ آف لائن ہیں
منگل13؍شعبان المعظم 1441ھ 7؍اپریل2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر باقر رضا نے جمعرات کے روز کراچی میں منعقدہ ’’سی ای او سمٹ‘‘ میں ملکی معیشت بالخصوص برآمدات کے حوالے سے جو گفتگو کی، اسے ان ہی کے کہے ہوئے اس جملے میں سمیٹا جا سکتا ہے ’’یہ بات اہم نہیں کہ دو روز میں کتنا بخار کم ہوا، اہمیت اس بات کی ہے کہ اگر دوا نہ لی جاتی تو مریض کا آج کیا حال ہوتا‘‘۔ مرکزی بینک کے سربراہ کی مذکورہ گفتگو کا محور برآمدات کی صورتحال تھی جس سے ان کاوشوں کو سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے جو معیشت کو ’’آئی سی یو‘‘ سے نکالنے کے لئے موجودہ حکومت کے دور میں کی گئیں اور جن پر اب بھی غیر معمولی توجہ درکار ہے، مثال کے طور پر وطن عزیز میں اس وقت جی ڈی پی کے لحاظ سے برآمدات کا تناسب دس فیصد سے بھی کم کی مایوس کن سطح پر ہے۔ یہ ایسی صورتحال ہے جس میں پاکستان غریب کہلانے والے ملکوں افغانستان، یمن، سوڈان اور ایتھوپیا کیساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ ہماری برآمدات موجودہ سطح سے کم از کم دگنی ہونا ضروری ہیں جن کیلئے مختلف جہتوں میں اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ہمیں برآمدی اشیا کی پیداوار بڑھانے اور ان میں جدت لانے پر توجہ دینا ہوگی۔ ڈاکٹر رضا کے مطابق جس ایکسچینج ریٹ کے تعین پر خاصی تنقید کی گئی وہ اگر 2017میں نافذ کر دیا جاتا تو ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا نہ پڑتا۔ ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ کی سطح پر لانے سمیت کئی مشکل فیصلے نہ کئے جاتے تو صورتحال زیادہ سنگین ہوتی مگر آج کی صورتحال اس اعتبار سے یقیناً حوصلہ افزا ہے کہ اب ڈیفالٹ کی بات کوئی نہیں کرتا۔ مرکزی بینک کے سربراہ نے برآمدات بڑھانے کیلئے متعدد اقدامات اور سہولتوں کی نشاندہی کی جن سے حوصلہ افزا نتائج متوقع ہیں۔ برآمدات میں اضافہ پاکستانی معیشت کی ایسی ناگزیر ضرورت ہے جس پر زیادہ تندہی سے کام کیا جانا چاہئے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

تازہ ترین