آپ آف لائن ہیں
بدھ یکم رمضان المبارک 1442ھ14؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’’بچپن‘‘، چار حروف کے اس مجموعے میں جیسے زندگی کی تمام تر رعنائیاں، معصوم شرارتیں، اٹکھیلیاں، نادانیاں، حماقتیں، کام یابیاں، ناکامیاں، خوشیاں، روٹھنا منانا، تجسّس،سیکھنا سکھانا، لڑائی جھگڑے، تا عُمر قائم رہنے والی دوستیاںاور اَن گنت سنہری یادیں پنہاں ہیں۔ اسکول نہ جانے کی ضدپر امّاں سے ڈانٹ، ہوم وَرک نہ کرنے پر ٹیچر کا ڈر، قاری صاحب کا خوف، قاعدہ ختم ہونے اور سپارہ شروع ہونے کی خوشی، شام کے وقت دوستوں کے ساتھ خُوب ہلّہ گُلّہ ، شور شرابا، گھنٹوں تتلیاں پکڑنے کی کوشش کرنا،ریت کے گھروندے بنانااور، اور، اور…کتنا سہاناتھا ناں ہمارا بچپن؟؟آج بھی دل کرتا ہےکہ کاش ! بس ایک بار اُن دِنوں ، لمحوں کو پھر سےجینے کا موقع مل جائے۔ 

اے کاش! وہ بے فکری کے دن پھر لوٹ آئیں۔لیکن، شایدہم ہی وہ آخری نسل ہیں، جن کا بچپن ، سنہرے دِنوں، مسکراہٹوں، شرارتوں، خوشیوں اور بے فکری سے عبارت رہا کہ ہمارے بچّے تو انسانوں کے اس حیوانی معاشرے میں محفوظ ہی نہیں ۔ اُنہیں کیا خبر کہ گلی، محلّوں میں کھیلنے کی خوشی کیا ہوتی ہے کہ ان گلی محلّوں سے تو انہیں اغواء کرلیا جاتا ہے، انہیں کیا پتا، محلّے کا دُکان دار سب بچّوں کا چاچو ہوا کرتا تھا کہ وہ تو اس ’’چاچو‘‘ کے ہاتھوں درندگی کا شکار ہو رہے ہیں، وہ کیا جانیں،اپنائیت کا گھناؤنا رُوپ دھارے ، جن بڑوں کو وہ اپنا سمجھ کر اُن کے ساتھ ٹافی، چاکلیٹ لینے جا رہے ہیں، وہ وحشی در اصل اُنہیں اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر اُن سے ، اُن کابچپن ہی چھین لیں گے۔ 

ارے، ان معصوموں کو کیا خبر کہ گلی کے جس کتّے کے خوف سے وہ اپنےکسی نام نہادرشتے دارکی انگلی پکڑ رہے ہیں، وہ خالو، پھوپھا، ماموں یاچچا توکسی بھیڑیے سے بھی بڑا درندہ ہے، جو انہیں صرف اپنی درندگی کا نشانہ ہی نہیں بنائے گا،بلکہ اُس کے بعدکنویں، کھیت یا کھنڈر میں مرنے کے لیےبھی چھوڑ آئے گا۔ ذرا سوچیے، اس سے زیادہ افسوس ناک بات اور کیا ہوگی کہ ہمارے معاشرے کے بچّے، اپنے بچپن کو یاد نہ کرنا چاہیں۔ اُس سے خوف زدہ ہوں، تتلیاں پکڑنے کی عُمر میں،اُن کی شخصیت مسخ کر دی جائے۔ ہم تو بس اتنا جانتے ہیں کہ جس معاشرے میں بچّے محفوظ نہ ہوں، اُس معاشرے کی بد بختی و بدقسمتی پر خون کے آنسو بھی بہائے جائیں، تو کم ہیں۔

جنوری 2018ءکو قصور کی چھے سالہ زینب روز کی طرح قرآن پڑھنے تو گئی، لیکن گھر واپس نہ لوٹی۔ تلاش شروع ہوئی تو 9جنوری کو ننّھی پَری کی تشدّد زدہ لاش ملی،جسے زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔شاید یہ کیس بھی دیگر کیسز کی طرح پولیس فائلز یا قصور کی گلیوں میں کہیں گُم ہو جاتا، مگربات سوشل میڈیا تک جا پہنچی، جہاں سے زینب قتل کیس نے اپنی جڑیں مضبوط کیں اور عوام کے شدید ردّ ِ عمل پر ترجیحی بنیادوں پر کیس کی تحقیقات کا آغاز ہوا۔جب زینب کا مجرم گرفتار ہوا تو معلوم ہوا کہ وہ اس علاقے کی مزید 12بچّیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا چُکاہے۔ 17اکتوبر 2018ء کو اِس انسان نما درندے، عمران کو پھانسی دے دی گئی۔ 

درندگی کا شکار ہمارا ’’مستقبل‘‘
سدرہ

زینب قتل کیس اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں اور نہ ہی مجرم کی سزا کے بعد اس طرح کے واقعات میں کوئی کمی واقع ہوئی کہ ہنوز یکے بعد دیگرے اسی نوعیت کےمختلف واقعات سامنے آرہےہیں۔نومبر 2019ء میں راول پنڈی کے علاقےڈھوک چوہدریاں سے درندگی کے ایک ایسے واقعے کی خبر سامنے آئی کہ جس نے سگے رشتوں تک کو مشکوک کر دیا۔ ذرا سوچیں،جب معصوم کلیوں کے لیے اُن کا گھر، والدین کی چھپّر چھایا بھی محفوظ نہ رہے، توپھر بھلا تحفّظ کہاں ملے گا کہ 7سالہ سدرہ کو اُس کےسگے چچا نے زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کیا۔سدرہ کے والد نوراللہ نے پولیس کو بتایا کہ ’’جب مَیں کام سے واپس آیا، تو گھر کا دروازہ کھلا ہوا اور بیوی سوئی ہوئی تھی۔ 

درندگی کا شکار ہمارا ’’مستقبل‘‘
انسان نما درندہ، ولی اللہ خان

مَیں نے دیکھا کہ بچّی مُردہ حالت میں کمرے کے باہر پڑی ہے۔‘‘ پوسٹ مارٹم میں بچّی سے زیادتی اورقتل کی تصدیق ہوئی۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کی روشنی میں بچّی کے چچا ، ولی اللہ خان کو گرفتار کرکے ڈسٹرکٹ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا تو، بھتیجی کو زیادتی کا نشانہ بنا نے والے درندہ صفت انسان نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے کہا کہ’’ فحش فلمیں دیکھ کر میرا ذہن خراب ہوا اور مَیں سمجھ ہی نہیں پایا کہ جس بچّی کے ساتھ شرم ناک حرکت کرنے جا رہا ہوں، وہ میری سگی بھتیجی ہے۔ مَیں نےاس سے قبل بھی ایک بار سدرہ کو پکڑنے کی کوشش کی، مگر تب میری بھابھی جاگ گئی تھی۔ 

لیکن اس بار مَیں نےاس کےمنہ پر ہاتھ رکھ دیا ، تاکہ اُس کی آواز نہ نکل سکے اور اسی دوران دَم گُھٹنے سے اس کی موت واقع ہوگئی ۔ مَیں اس حرکت پر اپنے بھائی ، بھابھی سے معافی مانگتا ہوں اورعدالت سے بھی معافی کا طلب گار ہوں ۔‘‘لیکن کیا دنیا کی کسی بھی عدالت کو ایسے سفّاک درندے کو معاف کرنے کا اختیار ہونا چاہیے اور کیا بچّی کے والدین کو ایسے غلیظ ، بد کردار انسان کے منہ پر تھوکنا بھی چاہیے۔ گزشتہ برس بچّوں کے ساتھ زیادتی کے، جن میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں، ایسے ایسے دل خراش واقعات سامنے آئے کہ اگر مجرموں کو سو باربھی پھانسی دی جائے، تو کم ہے۔عقل سمجھنے سے قاصر ہے کہ آخر یہ لوگ کس ذہنی کیفیت میں ایسی غیر انسانی حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں۔

جنوری 2020ء، زینب قتل کیس کے ٹھیک 2 سال بعد، صوبہ خیبر پختون خوا کے ضلع، نوشہرہ میں آٹھ سالہ اوزِ نور اپنی بہن کے ساتھ سہ پہر 3 بجے سپارہ پڑھ کر واپس آرہی تھی کہ محلّے کے ایک لڑکے نے اسے روکااور کچھ دلانے کا لالچ دیا۔ چھوٹی بہن گھر چلی گئی اور وہ اسے بہلا پُھسلا کر ساتھ لے گیا ۔تھوڑی ہی دیر بعد ہر طرف نور کی تلاش شروع ہوگئی، توملزم بھی گھر والوں کے ساتھ مل کربچّی کو تلاش کرتا بلکہ گھر والوں کو گم راہ کرتا رہا، پھر اوزِنور کی چھوٹی بہن نے بتایا کہ’’یہی لڑکا تو نور کواپنے ساتھ لے گیا تھا۔‘‘بالآخر ایک جگہ سےبچّی کا دوپٹا اور پانی کی ٹینکی سے اُس کی لاش بر آمد ہوگئی ۔

جس جگہ سے لاش ملی، وہ جگہ نور کے گھر سے محض دس منٹ کے فاصلے پر تھی، لیکن یہ جگہ نسبتاً خالی اور ویران تھی ۔ملزم لڑکا مقامی افراد کے گھروں میں کام کرتا تھا اور اس کی عُمر 18 سال کے لگ بھگ ہے، گرفتاری پر اس نے بتایا کہ وہ اس جرم میں اکیلا نہیں ،رفیق نامی ٹیکسی ڈرائیور بھی اس کے ساتھ شریک تھا۔دونوں ملزمان میں سے ایک نے تو بچّی کے ساتھ زیا دتی اور قتل کا اعتراف کرلیا ہے، جب کہ ایک کااعترافِ جرم ابھی باقی ہے۔

درندگی کا شکار ہمارا ’’مستقبل‘‘
سلمان خان

10 جنوری 2020ء کومردان کی تحصیل، تختِ باہی میں نویں جماعت کا پندرہ سالہ، سلمان خان جمعےکی نماز پڑھنے گھر سے نکلا ، مگر واپس نہیں لوٹا۔ پندرہ، سولہ دِنوں بعد جب گاؤں کے بچّے کھیتوں سےگھاس کاٹنے گئے ،تو انہیں ایک لاش نظر آئی، جسے جانور آدھےسےزیادہ کھا چکے تھے،چہرےکی جگہ صرف کھوپڑی بچی تھی۔معصوم بچّے کی لاش کی حالت تک اتنی بُری تھی کہ اس کے والدین نے بچے کُھچےکپڑوں اور جوتوں کی مدد سے بمشکل پہچانا۔تحقیقات کے بعد پتا چلا کہ بچّے کو زیادتی کا نشانہ بنا کر کھیت میں پھینکا گیا۔ 

جنوری ہی میں نوشہرہ میں 9دِنوں میں بچیوں کے ساتھ زیادتی کا 5واں واقعہ پیش آیا۔ ٹیٹارہ میں سفّاک ملزم نے چار سالہ ، حیا نور کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی اور فرار ہوگیا۔ زوجہ نعیم خان سکنہ ٹیٹارہ نے پولیس کو رپورٹ درج کرواتے ہوئے بتایا کہ’’ میری چار سالہ بیٹی، حیا نور بازار سے چیز خریدنے گئی ،کافی دیر تک گھر واپس نہیں لوٹی، تو میں اُس کی پیچھے گئی اور اس کو ڈھونڈنے کے لیے پہلےآواز یں دیں، پھر چیخ و پکار شروع کردی۔ اسی دوران حیا نور روتی دھوتی، حواس باختہ سی کھیت سے نکل آئی،جب کہ ملزم شہزاد جائے وقوعہ سے بھاگتا دِکھائی دیا ۔‘‘

درندگی کا شکار ہمارا ’’مستقبل‘‘
مدیحہ

ہنگو میں تھانہ دوآبہ کے علاقے سروخیل سے لاپتا ہونے والی7سالہ بچّی ، مدیحہ کی لاش ، 16 فروری 2020ء کو کھیتوں سے برآمد ہوئی ۔ ہنستی کھیلتی، شرارتیں کرتی، مدیحہ بنتِ عُمر خان شام کے وقت محلّے میں واقع ایک دُکان سے کھانے کی کوئی چیز خریدنے گئی ،جب کافی وقت گزر گیا اوروہ واپس نہ لَوٹی تو، محلّے میں اس کی تلاش شروع ہوئی۔ بعدازاں، کھیتوں سےاُس کی تشدّد زدہ لاش بر آمد ہوئی۔ 

جب مدیحہ کی لاش ،پوسٹ مارٹم کے لیےڈسٹرکٹ اسپتال ،ہنگو بھیجی گئی تو رپورٹ میں بچّی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کرتے ہوئے یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ننّھی کلی کو پہلے چاقو کے وار سےاوربعد میں گولیاں برسا کر قتل کیا گیا۔ واضح رہے کہ یہ غیر انسانی واردات کرنے والا ، الیاس نامی مجرم بچّی کاقریبی رشتے دار ہےاور ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران ہی اس نے مدیحہ سے زیادتی کے بعد قتل کا اعتراف بھی کرلیا ہے،جب کہ مقا می جر گے نے بھی اس کا گھر نذر ِآتش کرنے کے ساتھ خاندان کو علاقہ بدر کر نے کا حکم دیا ہے ۔

اسی طرح کچھ روز قبل راول پنڈی میں بھی ایک ایسا دل خراش واقعہ سامنے آیا، جو انسانوں کے اس معاشرے میںحیوانیت کی ایک ہول ناک مثال ہے۔ایک 14سالہ بچّی،جو اپنے والد اور سوتیلی ماں کے ساتھ رہتی تھی، گھریلو ناچاقی کی وجہ سے اُس کی سوتیلی ماں گھر چھوڑ کر چلی گئی، تو باپ کے کام پر جانے کے بعد وہ بچّی گھر میں اکیلی رہتی۔ ایک محلّے دار نے باپ کے آنے جانے کے اوقات پر نظر رکھی اور پھر ایک روز گھر میں داخل ہو کر اُسے زیادتی کا نشانہ بناڈالا۔مگر ساتھ ہی یہ کہہ کر خاموش کروا دیا کہ اگر کسی کو کچھ بتایا توباپ کو قتل کردےگا۔درندگی دیکھیے کہ یہ سلسلہ وہیں نہیں رُکا، بلکہ چند روز بعد وہ اپنے ایک دوست کو بھی ساتھ لے گیا اور پھر دونوں نے معصوم بچّی کے ساتھ زیادتی کو معمول بنا لیا۔ 

وحشیوں کو اکیلے گھر میں آتا جاتا دیکھ کر محلّے کے ایک بزرگ کا ماتھا ٹھنکااور ایک روز انہوں نے دونوں لڑکوں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا، لیکن ’’بزرگی‘‘ کا رُوپ دھارے یہ حیوان بھی واقعہ رپورٹ کرنے کے بجائے، جرم میں با قاعدہ حصّے دار بن گیا۔ قریباً 6ماہ تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ایک روز جب بچّی کی طبیعت بگڑ ی اوراس کا طبّی معائنہ کروایا گیا، تو پتا چلا کہ وہ حاملہ ہے، جس پر ساری حقیقت آشکا ر ہوئی اور باپ نے ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی ۔ اب وہ تینوں شیطان پولیس کی حراست میں ہیں۔ذرا سوچیں کہ اس پورے عرصے میںبچّی کس ذہنی و جسمانی اذیت سے گزری ہوگی، ملزمان تو پکڑ لیے گئے، شاید انہیں سزا بھی مل جائے، لیکن جو گھاؤ بچّی کی روح پر لگے ہیں، کیا وہ کبھی بَھر پائیں گے؟ 

کیا اب وہ بچّی کسی بزرگ، بڑے کو بھی شفیق، مہربان سمجھ سکے گی…؟؟ کسی سال کا اس سے بُرا آغاز اور کیا ہو سکتا ہےکہ قریباً ہر روز ہی بچّوں کو ہراساں کرنے، بد فعلی اور زیادتی کے واقعات کی خبریں سامنے آئیں۔ہمیں تو ایسا گمان ہورہا ہے، انسانوں کے اس معاشرے میں انسانیت ہی نایاب ہو گئی ہےکہ سال توبدل رہے ہیں، بچّوں کے حالات نہیں۔ ؎ ظلم کرتے ہوئے وہ شخص لرزتا ہی نہیں… جیسے قہّار کے معنی وہ سمجھتا ہی نہیں…ہندو ملتا ہے، مسلمان بھی، عیسائی بھی… لیکن اس دَور میں انسان تو ملتا ہی نہیں۔

درندگی کا شکار ہمارا ’’مستقبل‘‘
اوزِ نور

ایک غیر سرکاری تنظیم ،ساحل کی ایک رپورٹ کے مطابق 2019ء کے صرف پہلے چھے ماہ میں پاکستان میں 1300بچّوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گيا۔رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 652، سندھ میں 458، بلوچستان میں 32، خیبرپختون خوا میں 51، اسلام آبادمیں 90، آزاد کشمیر میں 18اورگلگت بلتستان میں 3 بچے جنسی تشدد کا نشانہ بنے۔واضح رہے کہ یہ اعدادو شمار جنوری 2019 ء تا جون 2019ء کے ہیں اور یہ وہ واقعات ہیں، جوباقاعدہ رپورٹ ہوئے۔ یعنی حقیقی اعدادو شمار کا اندازہ لگانا بھی ہمارے لیے ممکن نہیں۔ نہ جانے کتنی زینب، کتنی اوزِ نور ، کتنے سلمان ، وَرک شاپس، گلی، محلّوںاور گھروں وغیرہ میں درندگی کا نشانہ بن کر اپنا بچپن کھو دیتے ہیں اور سسٹم پر بھروسے کا یہ عالم ہے کہ بچّوں کےساتھ زیادتی و ہراسانی کے بیش تر واقعات اوّل توپولیس میں درج ہی نہیں کروائے جاتے کہ ان میںزیادہ تر قریبی رشتے دار، استاد یا ہمسائےوغیرہ ملوّث ہوتے ہیں، تو والدین اپنی دوستیوں، خاندان کی عزّت اور رشتوں کوبچّوں پر فوقیت دیتے ہیں۔

درندگی کا شکار ہمارا ’’مستقبل‘‘
پروفیسر ڈاکٹر محمّد اقبال آفریدی

دوم، اگر مقدمات درج ہو بھی جائیں، تو اَن گنت قانونی پیچیدگیوں کے باعث یا تو کیس واپس لے لیا جاتا ہے یا پھر مجرم ضمانت لے کر ایک بار پھر دندنا تا پھرتا ہے۔ یوں ننّھے پھولوں کے لیے مدرسہ، اسکول اور کبھی کبھار اپنا گھر بھی محفوظ نہیں رہتا۔ایک بات تو طے ہے کہ کوئی ذی شعور انسان ، اس طرح کی غیر انسانی سر گرمیوں میں ہر گز ملوّث نہیں ہو سکتا۔ بچّوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے والوں کی ذہنی صحت اور رویّے کے حوالے سے ہم نے سربراہ، شعبۂ طبّ ِ نفسیات و علومِ رویّہ جات،جناح اسپتال ،ڈاکٹر محمّد اقبال آفریدی سے بات چیت کی، تو ان کا کہنا تھا کہ ’’ ایسے افراد کی ذہنی صحت قطعی درست نہیں ہوتی،وہ خود فرسٹریشن کا شکار ہوتے ہیں بلکہ اکثر اوقات ایسے واقعات میں وہی لوگ ملوّث ہوتے ہیں، جو خود بچپن میں اس طرح کی کسی زیادتی کا شکار ہوئے ہوں، تو وہ دوسروں سے بدلہ لینے میں ذہنی سکون محسوس کرتے ہیں۔ 

ویسے ان واقعات میں اضافے کی کئی وجوہ ہیں، جیسے بے جا خواہشات ، نمود و نمائش کی وجہ سے شادی اور نکاح مشکل ہوجانا وغیرہ، تو ایسے لوگ اپنی فرسٹریشن مٹانے کے لیے بھی غلط راستے کا انتخاب کرلیتے ہیں۔ مزید برآں، ایسی فلمیں، ڈرامے بنانے سے بھی گریز کیا جائے، جن سے معاشرے میں گم راہی پھیلے۔ ‘‘ ’’ان لوگوں کی تربیت کیسے کی جا سکتی ہے؟‘‘اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر آفریدی نے کہا ’’ہم خنزیر کا گوشت نہیں کھاتے، کیوں کہ بچپن ہی سے سکھایا جاتا ہے کہ وہ حرام ہے، بالکل اسی طرح بچپن ہی سے یہ تربیت دینی چاہیے کہ معاشرے میں رہنے کے کیااطوار ہیں، بچّوں سے کس طرح پیش آنا چاہیے، ان کی حفاظت کرنی چاہیے ،نہ کہ اُن کے ساتھ نا مناسب حرکات کی جائیں۔ دوسری جانب بچّوں کو بھی والدین کی جانب سے بتایا جانا چاہیے کہ ’’گُڈ اور بیڈ ٹچ‘‘کیا ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی ان کے ساتھ بدتمیزی، کوئی غیر اخلاقی حرکت کرے ، تو وہ فوراً اپنے والدین یا کسی قابلِ اعتماد بڑے کو بتائیں۔‘‘

درندگی کا شکار ہمارا ’’مستقبل‘‘
ایڈووکیٹ ، ضیاء اعوان

یہ کیسز زیادہ رپورٹ کیوں نہیں ہوتے اور اگر ہوتے بھی ہیں، تو ملزمان بچ کیوں جاتے ہیں؟ہمارے اس سوال پر انسانی حقوق کے وکیل اور مددگار ہیلپ لائن کے سربراہ، ایڈوکیٹ ضیاء اعوان کا کہنا ہےکہ ’’ہمیں اپنا کرمنل جسٹس سسٹم اَپ ڈیٹ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ سسٹم لوگوں کی توقعات کے مطابق نہیں ۔مَیں آج کل یو این ، ویمن پروگرام اوروکلاء برائے انسانی حقوق و قانونی امدادکے ساتھ مل کر ایک تربیتی پروگرام کر رہا ہوں، جس میں 2006ءسے2019ء تک پاکستان میں خواتین پر تشدّد اور بچّوں کے حقوق کے حوالے سے بننے والے قوانین کے حوالے سے وکلاء، پراسیکیوٹرز وغیرہ کو تربیت دی جارہی ہےاور اس حوالےسے اُنہیں نئے قوانین سے متعلق آگاہ کیا جا رہا ہے۔ یہ تربیتی پروگرام، کراچی، کوئٹہ، دادو، خیر پور اور راول پنڈی میں جاری ہے اور آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ ہمارے 98فی صد وکلاء ، پراسیکیوٹرز وغیرہ کو نئے قوانین کا پتا ہی نہیں ہے۔ 

اب ذرا سوچیں کہ جب صوتِ حال یہ ہو، تو وہ درست فیصلے کیسے دیں گے۔ ہمارے کرمنل جسٹس سسٹم کو انجیکشن کی نہیں، سرجری کی ضرورت ہے۔ بچّوں سے زیادتی کے زیادہ واقعات اس لیے پیش آ رہے ہیں کہ ہم بس قوانین بنائے جا رہے ہیں،اُن پر عمل در آمد نہیں ہوتا، کیوں کہ سماجی فلاح و بہبودسیاست دانوں کی ترجیح ہی نہیں ۔ سعودی عرب سے امداد لے لو، قطر سے امداد لے لو، بس یہی ہو رہا ہے۔ یہ امداد سماج پر تو خرچ نہیں ہو رہی،جب ہمارےبچّے ہی محفوظ نہیں ہیں، تو مستقبل کیا محفوظ ہوگا۔‘‘ واقعی یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ جب ہماری نسلِ نو ہی محفوظ نہیں، تو ہم یہ گمان کیسے کر سکتے ہیں کہ ہمارا آنے والا کل روشن یا تاب ناک ہوگا۔

درندگی کا شکار ہمارا ’’مستقبل‘‘
مولانا کوکب نورانی اوکاڑوی

اس ضمن میں ہم نے معروفِ عالمِ دین، مولانا کوکب نورانی سے سوال کیا کہ’’مساجد ، مدارس،خطبات ،تقاریر وغیرہ میں شخصیت سازی پر کتنا زور دیا جاتا ہے کہ ایسے غیر انسانی رویّوں کو روکا جا سکے؟ ‘‘ تو اُن کا کہنا تھا کہ ’’مساجد وغیرہ میں نماز کے بعد درس دیا جاتا ہے، جہاں اخلاقیات کی تعلیمات بھی دی جا تی ہیں۔ بچّوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی چند بنیادی وجوہ یہ ہیں کہ آج کل والدین بس کمانے کی دَوڑ میں لگے ہیں، انہیں کوئی پروا ہی نہیںکہ بچّے کہاں جارہے ہیں، کس سے بات کر ہے ہیں، کس سے مل رہے ہیں ۔ 

دوسری جانب حکومت بھی اس حوالے سے لا تعلق ہی نظر آتی ہے۔ سیدھی سی بات ہے، جب انتظامیہ مُلک یا شہر میں امن و امان قائم کر نا چاہتی ہے، تو ہو جاتا ہے۔ کوئی بیرونِ ممالک سے وی وی آئی پی دَورے پر آئے تو سیکیورٹی بڑھا دی جاتی ہے۔ یعنی جب ، جو کام کرنے کی چاہ ہوتی ہے، وہ کام یابی سے ہو ہی جاتا ہے، تو بچّوں کی حفاظت کے حوالے سے کوئی اقدام کیوں نہیں کیا جا رہا۔ صرف سخت قوانین بنانے سے کچھ نہیں ہوگا، جب تک ان پر سختی سے عمل در آمد نہ ہو۔پھروالدین بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان کی اصل کمائی روپیا ، پیسا نہیں، اُن کے بچّے ہیں۔ جب انہیں ہی اپنی ’’کمائی ‘‘کی فکر نہیں، تو کوئی اورکیا کر سکتا ہے۔‘‘

یوں توکسی بھی مہذّب مُلک یا معاشرے میں اس طرح کی درندگی کا کوئی واقعہ رونما ہی نہیں ہونا چاہیےکہ بچّے ریاست والدین اور معاشرے کی مشترکہ ذمّے داری ہیں، مگرانتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بچّوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں اکثر اوقات غفلت ، کوتاہی والدین یا گھر والوں ہی کی ہوتی ہے۔ جب مائیں جانتی ہیں کہ گلی، محلّوں میں انسانیت کا لبادہ اوڑھےدرندہ صفت لوگ گھوم رہے ہیں، تو وہ بچّوں کو اکیلے باہر جانے ہی کیوں دیتی ہیں؟ اگر کوئی بچّہ یہ شکایت کرے کہ اس سے کوئی بد تمیزی کر رہا ہے، تو والدین بچّے کو ڈانٹنے کے بجائےاُس شخص سے سختی سے بات کیوں نہیں کرتےکہ جس کی بچّے نے شکایت کی ہوتی ہے؟ 

دوسری جانب حکومتِ وقت کی صرف یہ ذمّے داری نہیںکہ قوانین بنا دے، بلکہ ان پر عمل در آمد بھی حکومت ہی کا کام ہے۔ کیا اب قوانین پر عمل در آمد کے لیے بھی کسی دوسرے مُلک سے امداد طلب کی جائے گی؟ ریاست کی ذمّے داری ہے کہ وہ بچّوں کو ایسا محفوظ ماحول فراہم کرے،جہاں وہ امن و سکون کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔موجودہ حالات کے پیشِ نظر یہ کہنے میں کوئی قباحت نظر نہیں آرہی کہ ہمارے ’’مستقبل ‘‘کو کسی پڑوسی مُلک سے نہیں، اپنوں ہی سے خطرہ ہے۔

’زینب الرٹ‘ ریسپانس ریکوری بِل منظور…

پارلیمان کے ایوانِ زیریں نے ’’زینب الرٹ، ریسپانس اینڈ ریکوری بِل 2019ء‘‘کی بھی متّفقہ طور پر منظوری دے دی ہے۔اس مسوّدۂ قانون میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی بچّے کے اغوا یا اس کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعےکا مقدمہ درج ہونے کے تین ماہ کے اندر اندر اس مقدمے کی سماعت مکمل کرنا ہو گی۔ 

بِل کے ذریعے پولیس کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ کسی بچّے کی گم شدگی یا اغوا کے واقعےکی رپورٹ درج ہونے کے دو گھنٹوں کے اندر اس پر کارروائی عمل میں لائی جائےاور اگر پولیس افسر قانون کے مطابق اس پر عمل درآمد نہیں کرتا، تو اس کا یہ اقدام قابلِ سزا جرم تصوّر ہو گا۔ بِل کا اطلاق فوری طور پروفاقی دارالحکومت اور بعد ازاں مُلک بھر میں ہوگا۔

’’مدّعی کی خاموشی، کیس کم زور کر دیتی ہے‘‘

ڈاکٹر محمّد امین یوسف زئی،ڈی آئی جی (ویسٹ)، کراچی

بچّوں کے ساتھ زیادتی و ہراسانی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں ڈی آئی جی ویسٹ، کراچی سے بات چیت کی گئی تو اُن کا کہنا تھا کہ’’ ایسے زیادہ تر واقعات پس ماندہ علاقوںمیں پیش آتے ہیںاور اس کی بنیادی وجہ تعلیم کی کمی اور والدین کی عدم توجّہی ہے۔ ایسےعلاقوں میں والدین کا بچّوں پر زیادہ دھیان یا کنٹرول نہیں ہوتا کہ شام ڈھلے تک گلی، محلّوں میں چھوٹے چھوٹے بچّے کھیلتے نظر آتے ہیں اور پھر ایسے میں کوئی نا گہانی ہوجائے، توپھر لوگ واویلا کرتے ہیں کہ ہمارے بچّے محفوظ نہیں۔

نیز، واقعے کے بعد ہم کیس کی تفتیش شروع کرتے ہیں، تو اکثر کیسز میں بچّوں کی فیملیز ہم سے تعاون نہیں کرتیں۔ یاد رکھیں، ملزم کو حراست میں لے بھی لیا جائے، ثبوت و شواہد بھی اکٹھے ہو جائیں، مدّعی یا بچّے کا خاندان اگر خاموش رہے گا، تو کیس کمزورہو جائےگا۔ ایسے حالات میں ہم چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پاتے۔ہم زیادتی کے شکار بچّوں سےبے حد احتیاط سے بات کرتے ہیں کہ ان معصوموںکو تو ویسے ہی کئی طرح کے نفسیاتی مسائل کا سامنا ہوتا ہے، ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ان کے جذبات مجروح نہ ہوں۔ 

علاوہ ازیں، کچھ کیسز میں ٹیچرز، قاری حضرات بھی ملوّث پائے گئے ہیں ، تو والدین با لخصوص ماؤں کو چاہیے کہ ٹیوشنز وغیرہ پڑھواتے ہوئے بچّوں کو ایسے کمرے میں بٹھائیں، جہاں وہ ان کی نظروں کے سامنے رہیں۔بچّوں کو ہرا سانی سے متعلق مکمل آگہی فراہم کریں۔دوسری جانب ہم سب کو ایک ذمّے دارشہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے پس ماندہ علاقوں کے والدین اور بچّوں دونوں کو تعلیم دینی چاہیے، ان میں شعورو آگہی بیدار کرنی چاہیے تاکہ وہ مستقبل میں اپنے بچّوں کی بہتر حفاظت کر سکیں اور بچّے بھی ہر کسی پہ اعتبار نہ کرلیں۔‘‘

زیادتی کے مجرموں کو سرِعام پھانسی دینے کی قرارداد منظور

جہاں روز بہ روز بچّوں سے زیادتی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، وہیں اس وحشیانہ فعل کے خلاف ارکانِ اسمبلی بھی متّحد ہو گئے ہیں۔ جمعہ 7 فروری 2020ء کو قومی اسمبلی میں بچّوں کے ساتھ شرم ناک واقعات روکنے کے لیے مجرموں کوسرِ عام پھانسی دینے کی قرار دا منظور کی گئی۔ یہ قرار داد وزیرِ مملکت برائےپا رلیما نی امور، علی محمّد خان نے پیش کی تھی، جسےایوان نے کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔ 

البتہ ، پاکستان پیپلز پارٹی نے قرار دا د کی مخالفت کی۔ قرار داد پررکنِ اسمبلی ،عمران خٹک ، اعجاز شاہ اور مولانا عبدالاکبر چترالی سمیت چھے ممبران کے دستخط ہیں۔ اس موقعے پر علی محمّد خان نے کہا کہ’’ یہ قراردداد اللہ تعالیٰ نے منظور کروائی ہے، جو چاہتا ہے کہ مُلک میں قرآن و سنّت کا نظام نافذ ہو،مَیں ایوان کو سلام پیش کرتاہوں۔یہ معاملہ انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی میں بھی زیرِ بحث آیاتھا، لیکن پیپلز پارٹی نے سزائے موت کی تجو یز سے اتفاق نہیں کیا۔ ‘‘پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ’’جن عالمی چارٹرز پر پاکستان نے دستخط کیے ہوئے ہیں، وہ سرِعام پھانسی کی اجازت نہیں دیتے۔ 

معصوم بچّوں سے زیادتی کے ملزم کو عُمرقید کی سزادیں اورضمانت نہ ہونے دیں، تاکہ وہ ساری عُمر جیل میں رہے۔سرِعام پھانسی کی تجویز پرغور وفکر کرلیں ، اس سزا سے کئی ممالک ناراض ہوسکتے ہیں۔سزائیں زیادہ کرنے سے جرائم ختم نہیں ہوتے، جن جرائم کی سزا موت ہے ،کیا وہ رُک گئے…؟؟ ‘‘دوسری جانب تحریک ِانصاف کے دووزراء نے بھی سرِعام پھانسی کی سزاکی مخالفت کی۔ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، فواد چوہدری نے کہا کہ ’’سرِعام پھانسی کے حوالے سے قرارداد کی بھرپور مذمّت کرتا ہوں۔‘‘ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ’’اس طرح کے قوانین تشدّد پسند معاشروں میں بنتے ہیں، بربریت سے آپ جرائم کے خلاف نہیں لڑسکتے۔

اس طرح کی سزائیں قبائلی معاشروں میں ہوتی ہیں، جہاں انسان اور جانور برابر ہیں۔ مہذّب معاشرے سزا سے پہلے جرم روکنے کی تدبیر کرتے ہیں۔ایسی سزاؤں سے معاشرے بے حس ہو جاتے ہیں اور سزا اپنا اثر کھو دیتی ہے۔‘‘ وفاقی وزیر برائےانسانی حقوق، شیریں مزاری نے بھی قرارداد کی مخالفت کی اورکہا کہ ’’یہ قرارداد پارٹی کی جانب سے پیش نہیں کی گئی بلکہ یہ ایک انفرادی فعل تھا، ہم میں سے کئی نے اس کی مخالفت کی اور میری وزارت بھی اس قرارداد کی مخالفت کرتی ہے۔‘‘

سنڈے میگزین سے مزید