آپ آف لائن ہیں
منگل6؍شعبان المعظم 1441ھ 31؍مارچ 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ہر سال یکم مارچ کو اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی سطح پر ’’امتیازی سلوک کے خاتمے کا دن‘‘ (Zero Discrimination Day) منایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد دنیا بھر کے لوگوں کو یہ باور کرانا ہے کہ ہر شخص عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق لے کر پیدا ہوا ہے۔ تاہم عالمی سطح پر اس حق کا تسلیم کیا جانا تب ہی ممکن ہےجب قول وفعل میںتضاد اور منافقت کو ختم کیا جائے، اس کے ساتھ کمزور اور طاقتور میں امتیاز کرنے کے بجائے ہر ایک فرد کے ساتھ ایک جیسا سلوک یا برتاؤ کیا جائے اور سب کے لیے انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ 

اس مقصد کی تکمیل کے لیے دنیا بھر میں آواز اٹھائی جارہی ہے اور کئی ممالک کی حکومتیں امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے سنجیدہ کوششیں بھی کررہی ہیں۔ امتیازی سلوک کے خاتمے کا دن لوگوں کو شعور دیتا ہے کہ وہ معاشرے سے اس برائی کو ختم کریں ، اس کے ساتھ انھیں پائیدار امن اور ریاستی تحفظ سے متعلق بھی آگاہی دی جاتی ہے۔

تاریخی اوراق پلٹیں تو پتہ چلتا ہے کہ مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے عدم مساوات اور امتیازی سلوک روا رکھنے کے سبب ہی تنزلی کا شکار ہوئے۔ لہٰذا دور جدیدمیں پائیدار ترقی کے خواہشمند تمام ممالک کو عدم مساوات اور امتیازی سلوک کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ قومی وعالمی سطح پر امتیازی سلوک کی کئی شکلیں ہوسکتی ہیں، جن میں سب سے اہم ’’صنفی امتیاز‘‘ ہے، جس کے خاتمے کے لیے دنیا بھر کے ممالک برسہا برس سے کوشاں ہیں۔

آج دنیا تسلیم کرنے لگی ہے کہ عورت معاشرے کا اتنا ہی اہم حصہ ہے جتنا کہ مرد۔ تاہم، اس کے باوجود عوامی سروے رپورٹس ظاہرکرتی ہیںکہ آج بھی خواتین کو صنفی امتیاز اور عدم مساوات کا سامنا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر، ہر معاشرے میں عورت اپنے جائز مقام اور مردوں کے مساوی حقوق حاصل کرنے کے لیے سخت جدوجہد کررہی ہے۔ 

یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ نے بھی رواں سال ’’امتیازی سلوک کے خاتمے کا دن‘‘ خواتین کے حقوق، احترام اور ان کی قائدانہ صلاحیتوں کے فروغ اور تحفظ کے لئے کوششوں کو تیز کرنے کیلئے مختص کیا ہے۔ آج کے دن اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایڈز(UNAIDS)کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں کے حوالے سے تمام تنوع میں پائے جانے والے امتیازی سلوک کو چیلنج کیا گیا ہے تاکہ دنیا بھر کی خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کو مساوی حقوق فراہم کرنے سے متعلق کی جانے والی کوششوں کی اہمیت کو اُجاگر کیا جاسکے۔

دنیا کہاں کھڑی ہے؟

اگرچہ گزشتہ چند سالوں کے دوران صنفی امتیاز کے خاتمے اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے راہیںہموار کرنے میں چند ممالک نے قابل تعریف پیشرفت کی ہے لیکن اس کی شرح کم ہونے کے باعث خواتین کے ساتھ برتا جانے والا امتیازی سلوک آج بھی معاشرے میں موجودہے۔ گزشتہ برس عالمی بینک کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں مردوں اور خواتین کو مساوی قانونی اور اقتصادی حقوق دینے والے ممالک کی تعداد صرف چھ ہے۔ 

ماہرین نے رپورٹ میں انکشاف کیا کہ 187ممالک کے مشاہدے کے بعد `مکمل مساوات صرف چھ ممالک میں ہی دیکھنے میںآئی۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مردوں کو ملنے والے حقوق کے مقابلے میں خواتین کو صرف 46.2فیصد حقوق ہی مل پاتے ہیں۔ اس حوالے سے عالمی بینک کی سابقہ سی ای او کرسٹالینا جورجیوا کا کہنا تھا،’’صنفی مساوات کے حصول کے لیے محض قوانین میں تبدیلی نہیں بلکہ ان پر عمل درآمد کی بھی ضرورت ہے‘‘۔

کرنا کیا ہوگا ؟

دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک خواتین کو زیادہ سے زیادہ بااختیار بنانے اورصنفی عدم مساوات، مساوی تنخواہوں اور ہراساں کرنے کے معاملات کو حل کرنے کے لئے تیزی سے پختہ پالیسیاں تشکیل دے رہے ہیں۔ یہ پالیسیاں مزید خواتین کو افرادی قوت میں شامل کرنے اور مخالف جنس کی طرح مساوات کے پیمانے پر کارکردگی دکھانے میں مدد فراہم کریں گی۔ ہمیں بھی ترقی یافتہ ممالک کی روش کو اپناتے ہوئے عورتوں کے لیے ’’یکساں مواقع اور مساوات ‘‘ کی فکر کو عام کرنا ہوگا اور معاشرے میں رچے بسے ثقافتی معمولات اور رویوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔

اس حوالے سے ایک بین الاقوامی رپورٹ میںکیے گئے انکشافات قابل غور ہیں، جس میں بتایا گیا ہے کہ کمپیوٹنگ کی فیلڈ میں صنفِ نازک کی تعداد 2025ء تک 22فیصد یا اس سے بھی کم ہوسکتی ہے اور اگر حالات یہی رہے تو خواتین کی تعداد مختلف فیلڈز میں بھی کم ہوگی جبکہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ان کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی۔ 

چنانچہ ہمیں اس طرز عمل کو ترک کرنا ہوگا اورلڑکیوں کی اوائل عمری سے ہی سائنس، کامرس اور تخلیقی شعبوں میں جانے کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی اور جب وہ اپنے کیریئر میں نمایاں مقام پر پہنچ رہی ہوں تو انہیں بااختیار بنانے اور بڑے خواب دیکھنے کی بھی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی۔ خواتین کو معاشرتی، معاشی اور سیاسی شعبوں میں زیادہ سے زیادہ حقوق اور تحفظ فراہم کرنا ہوگا تاکہ ترقی یافتہ معاشروں کی طرح ہم بھی صنفی توازن پیدا کرنے میں اپنا کردار بخوبی ادا کرسکیں۔

تعلیم سے مزید