آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍شعبان المعظم 1441ھ 5؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

فلم ایک طاقت ور میڈیم ہے،جسے دُنیا بھر میں حکومتی سرپرستی حاصل ہوتی ہے اور اسے مختلف ممالک اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں اس حوالے سے صورتِ حال بالکل مختلف اور افسوس ناک ہے۔ ماضی کی حکومتوں نے اس کی کبھی سرپرستی نہیں کی۔ پاکستان فلم انڈسٹری اپنی مدد آپ کے تحت آگے بڑھتی رہی۔کبھی وہ برق رفتاری سے ترقی کرتی رہی اور کبھی مشکلات کا شکار ہوگئی۔ پاکستان فلم انڈسٹری ایک مرتبہ پھر بے شمار مسائل کی گرفت میں آگئی ہے۔ 2019ء میں بالی وڈ موویز پر پابندی لگنے کے بعد اس کے مسائل میں اور اضافہ ہوا۔ فلم سازی کی رفتار تشویش ناک حد تک سُست ہوگئی۔ 2020ءکا تیسرا مہینہ شروع ہوگیا اور اب تک کوئی نئی فلم ریلیز نہیں ہو سکی، ایک جمود طاری ہے اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اگر کوئی پروڈیوسر کوئی فلم ریلیز کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اُسے سنسر بورڈ کی پابندی کا سامنا ہو جاتا ہے۔

گزشتہ برس 20 دسمبر کو ہدایت کار ذوالفقار شیخ کی فلم ’’سچ‘‘ ریلیز ہوئی تھی، اس کے بعد سے اب تک کوئی فلم ریلیز نہیں ہوسکی اور سینما گھر ویران پڑے ہیں، اتفاق سے کوئی اچھی ہالی وڈ فلم ریلیز ہو جاتی ہے، تو فلم بین سینما گھروں کا رُخ کرتے ہیں، ورنہ سینما میں سنّاٹوں کا راج ہوتا ہے۔ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے مالکان نے کئی جدید سینما بند کردیے اور جو سرمایہ دار نئے سینما تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، انہوں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ گزشتہ برس دسمبر میں فلم انڈسٹری کو جو جمود طاری ہوا، اسے تادم تحریر کسی نے نہیں توڑا۔ واضح رہے کہ 2019ء میں مئی سے اگست کے دوران11 فلمیں ریلیز ہوئیں، جب کہ سال بھر میں ریلیز ہونے والی فلموں کی کل تعداد 23تھی۔ کہاں گئے وہ ہدایت کار اورفلم ساز جو پاکستانی سینما مالکان سے شکایت کرتے تھے کہ ہمیں پاکستانی فلموں کے لیے سینما اسکرینز دستیاب نہیں ہوتیں، جب کہ بھارتی فلموں کو زیادہ اسکرینز دی جاتی ہیں۔اب تو بھارتی فلموں پر پابندی لگے ایک سال بیت گیا،ہمارے فلم ساز کس کا انتظار کر رہے ہیں۔ سیّد نور کے نام سے کون واقف نہیں۔ انہوں نے ہمیشہ بھارتی فلموں کی مخالفت کی۔ ان کے لیے سنہری موقع تھا کہ وہ بھارتی فلموں کی پابندی سے بھرپور فائدہ اُٹھاتے اور سال میں تین چار فلمیں ریلیز کر دیتے۔ ان کےپاس دو تین فلمیں ریلیز کے لیے تیار ہیں، مگر نہ جانے، وہ کس کا انتظار کر رہے ہیں۔ اداکار شان شاہد کی فلم ’’ضرار‘‘ کے لیے بھی یہ اچھا موقع تھا کہ وہ سینما گھروں کے سنّاٹوں کو دُور کرتے اور اپنی فلم ریلیز کرتے، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ سیّد نور، مصطفیٰ قریشی اورشان شاہد کو مخالفت برائے مخالفت چھوڑنا ہوگی۔ ان کوپاکستان فلم انڈسٹری کی سرپرستی کے لیے میدان عمل میں اُترنا ہوگا۔ اِن دنوں فلم انڈسٹری پر مایوسی نے اپنی گرفت مضبوط کر رکھی ہے۔ پاکستان فلم پروڈیوسر ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ امجد رشید نے چار فلمیں بنانے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے تمام تیاریاں بھی مکمل بھی کر لی تھیں، مگر جب انہوں نے موجودہ صورت حال دیکھی تو سارا کام روک دیا۔

جیو فلمز نے ہمیشہ پاکستان فلم انڈسٹری کے بُرے وقتوں میں ساتھ دیا۔ 20 جولائی 2007ء کو شعیب منصور کی ڈائریکشن میں جیو نے فلم ’’خدا کے لیے‘‘ ریلیز کی، یہ فلم سپرہٹ ثابت ہوئی، تو کئی نئے سینما گھر بنائے گئے اور اس کے بعد کئی فلم ساز بھی میدان میں آ گئے۔ 4 اپریل 2008ء کو ’’خدا کے لیے‘‘ بھارت کے 1200 سینما گھروں میں ریلیز کی گئی،جس کی وجہ سے بھارت میں فواد خان اور شان شاہد کی مانگ میں اضافہ ہوا۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ فواد خان نے اُٹھایا، جب کہ شان نے بالی وڈ جانے سے انکار کیا۔

تین برس کے وقفے کے بعد جیو اور شعیب منصور نے ایک اور شاہ کار فلم ’’بول‘‘ 24 جون 2011ء کو ملک بھر کے سینما گھروں میں ریلیز کی۔ ’’بول‘‘ نے غیرمعمولی مقبولیت حاصل کی اور مقبولیت کے کئی ریکارڈ توڑ دیے۔ ’’خدا کے لیے‘‘ کی طرح ’’بول‘‘ کو بھی بھارت کے سینکڑوں سینما گھروں میں ریلیز کیا، جس کا فائدہ ماہرہ خان کو ہوا۔ انہیں شاہ رُخ خان جیسے صفِ اوّل کے ہیرو کے ساتھ بطور ہیروئن کام کرنے کا موقع ملا۔ جیو اور شعیب منصور کا ساتھ فلم انڈسٹری کے لیے بہت خوش قسمت رہا۔ شعیب منصور نے اپنی تیسری فلم ’’ورنہ‘‘ بنائی تو انہیں جیو کا ساتھ میسر نہیں تھا، اور وہ فلم ناکام ثابت ہوئی تو شعیب منصور کی مقبولیت کا گراف بُری طرح نیچے آیا۔ یہ حقیقت ہے کہ جیو نے پاکستان فلم انڈسٹری کی آب یاری میں بے پناہ خدمات انجام دیں۔

آج کے فلم انڈسٹری کے نمایاں ہدایت کاروں کا تعلق ماضی میں جیو ٹی وی سے رہا ہے اور کچھ نے تو کافی عرصے جیو ینٹ ورک ہی میں ملازمت بھی کرتے رہے ہیں۔ ان میں قابلِ ذکر نوجوان ہدایت کار نبیل قریشی، ندیم بیگ، وجاہت رئوف، آبس رضا، یاسر نواز اور محسن علی شامل ہیں۔

آج 2020ء میں فلم انڈسٹری میں پھیلے مایوسیوں کے سایوں کو دُور کرنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ 2019ء کی سپرہٹ فلم ’’رانگ نمبر2‘‘ نے غیرمعمولی بزنس اور کام یابی حاصل کی۔ اس کے باوجود ہدایت کار یاسر نواز نے ڈائریکشن چھوڑ کر کراچی میں ایک ریسٹورنٹ کھول لیا ہے۔

پاکستان فلم انڈسٹری میں پھیلے مایوسیوں کے سایوں کو دور کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر جیو نیٹ ورک میدانِ عمل میں آ رہا ہے۔ 2020ء کی عیدالفظر پر پاکستان سے سب سے بڑی اور مہنگی فلم ’’دی لیجنڈ مولا جٹ‘‘ جیو فلمز ریلیز کررہا ہے۔ اس فلم کی ریلیز کا کئی دنوں سے بڑی بے تابی سے فلم بینوں کو انتظار ہے۔’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ کی ہدایات بلال لاشاری نے دی ہیں، جب کہ پروڈیوسر عمارہ حکمت ہیں۔ فلم کی کاسٹ میں ماہرہ خان، حمیمہ ملک، حمزہ علی عباسی اور فواد خان شامل ہیں۔ فلم کی کہانی مولا جٹ یعنی (فواد خان) اور نوری نت یعنی (حمزہ علی عباسی) کے گرد گھومتی نظر آتی ہے، جب کہ سپر اسٹار ماہرہ خان دل چسپ اور اہم کردار میں دکھائی دیں گی۔ ’’دی لیجنڈ مولا جٹ‘‘ میں فواد خان اور ماہرہ خان کی جوڑی ایک مرتبہ پھر سامنے آ رہی ہے۔ 

اس سے قبل اس جوڑی نے سپرہٹ ڈراما ’’ہمسفر‘‘ دیا تھا۔ جسے آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ فلم ناقدین کا کہنا ہے کہ ’’دی لیجنڈ مولا جٹ‘‘ ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دے گی۔ اس فلم کی دھماکا دار انٹری کے بعد عیدالفظر پر ریلیز ہونے والی دیگر فلموں کے پروڈیوسرز پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔جیو جس فلم کو بھی ریلیز کرتا ہے، اس کے لیے نت نئے انداز سے پروموشن کرتا ہے اورفلم کو سپرہٹ کروا دیتا ہے۔ نامور اداکار علی ظفر کی ’’طیفا اِن ٹربل‘‘ کا پروموشن تو سب کو یاد ہوگا۔ اس فلم نے عیدین پرریلیز نہ ہونے کے باوجود کروڑوں کا بزنس کیا۔ دُنیا بھر میں آج بھی اس فلم کی دُھوم ہے۔ سب کو اس فلم کے سیکوئل کا انتظار ہے۔

2020ء میں ریلیز ہونے والی دیگر فلموں میں ہمایوں سعید اور مہوش حیات کی ’’لندن نہیں جائوں گا‘‘ نبیل قریشی اور فضا علی مرزا کی ’’قائداعظم زندہ باد‘‘ جس میں ماہرہ خان اور فہد مصطفیٰ پہلی بار سینما اسکرین پر ایک ساتھ نظر آئیں گے۔ اس کی شوٹنگ مکمل ہو چکی ہے۔ اب ریلیز کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ دُوسری جانب شان شاہد بھی ’’ضرار‘‘ ریلیز کرنا چاہتے ہیں۔

پروڈیوسر شایان خان اور ہدایت کار فیصل قریشی کی فلم ’’منی بیک گارنٹی‘‘ کی شوٹنگ بھی کافی حد تک مکمل ہو چکی ہے۔ اس فلم کے ہیرو فواد خان ہیں، جب کہ عالمی شہرت یافتہ کرکٹر وسیم اکرم اور ان کی اہلیہ شنیرا اکرم پہلی بار سینما اسکرین پر نظر آئیں گے۔ فلم کے پروڈیوسر شایان نے دعویٰ کیا ہے کہ ’’منی بیک گارنٹی‘‘ رواں برس عیدالفظر پر ریلیز کی جائے گی۔ اس طرح فواد خان کی عیدالفطر پر ایک ساتھ دو فلمیں ریلیز ہوں گی۔

دُوسری جانب 2020ء میں ماہرہ خان کی بھی دوفلمیں ریلیز ہوں گی۔ وہ عیدالفطر پر فواد خان کے ساتھ اور عیدالاضحیٰ پر فہد مصطفیٰ کے ساتھ فلم میں جلوہ گر ہوں گی۔ ’’دردانہ ہیلپ می‘‘ جیسے ڈائیلاگ سے شہرت حاصل کرنے والی نامور اداکارہ عروہ حُسین نے بھی فلم سازی کے میدان میں قدم رکھ دیا ہے۔ ان کی فلم ’’ٹچ بٹن‘‘ میں سونیا حُسین، ایمان علی اور فیروز خان ایک ساتھ نظر آئیں گے۔ سرمد کھوسٹ کی ’’زندگی تماشہ‘‘ کے علاوہ ایک اور فلم ’’کملی‘‘ بھی ریلیز ہوگی۔ اس فلم میں منجھی ہوئی اداکارہ صبا قمر مختلف اور دل چسپ کردار میں سامنے آئیں گی۔ ان کے ساتھ ٹیلی ویژن کی معروف اداکارہ ثانیہ سعید بھی ہوں گی۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام پروڈیوسرز، بالی وڈ کی فلموں کے انتظار میں نہ بیٹھیں اور فلم سازی کے عمل کو تیز کریں۔ورنہ ایک مرتبہ پھر فلم انڈسٹری کو 1990 جیسی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید