آپ آف لائن ہیں
جمعرات24؍ذیقعد 1441ھ16؍جولائی2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آدھے سرکا درد.... خواتین کیوں زیادہ متاثر ہیں؟

آدھے سرکا درد یعنی ’دردِ شقیقہ‘ کو انگریزی میں ’مائگرین‘ (Migraine)کہا جاتا ہے اور اسی نام سے یہ معروف بھی ہے۔ درحقیقت دردِ شقیقہ کا انگریزی نام مائگرین یونانی اصطلاح ہیماکرینیا سے اخذ کیا گیا ہے جس کے معنی آدھی کھوپڑی کے ہیں۔ انسان جہاں عمومی سر درد کو برداشت کرلیتا ہے، وہیں دردِ شقیقہ بہت شدید ہوتا ہے اور بعض اوقات متاثرہ شخص کو شدید کمزوری کا شکار کر دیتا ہے۔ اس بیماری کی کوئی حتمی وجہ اب تک سامنے نہیں آ سکی ہے اور نہ ہی اس کا علاج۔

خواتین کا زیادہ متاثر ہونا

کچھ عرصہ قبل دنیا کے 195ممالک میں دردِ شقیقہ کے حوالے سے ایک مفصل سروے کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ یہ بیماری خواتین میں زیادہ عام ہے۔ عموماً، ہر15مردوں میں سے ایک کے مقابلے میں یہ مرض ہر 5میں سے ایک عورت میں پایا جاتا ہے۔ 

مردوں کے مقابلے میں خواتین میں اس بیماری کے زیادہ ہونے کی وجوہات واضح نہیں ہیں، تاہم 2018ء میں ایریزونا یونیورسٹی میں مادہ اور نر چوہوں پر کی گئی تحقیق میں کہا گیا کہ غالباً اس کی وجہ ایسٹروجن کی سطح اور سوڈیم پروٹون ایکس چینجرNHE1کی نچلی سطح کے مابین تعلق ہو سکتا ہے۔ محققین وضاحت کرتے ہیں کہ خواتین دردِ شقیقہ کا زیادہ شکار اس لیے ہوتی ہیں کیونکہ جنسی ہارمونز کا بڑے پیمانے پر اتار چڑھاؤ NHE1میں تبدیلی کا باعث بنتا ہے۔

تحقیق کی کمی

ایک بڑا عالمی طبی مسئلہ ہونے کے باوجود بدقسمتی سے دردِ شقیقہ پر بہت کم تحقیق کی گئی ہے اور اس کے لیے فنڈنگ بھی کم مختص کی جاتی رہی ہے۔ دردِ شقیقہ کو یورپ میں کسی بھی اعصابی بیماری کے مقابلے بہت ہی کم فنڈز دیے جاتے ہیں۔ 15فیصد امریکیوں کے دردِ شقیقہ سے متاثر ہونے کے باوجود وہاں 2017ء میں اس پر تحقیق کے لیے محض دو کروڑ20لاکھ ڈالر دیے گئے۔ حیران کن بات یہ بھی ہے کہ تاریخ میں ریکارڈ کی گئی قدیم ترین بیماریوں میں سے ایک ہونے کے باوجود ابھی تک دردِ شقیقہ کا علاج دریافت نہیں کیا جاسکا۔ معروف یونانی طبیب بقراط نے بھی اس بیماری کے بارے میں لکھا ہے۔

دردِ شقیقہ کے حوالے سے 19ویں صدی میں ماہرین کا ماننا تھا کہ اس کا تعلق غریب طبقے کی ماؤں سے ہوتا ہے، جن کے ذہن روز مرّہ کے کام، کم نیند، بار بار دودھ پلانے اور غذائی قلت کی وجہ سے کمزور ہوتے ہیں۔

20ویں صدی میں اس حوالے سے ایک نیا نظریہ سامنے آیا، جس کے مطابق دردِ شقیقہ کو جدید لگژری کا نتیجہ تصور کیا جاتا تھا، یعنی ایسی چیز جو اونچے طبقے کے مرد و خواتین پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس ماحول میں پلنے والوں کے بارے میں تصور کیا جاتا تھا کہ وہ نازک اعصاب کے مالک ہوتے ہیں۔ خواتین کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ دانشمندانہ کام کرنے کی صلاحیت کم رکھتی ہیں، جس کے نتیجے میں ان کا نازک اعصابی نظام فوراً شدید دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔

دردِ شقیقہ پر حالیہ تحقیق

تحقیق کے مطابق سر درد کی تکلیف اور ذہنی امراض کے درمیان ایک تعلق ہے۔ یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ دردِ شقیقہ درحقیقت مختلف نفسیاتی عوارض کے باعث ہوتا ہے۔ 2016ء میں ہونے والی ایک تحقیق میں دردِ شقیقہ اور بائے پولر ڈس آرڈر کے درمیان مثبت تعلق پایا گیا جبکہ دردِ شقیقہ سے متاثرہ لوگوں کے جنرل انزائٹی ڈس آرڈر سے متاثر ہونے کا خطرہ 2.5گنا زیادہ تھا، جبکہ ڈپریشن کے شکار افراد میں دردِ شقیقہ کا امکان تین گنا زائد تھا۔ 

ایک اور تحقیق کے مطابق دردِ شقیقہ سے متاثر ہر 6میں سے ایک فرد نے زندگی کے کسی نہ کسی موقع پر خودکشی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا تھا۔ یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے انسٹیٹیوٹ فار لائف کورس اینڈ ایجنگ کے ڈائریکٹر ایسمے فُلر تھامسن جو خود بھی دردِ شقیقہ کے خودکشی سے تعلق پر تحقیق کر چکے ہیں، کہتے ہیں کہ ’جب کسی شخص کو معلوم نہ ہو کہ دردِ شقیقہ کا حملہ کب ہوجائے گا اور یہ ملازمت اور خاندانی ذمہ داریوں کو کیسے متاثر کرے گا، تو یہ بات حیران کن نہیں کہ اس کے باعث زیادہ ذہنی دباؤ ہو سکتا ہے‘۔

دردِ شقیقہ کا علاج؟

چونکہ دردِ شقیقہ ایک عام مرض ہے اس لیے یہ ضروری ہے کہ ڈاکٹروں کو اس میں مہارت ہو مگر بدقسمتی سے زمینی حقائق مختلف ہیں۔ ’ناٹ ٹونائٹ: مائگرین اینڈ پولیٹکس آف جینڈر اینڈ ہیلتھ‘ میں کہا گیا ہے کہ، ’سردرد نیورولوجی کے مریضوں میں سب سے عام مگر نیورولوجی میں سب سے کم پڑھائی جانے والی علامت ہے۔ یہ ایسا ہے کہ آپ کسی الیکٹریشن کو تربیت دیں مگر برقی بلب کے بارے میں نہ بتائیں‘۔

ہرچندکہ ابھی تک دردِ شقیقہ کا کوئی باقاعدہ علاج دریافت نہیں کیا جاسکاتاہم امریکا کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے مئی 2018ء میں ایک ایسی دوائی کی منظوری دی تھی جو سی جی آر پی ریسیپٹر پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کی حامل ہوگی۔ دماغ کے ریسیپٹر یعنی حسی خلیے دردِ شقیقہ کے اٹیک کی وجہ بنتے ہیں اور یہ مجوزہ دوائی ان خلیوں کو بلاک کردے گی۔

فی الحال لوگ دردِ شقیقہ کے لیے عمومی درد کش ادویات، انجائنا اور ہائی بلڈ پریشر کی ادویات استعمال کرتے ہیں، تاہم توقع کی جاسکتی ہے کہ مستقبل میں لوگوں کو دردِ شقیقہ کے لیے مخصوص دوائی دستیاب ہوگی۔