آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ذیقعد 1441ھ4؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے جہاں اسٹاک مارکیٹ، سرکاری بانڈز اور میوچل فنڈز موجود ہیں، وہیں سرمایہ کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے پورٹ فولیو کو متنوع رکھیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مخصوص حالات کی وجہ سے اگر ایک شعبہ بُری کارکردگی دِکھائے تو اس نقصان کا ازالہ کسی اور شعبے میں کی گئی سرمایہ کاری سے ہوسکتا ہے۔ 

پُرکشش منافع کے باعث پاکستان میں جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری کو ہمیشہ ترجیح دی جاتی ہے اور جب بات کمرشل ریئل اسٹیٹ کی آتی ہے تو اس کے مالیاتی فوائد اور بھی بڑھ جاتے ہیں۔ کمرشل ریئل اسٹیٹ کی نہ صرف قیمتیں بڑھتی ہیں بلکہ خریدار کو اس پر پُرکشش ماہانہ کرایہ بھی مل سکتا ہے۔

وقت کے ساتھ منافع میں اضافہ

عمومی طور پر سرمایہ کاروں کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ کسی بھی اثاثے کی خریداری کے بعد اسے راتوں رات بیچ کر منافع حاصل کرنے سے بہتر ہے کہ اسے طویل عرصے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔ کمرشل ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد کو سالانہ، سہ ماہی یا پھر ماہانہ بنیادوں پر کرایہ کی مد میں پُرکشش آمدنی حاصل ہوتی رہتی ہے۔ صرف یہی نہیں، عمومی حالات میں کمرشل ریئل اسٹیٹ میں کرائے کی شرح میں سالانہ بنیادوں پر خاطر خواہ اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے۔ 

ایک سرمایہ کار کو اپنی سرمایہ کاری میں ان ہی باتوں کو دیکھنا ہوتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق امریکا میں گزشتہ 20برسوں کے دوران کمرشل ریئل اسٹیٹ پر اوسط منافع کی شرح 9.5فیصد رہی، جوکہ اسی عرصے میں امریکی اسٹاک مارکیٹ (ایس اینڈ پی 500)کے منافع سے ایک فی صد زائد ہے۔

کمرشل ریئل اسٹیٹ کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ اگر اسٹاک مارکیٹ میں مندی آگئی تو عمومی طور پر ایسا نہیں ہوتا کہ کمرشل ریئل اسٹیٹ کے منافع میں بھی کمی آجائے۔ کمرشل ریئل اسٹیٹ ماہانہ یا سالانہ بنیادوں پر مستحکم اور بتدریج آمدنی میں اضافے کا ایک اچھا ذریعہ ہے۔

ایک ٹھوس اثاثہ

کئی لوگوں کے لیے ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری اس لیے بھی پُرکشش ہوتی ہے کہ یہ ایک ٹھوس اثاثہ ہے۔ یہ سرمایہ کاری کا ایک ایسا شعبہ ہے، جسے آپ دیکھ اور چُھو سکتے ہیں۔ آپ کمرشل ریئل اسٹیٹ خریدنے سے قبل سائٹ پر جاکر اس کے حجم، حالت، مقام اور دیگر چیزوں کے بارے میں خود دیکھ اور جان سکتے ہیں۔ اگر کسی وجہ سے عمارت کے تعمیراتی ڈھانچے کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو زمین کی اپنی حیثیت باقی رہتی ہے، جہاں دوبارہ عمارت تعمیر او ر فروخت کی جاسکتی ہے۔ 

البتہ، کسی بھی دیگر سرمایہ کاری کی طرح کمرشل ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے بھی کچھ ’رِسک فیکٹرز‘ ہیں، جیسے کہ اسٹاک مارکیٹ پر درج حصص یا سرمایہ کاری بانڈز کے برعکس ریئل اسٹیٹ ایک کم ’لیکوئیڈ‘ اثاثہ ہے یعنی آپ جس آسانی اور تیزی سے اپنے اسٹاکس یا بانڈ فروخت کرسکتے ہیں، ریئل اسٹیٹ کی فروخت میں آپ کو وقت درکار ہوتا ہے اور رقم بھی فوری طور پر ہاتھ نہیں آتی۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ ریئل اسٹیٹ میں جو سرمایہ لگانے جارہے ہیں اس کی ’شارٹ نوٹس‘ پر آپ کوضرورت پیش آسکتی ہے تو پھر آپ کو سرمایہ کاری کرنے سے پہلے دوبار سوچنا چاہیے۔

بینک سے قرضہ اور ادائیگی

عمومی طور پر ریئل اسٹیٹ کی خریداری میں آپ کو 20فیصد اپنی جیب سے لگانے ہوں گے جبکہ 80فیصد بینک سے مارگیج فائنانسنگ کی صورت میں مل سکتے ہیں (اس حوالے سے بینکوں کی پالیسی مختلف بھی ہوسکتی ہے)۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کی ریئل اسٹیٹ کو اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ ہر ماہ بینک قسط کی ادائیگی کے لیے فوری آمدنی دے سکے۔ 

کمرشل ریئل اسٹیٹ کی خریداری سے پہلے آپ کو اس بات کو مدِنظر رکھنا چاہیے کہ آیا آپ اس سے حاصل ہونے والے ماہانہ کرائے سے بینک قسط ادا کرپائیں گے یا نہیں۔10یا 20سالہ مارگیج فائنانسنگ پر خریدی ہوئی ریئل اسٹیٹ اپنی میچورٹی پر عمومی طور پر بینک کو ادا کیے گئے پیسوں کے مقابلے میں سرمایہ کار کو کہیں زیادہ منافع دے کر جاتی ہے۔

مہنگائی کے خلاف تحفظ

کمرشل ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے آپ اپنے پیسے کومہنگائی سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ جیسے جیسے مہنگائی بڑھتی ہے، آپ کے پیسے کی قوتِ خرید کم ہوتی جاتی ہے، کمرشل ریئل اسٹیٹ کی بڑھتی مارکیٹ ویلیو مہنگائی کے اثر کو زائل کردیتی ہے۔

حرفِ آخر

اگر آپ کے پاس سرمایہ کاری کے لیے کچھ اضافی پیسہ دستیاب ہے اور آپ ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں سرمایہ کاری سے واقفیت رکھتے ہیں تو آپ کمرشل ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری پر سنجیدگی سے غور کرسکتے ہیں۔ محفوظ ترین سرمایہ کاری بھی کسی حد تک اَن دیکھے عوامل کے باعث خطرے سے خالی نہیں ہوتی۔ کمرشل ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری سے قبل آپ فائدہ حاصل کرسکیں۔