آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پرائیویسی کو تحفظ فراہم کیا جائے
مکرمی ! ہمارا گاؤں گوناگوں مسائل کا شکار ہے ۔ سب سے بڑا مسئلہ ماسی برکتے اور چاچا شیرا ہیں جو کیدو کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا واحد مشغلہ دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانا اور پرائیویسی کی مٹی پلید کرنا ہے ۔ کل رات گئے میں چاچی فتاں کی خیریت دریافت کرنے اس کے گھر گیا۔ فتاں سو چکی تھی البتہ اس کی بیٹی شیدو جاگ رہی تھی۔ ہم دونوں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے اور اس کے نتیجے میں ممکنہ امریکی پابندیوں پر تبادلہ خیال شروع کر دیا۔ اتنے میں چاچے شیرے نے گلی میں شور مچا دیا کہ اس گھر میں کوئی اجنبی گھس گیا ہے ۔ وہ تو بھلا ہو شیدو کا کہ جس نے عقبی دیوار پھلانگنے میں میری مدد کی ، ورنہ اس خبطی بڈھے نے تو مجھے ذلیل کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی ۔ آپا چھیمو اور اس کی بیٹیوں کی ملنساری کی علاقہ بھر میں دھومیں ہیں ۔ اللہ بخشے آپا کا خاوند بلہا گھر والوں کے اسی ”ملنسارانہ چال چلن “ سے متعلق برکتے اور شیرے کے طعنے سن سن کر فوت ہو اتھا ۔ پچھلے ہفتے آپا چھیمو کے گھر کے سامنے والی اسٹریٹ لائٹ دسویں بار ٹوٹی تو اتنی سی بات پر گاؤں والوں نے جرگہ بلالیا۔ جرگے میں ماسی برکتے اور چاچے شیرے نے بغیر کسی ثبوت کے اس حرکت کا الزام ناچیز سمیت تیرہ عدد شرفائے دیہہ کے

سر تھوپ دیا ۔ انہوں نے اسٹریٹ لائٹ توڑنے کے مقاصد کے ضمن میں ہمارے بارے میں ایسی گھٹیاکلامی کا مظاہرہ کیا کہ ہم شرم سے پانی پانی ہو گئے ۔المختصر! ہمیں جرمانہ بھی ادا کرنا پڑا اور بے عزتی الگ ہوئی۔ آپ کے موقر روزنامے کے توسط سے حکام بالا سے استدعا ہے کہ ہمارے گاؤں میں پرائیویسی کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور ہر دو مکروہ کرداروں کو گوانتا موبے ارسال کر کے اہالیان دیہہ کو مشکور فرمایا جائے۔
(مشکور خان ۔پنڈعاشقاں)
بنیادی حق پر قدغن نہ لگائی جائے
مکرمی! ہم آپ کے موقر روزنامے کے توسط سے جناب چیئرمین الیکشن کمیشن کی توجہ ایک انتہائی حساس معاملے کی جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں ۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے نئے کاغذات نامزدگی کی تفصیلات سامنے آنے پر محب وطن پارٹیوں اور فاضل امیدواران قومی و صوبائی اسمبلی میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ نامزدگی فارم میں غیر ضروری طور پر فاضل امیدواروں سے اثاثوں، قرضوں ، ٹیکس گوشواروں ، غیر ملکی دوروں ، کرمنل کیسوں نیز بیگمات و بچوں کی تعداد اور ان کے اثاثوں سے متعلق انتہائی ناروا قسم کے سوالات پوچھے گئے ہیں ۔ جناب والا! اتنی باریک بینی سے تو رشتہ دیتے وقت بھی کام نہیں لیا جاتا اور پھر یہ حقیقت بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اگر امیداروں کی اسکروٹنی کی یہ غیر حکیمانہ روش تبدیل نہ کی گئی تو 70فیصد سے زائد جینوئن امیدوار نااہل ہو جائیں گے۔ اس سے جہاں ایروں غیروں کے اسمبلیوں میں پہنچنے کا خدشہ ہے، وہاں ملک کے عدم استحکام کا شکار ہونے کا اندیشہ بھی ہے ۔ قبل ازیں ایسی ہی ایک غیر اخلاقی پابندی کے طفیل بی اے کی ڈگریاں اور اراکین پارلیمینٹ کافی رسوا ہو چکے ہیں۔ جناب چیف الیکشن کمشنر سے درد مندانہ اپیل ہے کہ روپیہ پیسہ ہاتھوں کا میل ہے اور اثاثوں اور ڈگریوں نے بھی یہیں رہ جانا ہے ، سو ایسی فانی چیزوں کو جذبہٴ عوامی خدمت کی راہ میں رکاوٹ نہ بنایا جائے۔ الیکشن لڑ کر ملک و قوم کی خدمت کرنا ہمارا بنیادی حق ہے۔ براہِ کرم انصاف کے تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ہمیں اس حق سے محروم نہ کیا جائے۔
(امیدواران قومی و صوبائی اسمبلی)
دولت کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے
ہمارے محکمے پر اللہ کا بڑا فضل ہے مگر ہمارے مقامی دفتر میں اوپر کی کمائی کی تقسیم میں انتہائی غیر منصفانہ اور متعصبانہ رویہ روا رکھا جاتا ہے ۔ کل کمائی کا ساٹھ فیصد چند افسران جبکہ باقی چالیس فیصد ہم ڈھیر سارے کلیریکل اور نا ن کلیریکل اسٹاف کے حصے میں آتا ہے۔ حالانکہ سائلان سے یہ رقوم اور ان کی بددعائیں ہم ہی وصول کرتے ہیں اور شکایت کی صورت میں کارروائی بھی ہمارے خلاف ہی ہوتی ہے ۔ اعلیٰ افسران اس ناانصافی کا نوٹس لیں اور دولت کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائیں کہ آخر انہوں نے بھی ایک دن خدا کے آگے جواب دہ ہونا ہے ۔
(اہلکاران ،محکمہ ہذا من فضل ربی )
بھتہ خوروں سے نجات دلائی جائے
مکرمی! ہمارے گاؤں پر بھتہ خوروں نے یلغار کر رکھی ہے ۔ معززین دیہہ پر منشیات فروشی اور جوئے کے اڈے ، نیز دیگر غیر اخلاقی اڈے چلانے کے بے بنیاد الزامات عائد کئے جاتے ہیں۔ حالانکہ ہمارے گاؤں میں صرف ایک اڈا یعنی چھوٹا سا لاری اڈہ ہے اور بس ! باقی سب ہوائی فائر ہیں ۔ بات صرف اتنی ہے کہ گاؤں کے شرفاء کی روایتی وضع داری اور مہمان نوازی کے سبب رات گئے تک مہمانوں کی آمدورفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے، جسے جواز بنا کر متعلقہ تھانے کے عملے اور مقامی دو نمبر صحافیوں نے سفید پوشوں سے بھتہ وصولی کو مستقل وظیفہ بنا رکھا ہے۔ اس مذموم مقصد کی خاطر ہمارے گھروں پر چھاپوں اور چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ حکام بالا سے درخواست ہے کہ ہمارے گاؤں سے تیل نکلتا ہے ، نہ نوٹ چھاپنے کی مشینیں لگی ہوئی ہیں ۔ ہمیں ان بھتہ خوروں سے نجات دلائی جائے
( اہالیان چک پوڈریاں )
قیدیوں کے مسائل حل کئے جائیں
مکرمی! ہماری ڈسٹرکٹ جیل میں قیدیوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں ۔ منشیات مارکیٹ سے ڈبل قیمت پر مہیا کی جاتی ہیں اور وہ ملاوٹ شدہ۔ اوپر سے بھتہ الگ وصول کیا جاتا ہے۔ موبائل فون رکھنے کے ریٹ بھی ڈبل کر دیئے گئے ہیں ۔ ارباب اقتدار ان مظالم کا نوٹس لیں ۔ مہذب قوموں کی طرح قیدیوں کو بھی انسان سمجھا جائے اور ان کے مسائل حل کئے جائیں۔
(ایک قیدی ، ڈسٹرکٹ جیل)
لوڈشیڈنگ کے اوقات مقرر کئے جائیں
ہمارے علاقے میں بجلی کے آنے جانے کا کوئی وقت مقرر نہیں جس سے ماہانہ لاکھوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ اکثر رات کو اچانک اس وقت بجلی آن کر دی جاتی ہے جب ہم لوگ گھروں میں نقب لگا کر دھندے میں مصروف ہوتے ہیں ۔ واپڈا کی اس غیر ذمہ دارانہ روش کی بنا پر ہمارے کئی ساتھی جیلوں میں سڑ رہے ہیں ۔ چیئرمین واپڈا نوٹس لیں اور لوڈشیڈنگ کے اوقات مقرر کئے جائیں تاکہ ہم ٹائم ٹیبل بنا کر یکسوئی کے ساتھ ”کاروبار“ کر سکیں۔
( اہالیان پنڈ چوراں)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں