آپ آف لائن ہیں
منگل6؍شعبان المعظم 1441ھ 31؍مارچ 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

فیضان ثاقب

 پیارے بچو!23 مارچ 1940 کا دن ہندوستان کے مسلمانوں کی جدّوجہد آزادی میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن قائداعظم کی قیادت میں قرار داد منظو ر ہوئی ۔ اس کا اجلاس لاہور میں منٹو پارک(اقبال پارک) میں ہوا ۔وہاں اس قرار داد کی یاد میں ایک مینار بنایا گیا، جسے،’’ مینارِ پاکستان ‘‘کہتے ہیں۔آج ہم آپ کو اس کے بارے میں کچھ معلوماتی باتیں بتارہے ہیں۔

مینار پاکستان اس جگہ بنایا گیا ہے،جہاں 23مارچ 1940 کو قائد اعظم محمد علی جناح کی صدارت میں منعقدہ آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں تاریخی قرار داد لاہور ،جسے بعد میں قرار داد پاکستان کا نام دیا گیا منظور ہوئی تھی۔ تب اس جگہ کو منٹو پارک کہا جاتا تھا لیکن بعد میں اس کا نام اقبال پارک رکھا گیا۔ مینارِ پاکستان عین اس جگہ تعمیر کیا گیا ، جہاں جلسے کا اسٹیج بنایا گیا تھا۔

مینار پاکستان کا ڈیزائن ترک نژاد ماہر تعمیرات نصرالدین مرات خان نے تیار کیا تھا ۔

مارچ 1960ء میں اس کا سنگ بنیاد گورنر مغربی پاکستان اختر حسین نے رکھا۔

31اکتوبر 1968ء کو مینار پاکستان مکمل ہوا۔

اس کی تعمیر پر 75لاکھ روپے لاگت آئی۔ اس کی تعمیر کا ٹھیکہ تحریک پاکستان کے کارکن میاں عبدالخالق کو دیا گیا تھا۔

مینار کی بلندی 196 فٹ ہے۔ جو 180 فٹ تک لوہے اور کنکریٹ سے بنا ہے اس سے اوپر کا حصہ اسٹیل کا ہے۔ اس کی پانچ گیلریاں اور بیس منزلیں ہیں۔ پہلی گیلری تیس فٹ اونچائی پر ہے۔ مینار پر چڑھنے کے لیے 334 سیڑھیاں ہیں۔ جبکہ لفٹ کی سہولت بھی موجود ہے۔

مینار کے پہلے حصے میں جو برآمدوں والے گول ہال کی شکل میں ہے جس کے گرد گولائی میں پھول کی پتیاں بنی ہوئی ہیں۔ یہاں سات فٹ لمبی اور دو فٹ چوڑی سنگ مرمر کی سلوں پر خط نسخ میں اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام اور قرآن مجید کی مختلف آیات درج ہیں۔ قرارداد کا مکمل متن اردو، بنگالی اور انگریزی زبانوں میں رقم ہے۔ علامہ اقبالؒ کے اشعار اور چار سلوں پر قائداعظم محمد علی جناحؒ کے ارشادات درج ہیں۔ ایک تختی پر قومی ترانہ درج ہے۔ صدر دروازے پر ’’مینار پاکستان‘‘ اور ’’اللہ اکبر‘‘ کی تختیاں آویزاں ہیں۔

مینار پاکستان کے احاطے میں پاکستان کے قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کا مزار بھی ہے۔

مینارِ پاکستان کی قومی تاریخ کا روشن سنگ میل ہے۔ اس کے بالمقابل واقع بادشاہی مسجد،شاہی قلعہ ،حضوری باغ،مزارِ اقبالؒ او تھوڑے فاصلے پر موجود مرکز تجلیات ،مزار حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کا مزار ہے۔