آپ آف لائن ہیں
منگل 10؍ شوال المکرم 1441ھ 2؍ جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نو سالہ عائشہ ایاز تائی کوانڈو چیمپیئن

خیبر پختونخوا کے علاقے سوات سے تعلق رکھنے والی نو سالہ عائشہ ایاز نے متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ میں31فروری کومنعقد ہونے والے تائی کوانڈو کے بین الاقوامی مقابلوں میں انڈر10 کیٹیگری میں گولڈ میڈل حاصل کر کےپاکستان کا نام روشن کر دیا۔

گذشتہ سال ان مقابلوں میں انہوں نے کانسی کا میڈل حاصل کیا تھا۔ اُس موقع پر عائشہ ایاز نے کہا تھا ،کہ وہ سخت محنت کریں گی اور اگلے سال گولڈ میڈل حاصل کر کے اپنے والد کا خواب اور ملک کا نام روشن کریں گی۔

عائشہ نے کہا کہ ’جب میں فائنل کھیلنے لگی تھی تو میرے ذہن میں صرف ایک ہی بات تھی کہ دنیا میں کوئی چیز بھی ناممکن نہیں ہے، بس ہمت ہونی چاہیے۔ وہ کہتی ہیں ’مقابلہ مشکل تھا۔ میرے ساتھ مقابلہ کرنے والی برطانوی لڑکی بھی سخت تھی۔ مقابلہ ختم ہونے سے دو راؤنڈ پہلے اس کے ساتھ میری ٹانگیں ٹکرا گئیں اور مجھے سخت تکلیف ہونے لگی۔ تھوڑی دیر کے لیے میں پریشان ہو گئی کہ میں کھیل جاری رکھ بھی سکوں گی یا نہیں لیکن میں کھیلتی رہی۔‘فائنل انتہائی جاندار تھا۔ مدِ مقابل لڑکی بھی بہت شاندار طریقے سے کھیل رہی تھی۔ جس نے بھی فائنل دیکھا، بہت تعریف کی۔

عائشہ کے مطابق راؤنڈ کے درمیانی وقفے میں انھوں نے اپنے والد اور کوچ محمد ایاز نائیک کو اس بارے میں کچھ نہیں بتایا،جب میچ ختم ہوا اور میری فتح کا اعلان ہوا تو اس وقت بھی میں نے چوٹ کا نہیں بتایا کیونکہ پاپا اور باقی ٹیم کے لوگ بہت خوش تھے۔ میں نے میڈل پہنا اور پھر اپنے والد کو بتایا کہ مجھے ٹانگوں میں سخت تکلیف ہو رہی ہے۔‘

عائشہ ایاز کے والد ایاز نائیک کا کہنا تھا کہ ’یہ تو میں جانتا تھا کہ عائشہ ایاز ایک بہترین کھلاڑی ہے،مگر مجھے یہ پتا نہیں تھا کہ وہ اتنی حوصلہ مند اور بہادر بھی ہے کہ زخمی ہونے کے باوجود بھی اس نے مقابلہ جاری رکھا اور مجھے بھی نہیں بتایا۔ پتا چلنے کے بعد میں اسے فوراً اسپتال لے کر گیا ،جہاں پر اس کے ایکسرے ہوئے۔ اللہ کا شکر ہے کہ کوئی بھی فریکچر نہیں تھا، مگر کچھ چوٹیں ضرور لگی تھیں۔‘‘

عائشہ ایاز نے تقریباً تین سال کی عمرسے کھیلنا شروع کر دیا تھا۔تائی کوانڈو ان کا خاندانی کھیل ہے۔یہ روزانہ تقریباً تین سے چار گھنٹے پریکٹس اور ورزش کرتی ہیں۔

ان کے والد کا کہنا ہے کہ اگر حکومت عائشہ پر تھوڑی سی توجہ دے تو مجھے امید ہے کہ پیرس میں ہونے والے 2024 کے اولمپکس میں یہ پاکستان کو گولڈ میڈل دلا سکتی ہے۔