آپ آف لائن ہیں
بدھ11؍ شوال المکرم 1441ھ3؍جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ڈاکٹر مسز نوید بٹ

عالمی ادارۂ صحت کے زیرِ اہتمام ہر سال7اپریل کو’’عالمی یومِ صحت‘‘ منایا جاتا ہے،جس کا مقصد ہر سطح تک صحت سے متعلق معلومات فراہم کرنا ہے۔واضح رہے کہ عالمی ادارۂ صحت، عمومی صحت سے متعلق، اقوامِ متحدہ کی ایک بین الاقوامی آرگنائزیشن ہے، جس کا قیام 7اپریل 1948ء کو جنیوا، سوئیٹزر لینڈ میں عمل میں آیا۔ 1950ء میں پہلی بار اس ادارے کے زیرِ اہتمام دُنیا بَھر میں ’’عالمی یومِ صحت‘‘ منانے کا اعلان کیا گیا،جو پھر ہر سال اِسی تاریخ کو ایک نئے تھیم یا سلوگن کے ساتھ منایا جاتا ہے۔رواں برس عالمی ادارۂ صحت کے قیام کو70برس مکمل ہوچُکے ہیں اور اس پورے عرصے میں اس ادارے نے مختلف تھیمز اور سلوگنز کے ذریعےعمومی صحت کی بہتری سمیت مختلف عوارض سے بچائو کے طریقوں اور حفظانِ صحت کے اصولوں سے آگاہی فراہم کرنے کے ساتھ بیماریوں کے خاتمے کے لیے بھی ہر ممکنہ حد تک کو ششیں جاری رکھیں۔

اس ضمن میں یو ایچ سی یعنی یونی ورسل ہیلتھ کوریج کا قیام بھی عمل میں لایا گیا،تاکہ بلاتفریقِ رنگ و نسل اور قوم ہر سطح تک نہ صرف معیاری طبّی سہولتیں دستیاب ہوسکیں،بلکہ ان کے حصول کے لیے کسی بھی قسم کی پریشانی نہ اُٹھانی پڑے۔طبّی سہولتوں کی اہمیت اپنی جگہ مُسلّمہ حقیقت ہے،لیکن اگرایک اسپتال میںبے شک ہر طرح کی جدید طبّی سہولتیںاور ماہر معالجین موجود ہوں، مگر جب تک اس پورے نظام میں تربیت یافتہ نرسز نہ ہوں،تواسپتال کا نظام ادھورا ہی تصوّر کیا جاتا ہے۔ بلاشبہ شعبۂ صحت میں نرسز اور مڈوائوز کوکلیدی حیثیت حاصل ہے، مگر زیادہ تر مُمالک میں نہ صرف اس پیشے کو بلکہ خاص طور پر خواتین نرسز کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا اور روز و شب بیمار، لاچار مریضوں کی، بغیر کسی کراہیت تیمار داری کرنے کے باوجود وہ عدم تحفّظ کا بھی شکار ہیں۔ 

اسی لیے عالمی ادارۂ صحت نے امسال عالمی یومِ صحت کےموقعے پر 2020ء کونرسز اور مڈوائوز کا سال قرار دیتے ہوئے، جس تھیم کا انتخاب کیا ہے، وہ’’سپورٹ نرسز اینڈمڈوائوز‘‘(Support Nurses And Midwives) ہے، تاکہ سال بَھر مختلف آگاہی پروگرامز کے ذریعےمعاشرے میںنرسنگ اور مڈوائفری کےشعبے کی اہمیت اُجاگر کرنے کے ساتھ نرسز اور مڈوائوز کے ایڈوانس رول کے حوالے سے بھی معلومات عام کی جائیں۔نرسنگ اور مڈوائفری کو بطور پروفیشن اختیار کرنے کا رجحان پیدا کیا جائے اور اس مقدّس پیشے سے متعلق غلط تصوّرات کےخاتمے کے ساتھ اس سے وابستہ افراد کی عزّت و تکریم میں اضافہ کیا جائے۔علاوہ ازیں،2020ء کو نرسز اورمڈوائوز سے منسوب کرنے کی ایک اور اہم وجہ یہ بھی ہے کہ رواں برس فلورنس نائیٹ اینگل (Florence Nightingale) کی 200ویں سال گرہ منائی جارہی ہے۔اصل میں فلورنس نائیٹ اینگل نے 1854ءکی جنگ کریمین میں انتہائی کم نرسزکی مدد سے کئی زخمی اور بیمار فوجیوں کی شب و روز تیمار داری کی۔بتایا جاتا ہے کہ جب فلورنس نرسوں کے مختصر سے قافلے کے ساتھ زخمی فوجیوں کی تیمار داری کے لیے پہنچیں، تو نہ صرف زخمیوں کی حالت نہایت خراب تھی، بلکہ ان کے بستر بھی انتہائی گندے،جراثیم آلود تھے۔ ان بستروں پر بچھائی گئی چادریں اتنی کھردری تھیں کہ ان پر لیٹنا زخموں کی تکلیف سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔ ادویہ،مرہم پٹّی کا فقدان اور صفائی ستھرائی کی یہ حالت کہ چوہے مریضوں کو کاٹ کر ان کی تکالیف میں اضافہ کرتے تھے۔انہوں نے اپنی بے لوث خدمت سے اس شعبے کو منّظم کیا۔اسی لیےان کی خدمات پر خراجِ عقیدت پیشکرنے کے لیے12مئی کودُنیا بَھر میں نرسز کا عالمی یوم منایا جاتا ہے ۔

نرسنگ کے تاریخی پس منظر کی بات کی جائے تو جب سے شعبۂ طب پر کام کا آغاز ہوا، مریض کی خدمت کو فضیلت حاصل ہے۔ خصوصاًدینِ اسلام میں خدمتِ خلق کی خاص اہمیت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے دَور میں بھی خواتین مختلف غزوات میں لشکرِ اسلام کے ساتھ موجود رہتی تھیں اور مجاہدین کی مرہم پٹّی و تیمارداری کا فریضہ سَرانجام دیتیں۔ حضرت اُمِّ عمارہؓ جنگ اُحد سے لے کر آخری عُمر تک یہ فریضہ ادا کرتی رہیں۔ اصل میںنرس اور مریض انسانیت کے رشتے سےبندھے ہوئے ہیں اور یہی رشتہ، ہر رشتے سے بالاتر ہے،جوایک اَن جان مریض کی تیمار داری پر مجبور کر تاہے۔وقت کے ساتھ جوں جوں شعبۂ طب نےوسعت اختیار کی، نرسنگ اور مڈوائفری کےشعبوں نے بھی مختلف سمتوںمیں تیزی سے جدّت و ترقّی کی منازل طےکی ہیں۔انٹر نیشنل کاؤنسل آف نرسزکی صدر اینیٹ کینڈی(Annette kennedy) کا کہنا ہے کہ ’’وہ جب کبھی کسی نرس سے ملتی ہے، تو ہر ایک کے پاس بتانے کو ایک کہانی ہوتی ہے،کیوں کہ نرسیں پیدایش اور موت کے مشکل اور کٹھن مراحل میں اپنا فرض ادا کرتی ہیں۔ 

ایک نرس بیماری کے ایّام سے لے کرصحت مند ہونے تک کے عرصے میں مریضوں کا مکمل طور پر ساتھ دیتی ہے۔ اُن کی خوشیوں میں خوش اور دُکھوں میں دُکھی ہو کر انہیں صحت کی طرف لے جانے میں بَھرپور کردار ادا کرتی ہے اور کبھی کبھار آخری لمحات میں مریض کا ہاتھ پکڑے، آخری سفر بھی طے کروادیتی ہے‘‘۔عمومی طور پر ایک نرس کی ذمّے داریوں میںمریضوں کی دیکھ بھال، ان کی روزانہ کی صحت کے مسائل حل کرنا،مثلاً کس وقت اور کتنی مقدار میں دوا دینی ہے یا انجیکشن لگانا ہے،درجۂ حرارت ،بلڈ پریشر اور ذیابطیس کی جانچ،اگر کوئی اور ٹیسٹ تجویز کیے گئے ہیں، تو خون، پیشاب وغیرہ کے نمونے لے کر لیبارٹری بھجوانا، آکسیجن سلنڈر ٹھیک طرح کام کر رہا ہے، وینٹی لیٹر اور دِل کے مانیٹرز درست طریقے سے کام کر رہے ہیں، مریض کو کون سی غذا کب دینی ہے، کب واک کروانی ہے،مریض کی باقاعدگی سےرپورٹ مرتّب کرنا،اپنے انچارجز کو مریض کی کوئی طبّی تکلیف ظاہر ہونے کی صُورت میں بروقت اطلاع دینا اور ڈاکٹرز سے شیئر کرنا۔نیز، دورانِ آپریشن مددکرنا، بعد ازاں مریض کا خیال رکھنا، مختلف عوارض کے وارڈزدِل، گُردوں، نفسیاتی مسائل کے وارڈز میں خصوصی تربیت حاصل کرنا اوراپنے جونیئراسٹاف کی ٹریننگ کرنا اور ان کے کام کا جائزہ لینا وغیرہ شامل ہیں، جب کہ ایک نرس کی خصوصیات میںمریضوں کی خدمت کو عبادت سمجھ کر انجام دینا، خوش مزاجی سے پیش آنا، مریضوں کو عزّت دینا، ان کی تکلیف محسوس کرکے شدّت کم کرنے کی کوشش کرنا، اُن کے رازوں کی حفاظت کرنا،انہیں پُرامید رکھنا،اُن کے لیے قابلِ اعتبار ہونا اور اُن کو اپنا وقت اور اچھا مشورہ دینا وغیرہ شامل ہیں۔ یہ وہ بنیادی انسانی اخلاقی خصوصیات ہیں، جو ایک نرس کا طرۂ امتیاز اور اس کے پروفیشن کا لازمی جزوبھی ۔

پاکستان بَھر میں نرسنگ کے تعلیمی ادارے’’ پاکستان نرسنگ کاؤنسل‘‘کے زیرِ اہتمام کام کر رہے ہیں۔تمام صوبوں میں نرسنگ اسکولز خاصی تعداد میں قائم ہیں، جنہیں اب مرحلہ وارنرسنگ کالجز کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر خواتین نرسز کے اسکولز اور کالجز کی تعداد زیادہ ہے،مگر ، اب صوبہ سندھ اور پنجاب میں میل نرسز کی ٹریننگ کے ادارے بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔علاوہ ازیں، نجی نرسنگ اسکولز اور کالجز بھی کافی تعداد میں اس شعبے کی تعلیم فراہم کر رہے ہیں، لیکن بڑھتی ہوئی آبادی اور ضروریات کے مطابق سرکاری طور پر نرسنگ کے مزید اسکولز اور کالجز قائم کرنے اور اسپتالوں میں نئی اسامیوں کی تقرری کی اشد ضرورت ہے،کیوں کہعالمی ادارۂ صحت کے مطابق انتہائی نگہداشت یونٹ میں ایک مریض، ایک نرس، جب کہ جنرل کیئر یونٹ میں5سے8ریضوں کے لیے ایک نرس کا تناسب ہونا چاہیے، مگر پاکستان میں سرکاری سطح پر نرسز کی تعداد قطعاً ناکافی ہے۔

اسی طرح ’’مڈوائفری‘‘کےشعبے کی اہمیت بھی پوری دُنیا میں تسلیم شدہ ہے،مگرزیادہ تر افراد دائی اور مڈوائف کا فرق ہی نہیں جانتے ۔تو واضح رہے کہ دائی کے پیشے میں تعلیمی قابلیت کی کوئی قید نہیں ،جب کہ ایک مڈوائف کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی تسلیم شدہ ادارے سے ڈگری حاصل کرنے کے ساتھ لائسنس یافتہ ہو،تو ہی وہ پریکٹس کی مجاز ہوگی۔ نرسنگ کے تعلیمی تربیتی اداروں میں 3سالہ نرسنگ ڈپلومے کے بعد چوتھا سال مڈوائفری کا کہلاتا ہے، جس میں گائنی/ آبسٹریکس (Gynae/Obstetrics) میں خصوصی تعلیم اور تربیت دی جاتی ہے۔ پاکستان کےدُور دراز کے دیہات ،قصبہ جات اور چھوٹے شہروں میں جہاں بالعموم خواتین ڈاکٹرز یا گائناکالوجسٹس کی رسائی ممکن نہیں،وہاں یہمڈوائوز، زچگی کا فریضہ انجام دیتی ہیں۔ 

اس لیے یہ بات از حد ضروری ہے کہ سرکاری سطح پر مڈوائفری کے شعبے میں تعلیم و تربیت حاصل کرنے والےادارے زیادہ تعداد میں قائم کیے جائیں اور تمام بنیادی مراکزِ صحت میں تربیت یافتہمڈوائوز مقرر کی جائیں، تاکہ دورانِ زچگی زچّہ یا بچّہ کی اموات کی شرح پر قابو پایا جاسکے۔ اس کے ساتھ ٹی اے بی (Trained Birth Attendants)کا کردار بھی خاصی اہمیت کا حامل ہے،جو مضافاتی علاقوں میں مائوں اور نوزائیدہ بچّوں کی جان بچانے میں بڑا اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔اگر سرکاری سطح پر تحصیل ہیلتھ یونٹ اور بیسک ہیلتھ یونٹ کا نظام بہتر انداز میں جاری رکھا جائے، توپاکستان بھی عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے طے کردہ اہداف حاصل کرسکتا ہے۔فی الوقت تو پاکستان میں مڈوائفری کے شعبے سے وابستہ خواتین متعدد مسائل کا شکار ہیں،جن کا حل ناگزیر ہے، کیوں کہ پاکستان کے چھوٹے شہروں، گاؤں دیہات وغیرہ میں اب بھی روایتی اور خاندانی دائیوں ہی کو ترجیح دی جاتی ہے، مگر بنیادی حفظانِ صحت کے اصولوں سے ناواقفیت اور کیس پیچیدہ ہونے کی صُورت میں بروقت اسپتال منتقل نہ کرنے کے باعث یا تو متعددخواتین مختلف پیچیدگیوں کے باعث جاں بحق ہوجاتی ہیں یا پھر نومولود انتقال کرجاتا ہے،جب کہ ایک مڈ وائف زچگی کےنارمل کیس باآسانی ہینڈل کرسکتی ہے، اور کسی پیچیدگی کی صُورت میں فوری طور پر کیس مستند معالج کو ریفر کرنے کی پابند بھی ہوتی ہے ۔

چوں کہ ہمارے یہاںنرسز اور مڈوائوز کو وہ عزّت نہیں دی جاتی، جن کی وہ مستحق ہیں۔ اس شعبے کو دیگر شعبوں سے کم تر سمجھا جاتا ہے،لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے نرسز اور مڈوائفز کے بہترین کام اور مقام کو معاشرے میں اُجاگر کیا جائے۔ ان شعبوں میں ترقّی کے لیے مناسب پلاننگ کی جائے، تاکہ جہاں زیادہ سے زیادہ یہ شعبہ جات اختیار کرنے کا رجحان بڑھے، وہاں صحت کا معیار بھی بہتر سے بہتر ہوسکے۔ علاوہ ازیں،نرسز اور مڈوائوز کی مراعات میں اضافے اور تحفّظ فراہم کرنے کے اقدامات بھی فوری توجّہ کے متقاضی ہیں۔اس ضمن میں ورک پلیس ہراسمنٹ کے مضبوط قابلِ عمل قوانین بنائے جائیں،رہایش کے لیے ہاسٹلز قائم کیے جائیں،جب کہ جائے ملازمت پر ڈے کئیر سینٹرزکی سہولت بھی فراہم کی جائے اور ضرورت پڑنے پر Flaxible working Hoursکو قابلِ عمل بنایا جائے۔ 

اس طریقۂ کار میں اگر کوئی نرس لمبے دورانیے کے لیے ڈیوٹی ادا نہ کر سکے، تو کم معاوضے پر کم گھنٹوں کی ڈیوٹی کی سہولت دی جائے۔ اس طرح جو نرسرز گھریلو ذمّے داریوں کے ساتھ ملازمت جاری نہیں رکھ سکتیں، وہ بھی معاشرے کا ایک کار آمد فرد بن سکتی ہیں۔ اس بات پر حکومت کو ضرور غور و فکر کرنا چاہیے کہ یا تو ایک تربیت یافتہ نرس اپنے گھریلو مسائل کی وجہ سے سِرے سے کام ہی نہ کرے اور اس کی تعلیم و تربیت کے ضمن میں خرچ کی جانے والی رقم اور وقت ضایع ہو جائے یا پھر وہ کم دورانیے میں کم تن خواہ کے ساتھ اپنی ماہرانہ صلاحیتیں بروئےکار لاسکے۔ترقّی یافتہ مُمالک میں یہ طریقۂ کار بہت کار آمد ثابت ہو رہا ہے۔ ہمارے مُلک میں بھی پالیسی میکرز کو اس پر غور کرنا چاہیے۔

دینِ اسلام بنیادی انسانی اخلاقیات کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ اللہ تبارک تعالیٰ اپنی مخلوق کی ساتھ کی گئی ہر نیکی کا اجر بڑھا چڑھا کر دیتے ہیں۔ مریض کے ساتھ اچھے برتاؤ اور دِل جوئی کی بھی اسلامی تعلیمات میں بہت تاکید ملتی ہے۔متعدد احادیث میں اس کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ ایک حدیث کے مطابق، ’’ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر یہ حق ہے کہ اگر وہ بیمار ہو، تو اس کی عیادت کی جائے۔‘‘ ایک اور حدیث میں بیان فرمایا گیا کہ ’’مریض سے اپنے حق میں دُعا کرواؤ کہ اس کی دُعا فرشتوں کی دُعا کی طرح ہوتی ہے۔‘‘ یہ ساری ترغیبات ایسی ہیں کہ جو نرسز کی ملازمت کو عبادت میں بدل دیتی ہیں۔اگر شعبۂ طب سے وابستہ افرادکو خواہ وہ ڈاکٹرز، نرسز یامڈوائوز ہوں،یہ باور کروایا جائے کہ اگرمریض سےایسا برتاؤ کریں گےکہ مریض اُن کے لیے فرشتوں جیسی دُعائوں کا سبب بن جائیں، تویقیناًان کے مزاج میں بھی شُکر گزاری، نرمی، خلوص، دِل جوئی اور اخلاص کا عنصر ضرور شامل ہو جائے گا۔

(مضمون نگار، فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک اسپتال، اسلام آباد میں بطور پیڈیاٹرک اور نیونیٹو لوجسٹ خدمات سَرانجام دے رہی ہیں۔نیز، پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما)خواتین برانچ کی سینٹرل ایگزیکٹیو کاؤنسل کی رُکن بھی ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید