آپ آف لائن ہیں
پیر 9؍ شوال المکرم 1441ھ یکم جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔ میرے سسر نے میرے مہر کے بدلے نکاح نامہ میں ایک مکان کے متعلق لکھا کہ وہ مجھے دیں گے اور میرے والد راضی ہوگئے۔سسر صاحب اپنی زندگی میں وہ مکان مجھے حوالے نہ کرسکے اور انتقال کرگئے۔اب میرے سسر کے ورثاء کا کہنا ہے کہ چونکہ سسر نے جیتے جی مکان مجھے حوالے نہیں کیا اس لیے یہ مکان اب سسر کی میراث ہے اور میراث میں تقسیم ہوگا۔

جواب:۔پورے کے پورے مکان کی آپ مستحق ہیں اورسسر کے ورثاء کا موقف درست نہیں ہے۔سسر نے اگر چہ زندگی میں آپ کو مکان حوالے نہیں کیا مگر ایسا اس پہلو سے ضروری نہیں تھا کہ عطیہ اور گفٹ کامعاملہ نہیں تھا بلکہ مہر کے بدلے تھا۔ بہرحال نکاح نامہ ایک معاہدہ ہے اور اس معاہدے میں شوہر کے علاوہ کوئی تیسرا شخص بھی مہر کی ضمانت لے سکتا ہے اور ضمانت لینے کے بعد اب اس مکان کی آپ کو حوالگی ضروری ہے۔

اقراء سے مزید