• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

15 اپریل سے ٹرین آپریشن بحال کر سکتے ہیں، شیخ رشید

15 اپریل سے ٹرین آپریشن بحال کر سکتے ہیں


 لاہور(نمائندہ جنگ)وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں حکومت اور پاک فوج ایک پیج پر ہیں،15اپریل سے ٹرین آپریشن بحال کر سکتے ہیں، کورونا کی آڑ میں لندن سے آنے والے شہباز شریف لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھ کر کیڑے نکالنے میں مصروف ہیں ان کا وقت ختم ہو چکا ہے میں شہباز شریف سے کہوں گا کہ یہ وقت سیاست کا نہیں شہباز شریف اور دوسرے لوگ جو زبان استعمال کر رہے ہیں اور جو کام کر رہے ہیں قوم کو سب سمجھ ہے اس ملک میں ایک طبقہ تبلیغی جماعت جبکہ دوسرا تفتان سے آنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے یہ دونوں غلط کر رہے ہیں یہ ملک کو ترقی کرتا نہیں دیکھ سکتے ۔ریلوے میں کوئی ملازم کورونا کا شکا ر نہیں ہو رہا ۔1670قلیوں کانام احساس پروگرام میں بھجوایا ہے ٹرین آپریشن بندش سے ہر ہفتہ ایک ارب بیس کروڑ کا نقصان ہو رہا ہے چودہ اپریل کو لا ڈائون ختم ہونے پر وزیر اعظم نے اجازت دی تو پندرہ اپریل کو بیس ٹرینیں خصوصی انتظامات کے ساتھ چلائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز یہاں ریلوے ہیڈا کواٹر میں ریلوے افسران کے اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کرنے کےبعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا کے حوالے سے قومی سطح پر کہیں اور سے فیصلے نہیں ہوتے لاک ڈائون اور ضروری فیصلے ایک ہی لائن اور لینتھ میں ہو رہے ہیں تاہم چند عناصر ملک کی ترقی نہیں دیکھ سکتے، صوبائی تقسیم نہیں کرنا چاہئے ملکوں اور صوبوں میں کرونا وائرس نے حملہ کیاہے پوری دنیا اس سے متاثر ہوئی ہےانہوں نے کہا کہ شہبازشریف کو کہوں گاکہ یہ وقت سیاست کا نہیں ہے قوم کو سب کچھ سمجھ ہے،لیپ ٹاپ کے آگے بیٹھنے والوں کا وقت اب ختم ہو چکا ہےان کے لندن سے آنے کا کیا فائدہ جو لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھے ہوئے ان کو اس موقع پرکیڑے نہیں نکالنے چاہئے،انہوں نے کیا کہ تاریخ میں پہلی بار وزیر اعظم ملک میں ویلفیئر کاموں کی سربراہی کر رہے ہیں کرونا وائرس کے حملے کا وقت ورلڈ وار سے بھی بڑا وقت ہے، ٹائیگر فورس کا کوئی سیاسی تعلق نہیں ہےلیڈر شپ کا امتحان ہے جو کیڑے لیپ ٹاپ کے آگےبیٹھ کر نکال رہے ہیں ان کا وقت اب ختم ہو چکا ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا ریکارڈ ہے کہ ہم نے ایک دن میں 20,20 ٹرینیں چلائیں یعنی اپ اینڈ ڈاؤن کی 40 ٹرینیں بیک وقت چلائیں ہیں اگر ہم ایسا نہ کرتے تو لوگ کراچی میں سٹرکوں پر ہوتے۔ اس کا کریڈٹ پاکستان ریلوے کے افسران اور مزدوروں کو جاتا ہے۔ اس کا موازانہ آپ انڈیاسے کرسکتے ہیں کہ وہاں ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں نے پیدل چلنا شروع کردیا جس سے 52 لوگ ہلاک ہوگئے۔ 14 اپریل تک کرونا کے اثرات واضح ہوجائیں گے اگر اثرات کم ہوئے تو وزیر اعظم پاکستان کی اجازت سے ٹرین آپریشن شروع ہوجائے گا ۔

تازہ ترین