حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کینسر میں مبتلا ایسے بالغ مریض جن میں بعد ازاں کسی نئے ذہنی عارضے کی تشخیص ہوئی، ان میں موت کا خطرہ نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے۔
یہ تحقیق طبی جریدے کینسر میں شائع ہوئی، جس کے مطابق محققین نے 2013ء سے 2023ء کے دوران یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے وابستہ اسپتالوں میں زیرِ علاج 3 لاکھ 71 ہزار 897 بالغ مریضوں کے اعداد و شمار جمع کیے۔
ان تمام مریضوں میں کینسر کی تشخیص سے قبل کسی ذہنی عارضے کا ریکارڈ موجود نہیں تھا۔
یو سی ایس ایف سے وابستہ محققین نے دریافت کیا کہ کینسر کی تشخیص کے بعد 1 سال کے اندر 10.6 فیصد مریضوں میں نئی ذہنی بیماری (ایم ایچ ڈی) پیدا ہوئی، جس کے باعث ان مریضوں میں سے 35 فیصد کو ایک یا ایک سے زائد نفسیاتی ادویات تجویز کی گئیں۔
تجزیے سے معلوم ہوا کہ ایسے بالغ کینسر کے مریض، جنہیں کینسر کی تشخیص کے بعد ابتدائی 12 سے 35 ماہ کے دوران کسی نئے ذہنی عارضے کی تشخیص ہوئی ان میں اموات کا خطرہ زیادہ تھا، تاہم یہ خطرہ 36 سے 59 ماہ کے دوران کم ہوا اور 60 سے 120 ماہ کے عرصے میں یہ خطرہ بتدریج مزید کم ہو گیا۔
محققین کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران ہم نے کینسر، اس کے علاج اور ذہنی صحت کے درمیان اہم تعلق کو مزید بہتر انداز میں سمجھا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ مطالعہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے نظام میں موجود مشترکہ تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہماری سابقہ تحقیق کی توثیق کرتا ہے اور کینسر کے مریضوں میں ذہنی صحت کے مسائل اور اموات کے درمیان تعلق کو مزید مضبوط بناتا ہے، اس کے ساتھ ہی یہ ذہنی صحت کو ترجیح دینے اور مؤثر انداز میں اس کا انتظام کرنے کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔