آپ آف لائن ہیں
منگل 10؍ شوال المکرم 1441ھ 2؍ جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کورونا وائرس سے پاکستان سمیت دنیا بھر کی معیشتیں شدید مشکلات کا شکار ہیں اور ایسی صورتحال میں جب پاکستان کی معیشت پہلے ہی بحران سے دوچار تھی، کورونا وائرس نے ملکی معیشت کو مزید تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کے باعث عالمی معیشت کو 4.1کھرب ڈالر کا نقصان پہنچا ہے جس سے ترقی پذیر ممالک کی شرح نمو گرکر آدھی رہ گئی ہے اور دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں سرمایہ کاروں کے 11کھرب ڈالر ڈوب چکے ہیں۔ امریکہ جیسے ملک میں کورونا کی معاشی تباہی کے نتیجے میں 3.3ملین افراد بیروزگار ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ یورپ کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں۔ چین جو دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے، کو کورونا وائرس کے باعث 700ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے اور اُس کی جی ڈی پی جو گزشتہ سال 6.1تھی، اِس سال گر کر 2.3فیصد پر آگئی ہے جبکہ عالمی پروازیں منسوخ ہونے کے باعث دنیا بھر کی ایئرلائنز انڈسٹریز کو اب تک 200ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

اقوامِ متحدہ کانفرنس برائے ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں پاکستان کا شمار اُن ممالک میں کیا ہے جن کی معیشت کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوگی جبکہ ورلڈ بینک نے بھی پیش گوئی کی ہے کہ کورونا وائرس کے باعث پاکستان کی معاشی گروتھ رواں مالی سال 2.4فیصد سے کم ہوکر 1.1فیصد رہ جائے گی اور موجودہ گھمبیر صورتحال میں پاکستان کی معیشت کو ایک کھرب روپے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ گرکر نچلی ترین سطح پر آچکی ہے جس سے سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب چکے ہیں جبکہ ملکی ایکسپورٹ جو 60فیصد ٹیکسٹائل پر منحصر ہے، کے آرڈرز منسوخ ہونے کی وجہ سے ایکسپورٹ میں 2سے 4ارب ڈالر کی کمی کا امکان ہے۔ اسی طرح عالمی منڈیوں میں تیل کے نرخ گرنے کے باعث خلیجی ممالک کی معیشتیں متاثر ہونے کی صورت میں وہاں کام کرنے والے پاکستانی مزدور اپنی ملازمتوں سے محروم ہو سکتے ہیں جس سے پاکستان کی ترسیلات میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں کموڈیٹی کے پرائز کم ہونے کے باعث چاول کی ایکسپورٹ جو 2ارب ڈالر تک ہوتی تھی، میں بھی کمی کا امکان ہے جبکہ عالمی پروازیں منسوخ ہونے کے باعث پی آئی اے کو ماہانہ 65ملین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق لاک ڈائون کے نتیجے میں پاکستان میں ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد بیروزگار ہوسکتے ہیں جس سے ملک میں بیروزگاری کی شرح 8فیصد تک پہنچ جائے گی۔ کورونا وائرس سے سب سے زیادہ دیہاڑی دار مزدور، رکشہ ڈرائیور اور چھابڑی والے متاثر ہوئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق موجودہ دور حکومت میں سطح غربت سے نیچے رہنے والے افراد میں 10فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2018ءمیں سطح غربت سے نیچے رہنے والے افراد 30 فیصد تھے جو 2019ءمیں بڑھ کر 40فیصد تک پہنچ گئے اور امکان ہے کہ کورونا وائرس کی وبا سال کے آخر تک اس سطح کو 50فیصد پر پہنچا دے گی جس کا مطلب ہے کہ پاکستان کی آدھی آبادی سطح غربت سے نیچے رہنے والوں میں شامل ہوجائے گی اور اُنہیں یہ معلوم نہیں ہوگا کہ اُنہیں دو وقت کی روٹی کہاں سے حاصل ہوگی جو کسی خطرے سے کم نہیں۔

امریکہ اور یورپ کی حکومتوں نے کورونا وائرس کی صورتحال سے نمٹنے اور اپنے شہریوں کو گھر بیٹھے مالی سپورٹ فراہم کرنے کیلئے اربوں ڈالر مختص کئے ہیں۔ امریکی حکومت نے 2.2کھرب ڈالر، G-8ممالک نے 5کھرب ڈالر، جرمنی نے 1.2کھرب ڈالر اور دیگر ترقی یافتہ ممالک نے اربوں ڈالر مختص کئے ہیں جبکہ پاکستان میں حکومت نے کورونا وائرس کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے محض 1200ارب روپے مختص کئے ہیں جو اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کا غریب طبقہ اب یہ کہنے پر مجبور ہے کہ بھوک سے مرنے سے اچھا ہے کہ وہ روزگار کی تلاش میں باہر نکلیں، چاہے وہ کورونا وائرس سے ہی کیوں نہ مرجائیں۔

ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ ہم ایک نظر نہ آنے والے دشمن کے خلاف حالت جنگ میں ہیں اور آنے والے دن ہمارے لئے مزید کٹھن ثابت ہوں گے جس سے ایک طرف ملک میں اموات کی شرح بڑھے گی تو دوسری طرف ملکی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے گا کیونکہ کورونا وائرس ملکی معیشت میں سرایت کرگیا ہے جو کمزور معاشی مدافعت کے باعث معیشت کو شدید نقصان پہنچارہا ہے جس سے ملکی معیشت وینٹی لیٹر پر آگئی ہے۔ ایسے نازک موقع پروزیراعظم کے قریبی رفقا اور وزیروں کی عوام کی بنیادی ضروریات کی اشیا آٹا اور چینی کا بحران پیدا کرکے اربوں روپے بٹورنے کی خبریں منظر عام پر آرہی ہیں جس سے عوام کے غم و غصے میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ اگر موجودہ گھمبیر صورتحال میں عوام کی فلاح و بہبود اور انہیں راشن کی سپلائی یقینی بنانے پر توجہ نہ دی گئی تو ملک میں امن و امان کی بدترین صورتحال پیدا ہوسکتی ہے اور لوگ اپنی اور اپنے بچوں کی بھوک مٹانے کیلئے سپر مارکیٹوں اور کاروباری مراکز میں گھس کر لوٹ مار شروع کرسکتے ہیں اور اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو پھر پاکستان کا کوئی گھر محفوظ نہیں رہے گا۔

تازہ ترین