آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ17؍ ربیع الاوّل 1441ھ 15؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
گڈ گورننس، اچھی حکمرانی یا بہتر راج نیتی کے مسئلے پر مسلم اسکالرابنِ تیمیہ سے لے کر ہندو سیاست گری کے بانی کوٹیلا چانکیہ تک نے گتھی کو سلجھانے کی کو ششیں کیں لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ خاص طور پر ایسے معاشروں میں جہاں انسانی سوچ پر خوف کی چھاپ ہو اور جمہوریت یا حکمرانی کا حق سرمایہ داروں کی شیروانی کی گھڑی بن چکی ہو۔ پاکستان میں شہری یا مذہبی آزادیو ں، اظہار رائے اور مواقع کی مساوات۔ ان دونوں معاملات میں اہم ترین اداروں کی ریاستی امور میں صفر کارکردگی جبکہ گروہی سیاست میں شاندار پرفارمنس کی وجہ سے پاکستان پینسٹھ سالوں سے ”ریورس گیئر“پر چل رہا ہے ۔ حکومتی اور ریاستی اسٹیک ہولڈرز نظریہٴ ضرورت کے بھی پر دادا ”سب اچھا“ کے قیدی ہیں ۔ بیورو کریسی اور سول ایڈمنسٹریشن انتہائی غیر منظم اور غیر پیشہ ورانہ انداز میں الجھ کر گہری کھائی کی طرف مسلسل دوڑ رہے ہیں ۔ چنانچہ راج نیتی کے بنیادی اصول یعنی گڈ گورننس کیلئے کسی بھی بھری ہوئی پلیٹ میں جگہ موجود نہیں ہے۔ ایسے ماحول میں اس ہفتے کے تین واقعات خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دینے والے ہیں۔ پہلا، بھارتی لو ک سبھا سے پاس ہونے والا وہ قانون ہے جس کے تحت عفت مآب خواتین کا پیچھا کرنے اور بے حیا دیدے پھاڑ کر صنف نازک کو ہراساں کرنے جیسی ناقابل برداشت حرکتوں

کو ناقابل ضمانت جرم قرار دے دیا گیا۔ ایک بہت ہی بڑے سیکولر ملک اور معاشرے میں لوک سبھا کا پاس کردہ یہ بل اسلامی فوجداری قوانین کے تصور سے جڑا ہوا ہے، جہاں نیچی نظر اصل مردانگی ہے۔ اس سے ملتا جلتا قانون فرنگی کے زمانے میں تعزیرات ہند کی دفعہ 294میں بنایا گیا تھا لیکن یہ جرم قابل ضمانت ہے۔ اس لئے تعزیرا ت پاکستان کی کتاب میں اس کی موجودگی عمومی طور پر پاکستانی سماج کے مزاج کو تبدیل نہیں کر سکی۔ اچھی گورننس کی روح یہی ہے کہ معاشرے میں کمزور اور زیرِدست طبقات کو ریاستی طاقت کے بل بوتے پر مضبوط اور طاقتور بنایا جائے۔
دوسرا واقعہ ہے آزاد جموں وکشمیر کے انتہائی منفرد بزرگ لیڈر سردار عبدالقیوم سے ہونے والی نشست ۔ جس میں راج نیتی جیسے اہم سیاسی اور ریاستی موضوع پر ان کی کتاب ”اچھی حکمرانی“ دیکھ کر اور ان کے خیالات سن کر مجھے بھرپور اطمینان ہوا۔ تیسرے اور موٴثر ترین لاہو ر ہائی کورٹ کے دانشور چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کے وہ جملے ہیں جو انہوں نے حج کوٹہ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس کی صورت میں دیئے ۔ویسے تو دانشمندوں کی کمی کبھی نہیں رہی لیکن میرے نزدیک دانشور وہ ہے جو اپنے عِلم کو حکمت کے ساتھ ملا کر گم کردہ راہ، ہجوم کی درست منزل کی طرف رہنمائی کرے ۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے بنک ڈیفالٹ، بد انتظامی اور نااہلیت کے حوالے سے فکر انگیز سوچ کا اظہار کیا۔ یاد رہے کہ راج نیتی ایک پہیے والی سائیکل نہیں بلکہ اس کے دو حصے ہیں ۔ حکمران اشرافیہ اور ووٹر عوام ۔ یہاں یہ بات کھل کر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حکمران اشرافیہ سے مراد سیاسی کارکن یا ساری سیاسی لیڈر شپ نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب پینسٹھ سالوں سے طاقت کے مراکز پر چھائے ہوئے وہ گروہ ہیں جن کو قوم کی قسمت اور ملک کی تقدیر کے فیصلے کرنے میں حرفِ آخر کی حیثیت حاصل ہے۔ پاکستان کی یہ ایلیٹ کلاس فیصلے کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتی ہے؟اس کا تازہ ترین نمونہ پچاس دن کے عبوری وزیراعظم کے انتخاب کے لئے کی جانے والی ایکسر سائز سے کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ جس کے دوران ”میں میں اور صرف میرا “کی آوازوں سے پورا ملک گو نجتا رہا لیکن چھ دنوں میں اعلیٰ ترین حکومتی اور سیاسی عہدیدار اٹھارہ کروڑ لوگوں میں سے ایک معزز آدمی تلاش کرنے میں ناکام ہو گئے جو نگران بلکہ حیران وزیر اعظم کا کردار ادا کرسکے۔
چھ دنوں سے یاد آیا بھارتی حیدرآباد کے مسلم کش فسادات کے دوران مارے گئے ایک شاعر نے چھ دنوں کو بہت اچھے طریقے سے یوں بیان کر رکھا ہے:
چھ دنوں تک شہر میں گھوما وہ بچوں کی طرح
ساتویں دن جب وہ گھر پہنچا تو بوڑھا ہو گیا
چل دیئے پاشی تری دنیا کو ہم تو تیاگ کر
اور اس کے ساتھ ہی ، اک دور پورا ہو گیا
متفقہ 20 ویں ترمیم کے ذریعے پانچ عدد عبوری حکومتوں کے قیام کے آئینی ڈھانچے کو نئی شکل دینے والے ، اپنے ہی بنائے ہو ئے بندوبست کے تحت مشاورت کے پہلے امتحان میں ہی اس بری طرح فیل ہوئے جس کی مثال جدید عالمی سیاسیات میں ایک نیا ریکارڈ ہے ۔ اچھی گورننس کو جانے دیجئے وہ ممالک جہاں ریاست کی رٹ میں ملک کے ریاستی ڈھانچے ، فعالیت اور سماج میں قانون اور ضابطوں کے بلاامتیاز نافذ کئے جانے کے بنیادی عناصر موجود ہیں وہاں معیشت چیلنج ہے، مسئلہ نہیں ۔ یہ نظام مذہبی پاپائیت والے ممالک ، شخصی حکومتوں سمیت بے شمار ملکوں میں موجود ہے۔ جہاں الیکشن ہوتے ہیں مگر چہروں کی تبدیلی پہلے سے جاری پالیسیوں اور منصوبوں پر اثر انداز نہیں ہوتی ۔ ذرا اپنے ہاں دیکھ لیجئے، مخالفین کو چور کہہ کر چوکوں میں لٹکانے کے اعلانات،کھلے عام وفاداری کے حلف اور اندرون ِ خانہ وفاداریاں تبدیل کرنے کی سودے بازی۔ بین الاقوامی وعدوں سے پھر جانے کی نوید۔ معیشت ، معاشرت اور ریاستی امور کو شخصی ٹنل وژن کے ذریعے چلانے کی خوشخبریاں۔کسی تھنک ٹینک اور سوچی سمجھی اسٹرٹیجی کے بغیر دنیا کی واحد ایٹمی اسلامی طاقت کو ٹائیگر بنانے کے زبانی فارمولے۔ اتنے غیر منظم ملک اور بری طرح تقسیم شدہ معاشرے کی گورننس چلانا تو ایک طرف، ایک گھر چلانے کیلئے بھی درست سمت کی تیاری کا پتہ نہیں دیتی۔ یہ راز اب کو ئی راز نہیں بلکہ سب اہلِ گلستاں جان چکے ہیں کہ پاکستان کا مسئلہ گورننس کے ایک طے شدہ ماڈل سے مسلسل بغاوت اور حکومتوں کیلئے قائم مسلمہ عالمی روایات سے روگردانی ہے ۔ اس ہفتے میں ملک کی اعلیٰ ترین عدالتوں سے ہونے والے دو فیصلے بہت اہم ہیں۔ ایک کراچی بدامنی کیس میں سپریم کورٹ کا حکم جس کے ذریعے پندرہ دن کے اندر ”نو گو ایریاز“ختم کرنے کیلئے سندھ کی عبوری حکومت کی ڈیوٹی لگائی گئی۔ پاکستان کے آئینی نظام میں حق زندگی یعنی رائٹ ٹو لائف کو بنیادی انسانی حق مانا جاتا ہے ۔ اس کے عملی نفاذ کا حکم کھلا آئینی تقاضا ہے مگر سوال یہ ہے کہ گزشتہ عشروں سے شہر پاکستان کی شہ رگ پر بیٹھے ہوئے اداروں نے عوامی اور حکومتی سطح پر نو گو ایریاز کے خاتمے کے لئے کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا…؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ آج پاکستان کے ہر صوبے میں نوگوایریاز بن چکے ہیں؟ میں نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اسلام آباد کے دیہی علاقے میں قائم افغان مہاجروں اور لینڈ مافیا کے نوگوایریا زکی نشاندہی کی تو مجھے اس وقت کے کابینہ کے بڑے نے کہا آپ کا تاثر درست نہیں۔ جس پر میں نے انہیں دعوت دی کہ وہ ترنول اور چراہ کے ان علاقوں میں جا کر دکھا دیں جن کی نشاندہی میں کر رہا ہوں ۔ عدالت عظمیٰ میں اس حقیقت کا اعتراف کہ ملک میں نوگوایریاز موجود ہیں ریاست کی سکڑتی اور سمٹتی ہوئی رٹ کا کھلا ثبوت ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ آج پاکستان کا کوئی محفوظ ترین حکمران بھی اندرون بلوچستان ، اندرون فاٹا ۔ اندرون ِ سوات، اندرون کراچی سمیت سیکڑوں شہروں میں کئی سالوں سے قدم تک نہیں رکھ سکا سوائے آرمی چیف کے۔ اس لئے یہ بات کھل کر کہنا چاہتا ہوں کہ اس وقت پاکستان میں گڈ گورننس سے بھی پہلا مسئلہ پاکستان کے اپنے علاقوں میں اس کی گورننس کی بحالی ہے۔ نئی نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کے ارکان کو پاکستان کے سارے شہروں ، اضلاع اور ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کے دورے کرنا چاہئیں تاکہ فرضی اعداد و شمار کے بجائے ارضی حقائق کو سمجھا جا سکے۔ ملک کے اندر نوگوایریاز کے خاتمے کا فرض سارے ملک کے جج مل کر بھی اکیلے ادا نہیں کر سکتے ۔ مگر سارے ادارے مل کر مقبوضہ سرزمینِ پاکستان کا یہ قرض آسانی سے اتار سکتے ہیں ۔
دوسرا اہم فیصلہ سندھ ہائی کورٹ سے سامنے آیا ہے جس کے ذریعے بیرون ملک قائم خود اختیاری فراری کیمپ سے پاکستان واپسی کے دروازے کھل گئے۔ اس سے پہلے یہ سہولت بی بی سی کے معروف نامہ نگار مارک ٹیلی کو بھی مل چکی ہے۔ اس لئے اس عبوری ریلیف کو رعایت نہیں کہا جا سکتا لہٰذا اس میں کوئی سرپرائز پوشیدہ نہیں لیکن پاکستان کے شہر اقتدار میں موجود سفارتی اور سیاسی تجزیہ کار آرٹیکل چھ کے شور شرابہ کیمپ میں قبرستان جیسی خاموشی پر حیران ضرور ہیں۔ کچھ کو دکھ ہے کہ ہمارا ہر بڑا فیصلہ مالدار برادران ِاسلام کے ہاں کیوں ہوتا ہے؟ دوسرے اسے پروپیگنڈا سمجھتے ہیں لیکن وہ سارے جو آرٹیکل چھ کے بڑے ملزم کی گرفتاری کے نعرے مارتے تھے انہیں کس سانپ نے سونگھ رکھا ہے؟ یہ وہی بتا سکتے ہیں۔ پاکستان کے وسائل برق رفتاری سے مختلف کارٹیلز کے قبضے میں جا رہے ہیں۔ آئین میں طے شدہ عوامی راج کا خواب پورا نہ ہوا تو قدرت کے قانون کے مطابق راج نیتی وہ چلائیں گے جنہیں تلوار چلانے کا فن آتا ہے۔ وقت کی دیوار پر صاف لکھا ہے دنوں کی ترتیب بدل رہی ہے۔