آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عمر چیمہ

اسلام آباد :… سنگاپور کی ایک یونیورسٹی نے پیش گوئی کی ہے کہ کورونا وائرس رواں سال جون میں ختم ہو جائے گا۔ وزیراعظم کے مشیر صحت ظفر مرزا نے جس دن اس تحقیق کے نتائج سامنے آئے اسی دن عوام کو یہ بات بتائی۔ یہ نہ صرف خوشخبری تھی بلکہ یہ بات سننے کیلئے لوگ بھی بے قرار تھے۔ لیکن کیا یہ واقعی سچ ہے؟

اس کا جواب معلوم کرنے کیلئے اعداد و شمار کا تجزیہ کرنا ہوگا۔ سنگاپور یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ ڈیزائن نے وبا سے متاثر ہونے والے تمام ممالک کا جائزہ لیا ہے۔ پاکستان بھی اس کا حصہ ہے۔ وبا کے پھیلنے کے انداز کا جائزہ لینے کیلئے ’’سسیپٹبل انفیکٹڈ ریکورڈ‘‘ یعنی ایس آر آر ماڈل تخلیق کیا گیا۔

تحقیق کے مطابق، 90؍ فیصد کورونا وائرس جون تک دنیا بھر سے ختم ہو جائے گا، مخصوص ملکوں کے حوالے سے وائرس کے خاتمے کا وقت معمولی حد تک مختلف ہے اور ان میں چند دن سے لیکر چند ماہ کا فرق ہے۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق، وائرس دنیا بھر سے مکمل طور پر دسمبر 2020ء تک ختم ہوگا۔ کاش کہ یہ سب اتنا ہی آسان ہوتا۔لیکن ایسا ہے نہیں۔

بظاہر اس تحقیق میں خیال پیش کیا گیا ہے کہ جو لوگ وائرس سے ریکور ہو چکے ہوں گے ان میں دوبارہ علامات ظاہر نہیں ہوں گی اور اسلئے ایسے لوگوں کو ’’خطرے سے پاک‘‘ یا ’’امیونٹی پاسپورٹ‘‘ کی سند جاری کی جا سکتی ہے؛ جس کا خیال کچھ حکومتوں نے پیش کیا ہے تاکہ لوگوں کو کام کاج کیلئے بھیجا جا سکے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، اس بات کے شواہد نہیں کہ جو لوگ وائرس سے ریکور ہو چکے ہیں اور ان میں وائرس سے بچائو کی اینٹی باڈیز موجود ہیں، وہ دوسری مرتبہ متاثر نہیں ہوں گے۔ یہ بھی کہ تحقیق میں آبادی کی جانب سے حفاظتی اقدامات اور رویے کا جائزہ نہیں لیا گیا تاکہ وائرس کی دوسری لہر کو آنے سے روکا جا سکے۔

جاپان کا جزیرہ ہوکائیڈو اس کی واضح مثال ہے۔ پہلے تو اس جزیرے پر سخت لاک ڈائون نافذ کیا گیا جس سے تقریباً کورونا وائرس ختم ہوگیا لیکن جیسے ہی جزیرے کو دوبارہ کھولا گیا تو وائرس کی دوسری لہر نے حملہ کر دیا جس سے جزیرے کو دوبارہ لاک ڈائون کرنا پڑا۔

دوسری طرف یورپی ملک جرمنی کی جانب سے ملک کو محتاط انداز سے کھولنے کے آپشن پر غور کیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی چانسلر انجیلا مرکیل نے خبردار کیا ہے کہ جو کچھ ہم نے اتنی محنت سے حاصل کیا ہے اسے ضایع کرنے کیلئے جوا نہیں کھیل سکتے کیونکہ اس سے بڑا دھچکا لگنے کا اندیشہ ہے۔ جرمنی ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں وبا سے نمٹنے کیلئے مثالی اقدامات کیے گئے ہیں اور ڈبلیو ایچ او نے بھی جرمنی کے اقدامات کی تعریف کی ہے۔

جرمنی میں وبائی امراض کے ماہر جوناس شمٹ شنسٹ نے ایک دم پورا ملک کھولنے کی بجائے تجویز دی ہے کہ مرحلہ وار لاک ڈائون ختم کرتے ہوئے اس کے نتائج دیکھے جائیں۔

چین اور جنوبی کوریا دو ایسے ممالک ہیں جو شروع میں متاثر ہوئے تھے لیکن اب وہاں ایک مرتبہ پھر وائرس سے لوگوں کے متاثر ہونے کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ سنگاپور میں بھی دوسری لہر آئی ہے۔ متاثرین کی تعداد کم ہونے کے حوالے سے شدید گرمی (ہیٹ ویو) کو ان عوامل میں شامل کیا جا رہا ہے جو کورونا وائرس کو ختم کر سکتے ہیں لیکن اس کے بھی شواہد نہیں۔ کورونا وائرس نے پوری دنیا کو حیران و پریشان کر دیا ہے۔

سائنسدان اسے سمجھنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں، کئی باتیں اب بھی معلوم نہیں۔ جب تک پوری بات پتہ نہیں چل جاتی اس وقت تک صرف قیاس آرائیاں ہی کی جا سکتی ہیں۔ برطانوی حکومت کے چیف میڈیکل افسر پروفیسر کرس وہیٹی نے اپیل کی ہے کہ کم از کم سال کے آخر تک سماجی فاصلہ (سوشل ڈسٹنس) اختیار کیا جائے۔

جنوبی افریقہ میں مستقبل کے امور پر نظر رکھنے والے ماہر اور اسٹریٹجی کنسلٹنٹ گرائیم کوڈرنگٹن کہتے ہیں کہ سوشل ڈسٹنس کا سلسلہ کم از کم آئندہ سال کے وسط تک جاری رہ سکتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ گھروں، اسکولوں یا دفاتر سے باہر لوگوں کے روابط 75؍ فیصد تک کم ہونے کا امکان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زندگی جلد معمول پر آنے کا امکان نہیں۔ اسلئے، معمولات بحال ہونے سے قبل دنیا کو کورونا وائرس کی ویکسین درکار ہوگی۔

لوگ انتظار کر رہے ہیں کہ ویکسین کب تک تیار ہوگی۔ اگر بل گیٹس کی بات مان لیں تو ویکسین آنے میں 14؍ سے 18؍ ماہ لگیں گے۔ اس کے بعد یہ دیکھنا ہوگا کہ کس ملک کو سب سے پہلے ویکسین ملے گی اور یقینی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ جو ملک یہ ویکسین پہلے بنائے گا اس کے عوام کو یہ دوا پہلے ملے گی۔ اس کے بعد اُن ممالک کا نمبر آئے گا جو امیر ہیں یا وائرس کے دوسرے حملے کے خطرے کا سامنا کرنے والے ممالک۔

مختصراً، ہر ملک میں ویکسین پہنچنے میں کچھ سال لگیں گے۔ اس وقت تک ہمیں خود کو ایک نئی عمومی حالت کیلئے تیار کرنا ہوگا۔ جھوٹی تسلیوں سے کوئی مدد نہیں ملنے والی۔

اہم خبریں سے مزید