آپ آف لائن ہیں
جمعرات13؍ صفر المظفّر 1442ھ یکم اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

علم و حکمت کی اعلیٰ ترین قسم تو وہ ہے جو ﷲ پاک کی آخری کتاب میں محفوظ ہے۔ دوسری قسم وہ ہے جو ہمیں کتابوں میں ملتی ہے۔ اپنی اپنی نوعیت کے حساب سے علم روح کی غذا بھی ہے اور جسم کی غذا بھی۔ علم کی تیسری قسم جسے ہم کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے وہ خود ہماری زندگی کی کتاب، ہمارے تجربات و مشاہدات اور ہمارے غور و فکر میں پنہاں ہے۔ زندگی کا سفر دلچسپ اور تیز رفتار ہوتا ہے اور ہر شخص کا سفر دوسرے سے منفرد اور الگ ہوتا ہے۔ انسان قدم بقدم سیکھتا اور اپنی کتابِ زیست میں لکھتا چلا جاتا ہے۔ غور و فکر کی عادت اور اپنے آپ کو ڈھالنے یا بہتر بنانے یا اپنی تربیت کرنے کا جذبہ موجود ہو تو انسان اپنے ذاتی تجربات کو اپنے جسم پر لاگو کر لیتا ہے اور انہی تجربات کی روشنی میں اپنے رویے بہتر بناتا چلا جاتا ہے۔ زندگی کی کتاب وہ واحد کتاب ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی کیونکہ زندگی کے آخری سانس تک سیکھنے، سمجھنے اور اپنانے کا عمل جاری رہتا ہے۔ ہم بڑی بڑی دقیق، تحقیقی اور علمی کتابوں کو پڑھتے ہیں اور انہیں ختم کر کے دم لیتے ہیں لیکن کتابِ زیست اُسی وقت ختم ہوتی ہے جب خود زیست عمل کی منزل عبور کر کے جوابدہی کی منزل میں داخل ہو جاتی ہے۔ زندگی نام ہے عمل کا، آزادی اور مرضی سے عمل کرنے کا جبکہ زندگی کے بعد آنے والی زندگی جوابدہی کی منزل ہے۔ یہاں عمل ختم اور حساب کتاب شروع ہو جاتا ہے۔

علم کی تیسری قسم کا خیال آیا تو زندگی ایک فلم کی مانند آنکھوں کے سامنے گھومنے لگی۔ ایک واقعہ یاد آیا تو محسوس ہوا کہ زندگی کے طویل مگر مختصر سفر میں کچھ باتیں ذہن میں محفوظ ہو جاتی ہیں، کچھ پند و نصائح یا محبت و شفقت اور خلوص سے دیے گئے مشورے دل میں مستقل جگہ بنا لیتے ہیں اور زندگی کے رہنما اصول بن جاتے ہیں۔ یہ بھی ایک عجیب سا تجربہ ہے کہ انسان زندگی بھر بہت کچھ سنتا ہے لیکن کبھی کبھی بعض باتیں متاثر کر جاتی اور زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔ شاید بعض لمحات قبولیت کے ہوتے ہیں جب دل کی نرمی اور طبیعت کا گداز انسان میں ایسی کیفیت پیدا کر دیتا ہے کہ وہ جو سنتا ہے اُسے دل میں انمول خزانے کی مانند محفوظ کر لیتا ہے یا انمول موتی کی مانند سجا لیتا ہے۔ انسانی کیفیات بدلتی رہتی ہیں اور اسی طرح انسان کی قبولیت کا پیمانہ بھی بدلتا رہتا ہے۔

میں کوئی چوبیس برس کا نوجوان تھا جب مقابلے کا امتحان پاس کیا۔ اس دور میں سول سروس کا وقار عروج پر تھا اور مقابلے کے امتحان میں کامیابی نہایت روشن مستقبل کی دلیل سمجھی جاتی تھی۔ یوں بھی چوبیس سال کی عمر امنگوں، خوابوں اور جذبوں کی عمر ہوتی ہے۔ مڑ کے واپس دیکھتا ہوں تو اب خوابوں اور آرزوئوں کا گلستان اُجڑا اُجڑا دکھائی دیتا ہے اور بس صرف ایک خواہش باقی تمام خواہشات پر غالب آ چکی ہے۔ وہ خواہش بلکہ دعا ہے بخشش اور مغفرت کی۔ زندگی کے سفر میں بعض خواہشات یا آرزوئیں دعا بن جاتی ہیں۔ دعا انسان کو اپنے قالب میں ڈھال لے تو حقیقت بن جاتی ہے ورنہ محض ایک خواب بن کر ذہن پہ دستک دیتی رہتی ہے۔ ٹریننگ اکادمی جوائن کرنے سے قبل اپنی نانی جان کو سلام کرنے ننھیال پہنچا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے جب سے شعور کی آنکھیں کھولیں، نانی جان کو اپنے لئے دعائیں کرتے ہی پایا۔ امتحان میں دیتا تھا اور فکر میری نانی کو لاحق رہتی تھی۔ وہ ہمہ وقت جائے نماز پر بیٹھی تسبیح کے دانے پھیرتیں، نمازیں ادا کرتیں اور ہاتھ اٹھائے میری کامیابی کے لئے دربارِ الٰہی میں التجا کرتی رہتی تھیں۔ میں نظر آتا تو بسم اللہ کہہ کر استقبال کرتیں اور اپنے ساتھ ’’تخت پوش‘‘ پہ بٹھا لیتیں۔ جب اُن کو بتایا کہ چند روز کے بعد تربیتی اکادمی جوائن کرنی ہے تو انہوں نے مجھے رخصت کرتے ہوئے فقط ایک بات کہی۔ بات کیا تھی نصیحت تھی، وصیت تھی اور دنیا و آخرت میں کامیابی کی کنجی تھی۔ اُن کو صرف اتنا پتا تھا کہ میں بڑا افسر بننے جا رہا ہوں۔ کہنے لگیں پُتر۔ انصاف کرنا، لوگوں کی مدد کرنا، بیوائوں، یتیموں کا خاص خیال رکھنا، اس سے کرسی کی زکوٰۃ نکلتی ہے۔ یہ نصیحت کیا تھی دعا کا ایک پھول تھا جو میرے قلب میں زندگی بھر مہکتا رہا۔ وقت گزر گیا، دہائیاں گزر گئیں، بےشمار غلطیاں سرزد ہوئیں، گناہ اور لغزشیں بھی اَن گنت ہیں لیکن ایک بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ 37سالہ ملازمت کے دوران نہ کسی سے جان بوجھ کر زیادتی یا نا انصافی کی، نہ سفارشوں اور دبائو کے باوجود غلط فیصلے کیے۔ رزقِ حلال کا تصور ہمیشہ ملحوظ خاطر رہا اور ایمانداری سے فرائض سرانجام دیتا رہا۔ جہاں تک ممکن ہوا یتیموں اور بیوائوں کا بھی خیال رکھا۔ میرا ایمان ہے کہ نیک نصیحت صدقہ جاریہ ہوتی ہے۔ زکوٰۃ فرض ہے اور اس کی ادائیگی سے مال پاک ہوتا ہے لیکن میرے نزدیک زکوٰۃ کا تصور محض مال و دولت پر نہیں بلکہ اس کا اطلاق پوری شخصیت پر اور پوری زندگی پر ہوتا ہے۔ اچھا مشورہ، اچھی نصیحت، نیکی کی طرف مائل کرنے والی بات یا تحریر قلب و ذہن کی زکوٰۃ ہے، حسن اخلاق، باطن کی زکوٰۃ ہے، روزہ اور خدمتِ خلق جسم کی زکوٰۃ ہیں، مذہبی فرائض کی ادائیگی جسم کے ساتھ قلب و روح کی زکوٰۃ ہے وغیرہ وغیرہ۔ حضرت علی بن عثمان ہجویریؒ نے کشف المحجوب میں ایک حدیث مبارک کا حوالہ دے کر لکھا ہے ’’زکوٰۃ نعمت پر شکر گزاری کا اظہار ہے۔ اس لئے زکوٰۃ سونے چاندی اور مال تک محدود نہیں بلکہ ہر نعمت پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ حضور نبی کریمﷺ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے تم پر تمہارے مرتبہ کی زکوٰۃ اسی طرح فرض فرمائی ہے جس طرح مال پر ....گھر کی زکوٰۃ مہمان داری ہے اور تندرستی، اعضائے جسمانی کی نعمت کی زکوٰۃ خدا کی بندگی میں مشغول رہنا ہے....‘‘ ہم سمجھتے ہیں کہ زکوٰۃ صرف مال و دولت پر واجب ہوتی ہے۔ اِسے ادا کر کے ہم زکوٰۃ سے فارغ ہو جاتے ہیں حالانکہ زکوٰۃ عہدے اور مرتبے پر واجب ہونے کے علاوہ پاکیزگی کا ایسا عمل ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں جاری رہتا ہے۔

شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات