آپ آف لائن ہیں
ہفتہ19؍ذیقعد 1441ھ11؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

رمضان المبارک ایک مخصوص وقت تک خود کو کھانے پینے سے مکمل طور پر روک دینے کانام ہے۔ یہ مہینہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیےبھوک پیاس برداشت کرنے کا درس دیتا ہے،جس کے نتیجے میں اللہ ربّ العزّت نے مسلمانوں کو عید الفطر کی صُورت انتہائی خوشی کا دِن بطور انعام عطا کیا۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا،جب لوگ عید الفطرکے دِن عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں، تو اللہ ربّ العزّت فرشتوں سے فرماتا ہے’’، اے میرے فرشتو! اس مزدور کی اجرت کیا ہونی چاہیے، جو اپنا کام پورا کردے؟‘‘ وہ عرض کرتے ہیں،’’ الٰہی اس کی اجرت یہ ہے کہ اسے پورا پورا اجر دیا جائے۔‘‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں’’ اے فرشتو! تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ مَیں نے اُنہیں رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلے میں اپنی رضا اور مغفرت عطا فرمادی‘‘ اور پھر بندوں سے ارشاد ہوتا ہے کہ’’ اے میرے بندو! مجھ سے مانگو، میری عزّت و جلال اور بلندی کی قسم! آج کے دِن آخرت کے بارے میں جو سوال کرو گے، عطا کروں گا۔دُنیا کے بارے میں جو سوال کرو گے، اُس میں تمہاری مصلحت پر نظر کروں گا۔ میرے عزّوجلال کی قسم! مَیں تمہیں مجرموں اور کافروں کے سامنے رُسوا نہ کروں گا۔ 

مَیں تم سے راضی ہوگیا۔‘‘ماہِ شوال کا چاند نظر آتے ہی سحر تا غروبِ آفتاب بھوکےپیاسے رہنے کی اس پابندی کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے، جس پر تمام مسلمان رمضان المبارک کا پورا مہینہ عمل کرتے ہیں۔ چناں چہ نبی کریم ﷺکا ارشاد ہے،’’ یہ (عید کے )ایّام کھانے پینے، باہم خوشی کا لُطف اٹھانے اور خدا کو یاد کرنے کے ہیں۔‘‘تمام مسلمان انتہائی جوش و خروش کے ساتھ عید کے ان تہوار وں کا استقبال کرتے ہیں۔عید الفطرکے دِن صُبح سویرے نماز ِعید کا اہتمام کیا جاتا ہے اورسب ایک دوسرے سے ملتے ملاتے اورآپس میںخوشیاں تقسیم کرتے ہیں ۔ اس پُرمسّرت موقعے پر لذیذ کھانوں سے اپنے عزیزوں اور دوستوں کی ضیافت کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ 

تفریح انسانی فطرت کے بنیادی تقاضوں میں سے ہے۔ اس کا اظہار انسان اپنے معاشرتی ماحول کے مطابق مختلف صُورتوں میں کرتا ہے، لہٰذا عید کے موقعے پر بالعموم لوگ تفریح کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔لیکن امسال عید کا موقع پہلے جیسا نہیں ۔ پوری دُنیا میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث سماجی اور معاشرتی رہن سہن کے طور اطوار، رویّوں اور معمولات میں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ عید کا نام ویسے ہی باہم میل ملاپ، کھانے پینے اور خوشیاں منانے سے منسلک ہے، لیکن دوسری جانب اس بیماری کو پھیلنے سے روکنا صرف اور صرف سماجی دوری یا جسمانی فاصلے ہی سے ممکن ہے۔ 

اس اعتبار سے ہمیں اس عید پر اپنی صحت کے لیے جہاں دیگر کئی احتیاطیں ملحوظِ خاطر رکھنی ہیں، وہیں کورونا وائرس کے پیشِ نظر سماجی و معاشرتی دوری کے حوالے سے بھی پابندی اور احتیاطی تدابیرکے ساتھ یہ تہوار منانا ہے۔ ہمیں سب سے پہلے تواس حقیقت کو سمجھنا چاہیے کہ کورونا وائرس اور اس نوعیت کی جتنی بھی وبائوں کا سامنا انسان اس سے پہلے بھی کرتے آئے ہیں، یہ اللہ کی جانب سے تنبیہات اور آخرت کی یاددہانی کا ذریعہ ہیں۔ انسان چاہے ترقّی کی کتنی ہی منازل کیوں نہ طے کر لے، قدرتی آفات پر قابو نہیں پا سکتا۔ اللہ جو چاہے اس کا اختیار ہے اور اس کے اختیار کے سامنے انسان بالکل بے بس ہے۔

عیدین کے یہ تہوار برسوں سے دینی احکامات اور نبی کریمﷺ کی تعلیمات کی روشنی ہی میں منائے جاتے ہیں، مگر غیر اسلامی تہذیبوں کے غلبے سے آہستہ آہستہ ہمارے یہ تہوار بھی دیگر تقریبات کی طرح بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ ہماری غفلت اور عدم توجہی ہے۔ اس وبائی دَور میں ہمارے پاس غور و فکرکے لیے کافی وقت ہے،لہٰذا ان فارغ اوقات سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہمیں اپنی تہذیب و ثقافت اور پُرکھوں کی روایات کو زندہ و تازہ کرنے کے لیے مؤثر لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں، اسلامی تہذیب کی اپنی ایک منفرد شناخت ہےاور اس تہذیب کے معاشرتی تصوّرات اللہ کی بندگی سے جڑے ہیں۔ 

جہاں آزادی کا تصوّر تو موجود ہے، لیکن اللہ کے بتائے ہوئے قوانین کی پیروی کرتے ہوئے اس تہذیب کے بنیاد عنا کی صر حفظِ حیا، حفظِ مراتب اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہیں، جن سے معاشرتی حُسن و وقار قائم ہے۔ عید کے تینوںدِنوں میں بالعموم ہر گھر میں پسندیدہ ، لذیذ اور مرغوب کھانوں کا اہتمام کیا جا تا ہے۔اس موقعے پر دوست احباب اور عزیزرشتے دار بھی تشریف لاتے ہیں،مگر اب حالات کے پیشِ نظر گھرمیں زیادہ افراد جمع نہ ہونے دیں۔ غیرضروری ملنا ملانا اور دعوتیں کرنا بھی مناسب نہیں ۔ اگر کسی کی دعوت کا ارادہ ہو، تو کھانا تیار کرکے ان کے گھر بھجوانے کا اہتمام کیا جاسکتا ہے، تاکہ ماہرین کی ہدایت کے مطابق معاشرتی فاصلہ برقرار رکھا جاسکے۔ 

ماناکہ یہ دعوتیں، اجتماعی کھانے محبّت کے اظہار ،الفت بڑھانے کا ذریعہ ہیں اور پیارے نبیﷺکا اسوہ بھی۔ لیکن ہمارے نبیﷺہی کی یہ ہدایت بھی پیشِ نظر رہے کہ جس علاقے میں وبا ہو، اس علاقے کے رہایشی اس علاقے سے نہ نکلیں اور باہر کے لوگ اس علاقے میں نہ جائیں۔ اس لیے کوشش کی جائےکہ دی گئی ہدایت کے مطابق معاشرتی فاصلہ برقرار رکھیں اورعید کے پُرمّسرت لمحات اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہی گزاریں۔چوں کہ عید کے دِن میٹھے اور مرغّن کھانے ہماری معاشرتی روایات کا نہایت اہم حصّہ تصوّر کیے جاتے ہیں، تو ان کھانوں سے خُوب لطف اندوز ہوں، مگر اعتدال کے ساتھ ۔کیوں کہ اکثرافراد کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اپنی صحت بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں اور عام دِنوں میں کیے جانے والے پرہیز اور احتیاط سے پہلو تہی کرکے ہر قسم کے ممنوعات کی طرف ہاتھ بڑھاتے نظر آتے ہیں۔

یاد رکھیے، ماہِ رمضان میں ہم مخصوص اوقات میں کھانے پینے کے عادی ہو چُکے ہوتے ہیں اور ہماری بھوک بھی ان اوقات کے تابع ہوجاتی ہے،تو ہمیں عید کے روز کھانے پینے میں زیادہ احتیاط برتنی چاہیے۔ دستر خوان پر سجے کھانوں سے لطف اندوز ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں، مگر رمضان کے معمول کے بعد یکایک بہت زیادہ کھانا پینا نظامِ انہضام کے لیے نقصان کا باعث بھی ثابت ہوسکتا ہے،لہٰذا عید کے موقعے پر چند امور کی جانب خاص توجّہ دینی چاہیے۔ مشاہدے میں ہے کہ عید کے دِنوں میں ہر کوئی عام دِنوں کی نسبت میں زیادہ کھاتا پیتا ہے،نتیجتاًکئی افراد بدہضمی کا شکار ہوجاتے ہیں،جس کا علاج بھی کچھ نہ کچھ کھا کر ہی کیا جا تا ہے۔واضح رہے کہ معدے میں گرانی، تیزابیت، سینے میں جلن، خوراک کا ہضم نہ ہونا اور پیٹ میں درد اور دست وغیرہ کی شکایات، زیادہ مسالے دار اور مرغّن کھانوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ 

ماہرین کے مطابق مرغن، زائد نمک اور تیز مرچ مسالے والے کھانے معدے کی سوزش، السر اور ذہنی تنائو کا باعث بنتے ہیں۔ نیز، بُلند فشارِ خون، جگر کی کارکردگی، خون کی گردش پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی بے احتیاطی کی وجہ سے لوگ مختلف نوعیت کی ذہنی و جسمانی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ طبّی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے مواقع پر ذیابطیس کے مریضوں کو کھانے کے معاملے میں زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے،کیوں کہمیٹھی اشیاء، شربت اور بازاری مشروبات کے بے تحاشا استعمال کے نتیجےخون میں شکر کی سطح میں بعض اوقات اس قدر اضافہ ہوجاتا ہے کہ اسپتال میں داخلے تک کی نوبت آسکتی ہے۔

عید کے دنوں میں چند عمومی ہدایات پیشِ نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ان ہدایات کو صرف عید کے دِنوں ہی تک محدود رکھنا مناسب نہیں، بلکہ صحت مند زندگی گزارنے کے لیے ان اصولوں کو ہمیشہ کے لیے اپنے معمولات میں شامل کرلیا جائے، تو بہتر ہے۔ جیسا کہ کھانا کھانےسے قبل ایک گلاس پانی، پیناانسانی جسم کو کم کیلوریز لینے میں مدد فراہم کرتا ہے۔پانی کا ایک گلاس بسیارخوری میں کمی لانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ عید کے موقعےپر تو بالخصوص پانی کا استعمال اس لیے بھی زیادہ کرنا چاہیے کہ دورانِ رمضان جسم میں پانی کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔پانی کا زائد استعمال ایک صحت مندجسم کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس ضمن میں معالجین کی عمومی ہدایت کے مطابق ایک فرد کو روزانہ 8سے10 گلاس پانی پینا چاہیے۔

عید کے موقعے پر چٹ پٹے کھانوں کا رواج بھی عام ہے،تو اس معاملے میں بھی احتیاط برتی جائے،کیوں کہ موسمِ گرما میںاس طرح کے کھانے معدے کی کارکردگی متاثر کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔بہتر تو یہی ہے کہ سبزیوں اور تازہ پھلوں کا استعمال معمول سے زیادہ کیا جائے،کیوں کہ ان میں موجود پانی اور فائبر پیاس بُجھانے کے ساتھ پیٹ بَھرنے کا احساس بھی دلاتے ہیں۔ پھلوں میں موجود مٹھاس جسم میں شکر کی طلب کم کرتی ہے، جس کے نتیجے میں اتنا زیادہ میٹھا بھی استعمال نہیں کرپاتے، جو وزن بڑھنے کا باعث بن سکے۔ یاد رکھیے،کھانے کا مقصد محض بھوک مٹانا اور پیٹ بَھرنا نہیں ، بلکہ جسم کو توانائی فراہم کرنا ہے۔ 

آدھا پیٹ بَھر جانے کے بعد کھانے سے ہاتھ کھینچ لینا چاہیے، کیوں کہ جسم کی اتنی ہی ضرورت ہوتی ہے۔نیز،پیٹ بَھر کر کھانے سے شریانیں سخت اور اعصاب کم زور ہو کر بڑھاپا وقت سے پہلے آجاتا ہے ۔ حدیث ِ مبارکہﷺہے، ’’ پیٹ بھر کر نہ کھاؤ اور کھانے پر کھانا نہ کھاؤ۔‘‘ اس لیے کہ یہی ہر مرض کا سبب ہے۔علاوہ ازیں،ان عمومی ہدایات کے علاوہ کچھ چیزوں سے اجتناب بھی لازمی ہے۔ اس ضمن میں طبّی ماہرین چنداہم باتوں کی طرف متوجّہ کرتے ہیں۔ مثلاً عید پر گوشت کے مختلف پکوان تیار کیے جاتے ہیں، جن میں سے ایک فرائی گوشت بھی ہے۔ تیل میں فرائی کیے گئے گوشت کے استعمال میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے کہ تلا ہوا گوشت صحت کے لیے مضر ہے۔ گوشت کا بہت زیادہ اور مسلسل استعمال کولیسٹرول ، یورک ایسڈ ، بُلند فشارِ خون اور دِل کی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔نیز،گوشت کے زیادہ استعمال سے بدہضمی ، دست ،الٹی وغیرہ کی شکایت بھی ہوسکتی ہے،لہٰذا اعتدال ہی میں کھائیں۔ 

عید کے موقعے پر آئس کریمز اور کیکس وغیرہ کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ان میں موجود چینی نہ صرف وزن میں اضافے کا سبب بنتی ہے، بلکہ ذیابطیس کے مریضوں میں شکر کی مقدار اچانک بڑھ جانے کے نتیجے میںکوئی طبّی پیچیدگی بھی جنم لے سکتی ہے۔ اسی طرح جنک فوڈز ہماری عمومی خوراک کا حصّہ بن چُکے ہیں۔ کوشش کی جائےکہ عید پر جنک فوڈز کی بجائے گھر کے بنے ہوئے متوازن کھانے کھائے جائیں۔ علاوہ ازیں، کولڈ ڈرنکس کا استعمال بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتاہے کہ ان میں موجود بعض کیمیائی مادّے مختلف عوارض کا سبب بن سکتے ہیں۔ اگر معدے میں گرانی محسوس ہو، تو لیموں پانی استعمال کیا جائے کہ اس سے سینے کی جلن سے تحفّظ ملتا ہے۔ یا پھر تازہ پھلوں کا جوس پیئں۔ 

اکثر افراد کو زیادہ کھانے سے غنودگی محسوس ہوتی ہے اور وہ سو جاتے ہیں۔ عید کے دِن تو عموماً یہی ہوتا ہے کہ زیادہ تر افراد دوپہر میں کھانے کے بعد گہری نیند سوجاتے ہیں۔ طبّی تحقیق کے مطابق کھانے کے فوراً بعد سونا خطرناک ہے، کیوں کہ دِل کے دورے سے پہلے جو علامات ظاہر ہوتی ہیں، نیند کی وجہ سے ان کا پتا نہیں چلتا، جس کے نتیجے میںمریض دِل کے دورے سے بچنے کی ادویہ بروقت استعمال نہیں کرپاتا۔ نیز، فوراً سونے سے کھانا بھی ہضم نہیں ہوتا ہے، جس کے باعث معدے کی مختلف بیماریاں اور انفیکشنز لاحق ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

عید تہوار کے ان مواقع پر مرغّن و لذیذ کھانوں کی زیادتی اور ان کے مضر اثرات کی عمومی ہدایت سے قطع نظر یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ کھانوں میں بے اعتدالی کو اگر معمول نہ بنایا جائے، یعنی عام دِنوں میں بھی کھانوں میں اعتدال رکھا جائے تو ایسے مختلف خوشی کے مواقع سے ہم زندگی بَھر کےلیے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ کھانا ہمیشہ بھوک رکھ کر کھانا چاہیے اور بے وقت کھانے سےبچنا چاہیے۔اس ضمن میں حضورﷺنے فرمایا،’’انسان کو چاہیے کہ اپنے معدے کے تین حصّے کرے۔ 

ایک ٹھوس غذا کے لیے، ایک پانی کے لیے اور ایک حصّہ (ہوا کے لیے) خالی رہنے دے، تاکہ سہولت سے سانس لے سکے۔‘‘ آپﷺ نے ایک اور موقعے پر فرمایا، ’’ہم وہ قوم ہیں، جو اس وقت تک نہیں کھاتے، جب تک ہمیں بھوک نہ لگے اور جب کھاتے ہیں، تو پیٹ بَھر کر نہیں کھاتے۔‘‘لہٰذا جو افراد زیادہ کھانے کی وجہ سے موٹاپے کا شکار ہیں یا کسی اور مرض میں مبتلا ہیں، انھیں عید کے دِنوں میں کھانے پینے میں توازن کے ساتھ ساتھ احتیاط سے بھی کام لینا چاہیے۔ بالخصوص ذیابطیس، بُلند فشارِ خون اور معدے کے السر میں مبتلا مریض، کیوں کہ ان امراض کا براہِ راست تعلق ہماری خوراک سے ہے۔ ایسے مریضوں کے لیے طبّی ماہرین نے کچھ عمومی ہدایات دی ہیں۔

جیسے ذیابطیس کے مریض کھانے کی مقدار کو کم کر کے زیادہ تعداد میں پسندیدہ کھانے کھا سکتے ہیں۔ میٹھا کھانے میں اعتدال کا اصول اپنائیں۔ خون میںشکرکا لیول جانچنے کے بعدتھوڑا بہت میٹھا کھا سکتے ہیں۔اگر خون میںشکر کی سطح نارمل سے زائد ہو تو میٹھا بالکل استعمال نہ کریں۔ تاہم، میٹھے کے علاوہ دیگر غذائیں معمول کے مطابق استعمال کی جاسکتی ہیں۔ اگر کھانا زیادہ کھا لیں، تو ہضم کرنے کے لیے کولڈڈرنک استعمال کرنے کی بجائے کم از کم آدھا گھنٹہ تیز رفتاری سے چلیں۔ معدے کے السر کے مریض مرغّن اور تلی ہوئی اشیاء زیادہ استعمال نہ کریں۔ زیادہ ٹھنڈی اور زیادہ گرم چیزوں کا استعمال بھی مناسب نہیں۔ سویّاں، حلوا اور دیگر میٹھی اشیاء معمولی مقدار میں، جب کہ سلاد، چنا چاٹ اور دیگر سادہ پکوان خواہش کے مطابق کھاسکتے ہیں۔ بُلند فشارِ خون سے متاثرہ مریض نمک کا استعمال معمول سے بھی کم کریں۔ نیز، مرغّن غذائیں کم مقدار میں کھائیں،جب کہ سبزی، سلاد اور پانی کا استعمال زیادہ کریں۔کچھ دیر آرام ضرور کریں۔

اگر مذکورہ احتیاطی تدابیر کے باوجود طبیعت خراب ہو توڈاکٹرز سے رجوع کریں۔ کوروناوائرس کی وجہ سے چوں کہ ڈاکٹرز تک رسائی آسان نہیں ہے، اس لیے پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کی ٹیلی میڈیسن سروس (پیماہیلتھ لائن) کے ذریعے رہنمائی لی جا سکتی ہے۔علاوہ ازیں، متعدد معالجین بھی آن لائن مشورے دے رہے ہیں۔بہرحال، عیدالفطر کے موقعے پر جو بھی کھائیں،اعتدال سے کھائیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ خوشیوں بَھرا تہوار کسی طبّی مسئلےسے دوچار ہوکر گزارنا پڑ جائے۔ (مضمون نویس، علومِ اسلامیہ اور علم النفس کے طالبِ علم ہیں)