• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریک ختم نبوت کےقائدمولاناعبدالستارخان نیازی

تحریر : حافظ عبدالاعلی درانی۔۔بریڈ فورڈ
قحط الرجال کے اس دور میں مولانا عبدالستار نیازی مرحوم جیسے بلند و بالا رہنما کی بہت ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ ان کا نام آتے ہی ایک ایسے مرد مجاہد کا تصور ذہن میں آجاتاہے جس نے ساری عمر عشق رسالتﷺ کا سبق پڑھا اور پڑھایا آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کی ختم نبوت کا ہمیشہ دفاع کیا اور اسے اپنے ایمان کا جزو اعظم سمجھا ۔ مولانا عبدالستارنیازی معروف معنوں میں عالم دین نہ تھے تحریک پاکستان میں انہوں نے طلبا کے اسٹیج سے قائد اعظم کا بھرپور ساتھ دیا 1948تک ان کے چہرے پر ڈاڑھی بھی نہیں تھی لیکن اہل علم کے ساتھ رہنے اور قائدانہ کردار کی وجہ سے ان کا نام مولانا کے بغیر پھبتا ہی نہیں تھا۔ اس لیے وہ اتحاد بین المسلمین کے زبردست قائل و فاعل تھے ۔منکرین ختم نبوت کے خلاف انہوں نے ملت اسلامیہ کی نمائندگی کا حق ادا کردیا ۔ مولانا نیازی کی تقاریر ہم نے اوائل عمری میں بہت سنیں ان کی بلند و بالا شخصیت ہمیشہ ذہن پر چھائی رہی۔1978میں علامہ احسان الہٰی ظہیر کے جلسے میں بم پھٹا۔ اگلے دن میو ہسپتال میں مولانا عبدالستار نیازی علامہ صاحب کی عیادت کے لیے صبح صبح ہی تشریف لے گئے ان کو زخمی دیکھ کر بہت روئے ۔ شام کو مولانا حبیب الرحمن یزدانی کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے کامونکی قبرستان میں بنفس نفیس تشریف لے گئے ۔ جنازے کے موقع پرمولانا عبدالستار نیازی اتنے غمزدہ تھے کہ روتے روتے بیہوش ہونے کے قریب ہوگئے۔ بڑی مشکل سے انہیں سہارا دیا گیا۔1988 میں لاہور اپر مال میں قیام پذیر تھے۔ علامہ احسان الٰہی ظہیر کی جمعیت اہل حدیث کا دفتر لوئرمال کالج سے متصل تھا۔ راقم انچارج تھا اور مجھے مولانا سے یک گونہ عقیدت تھی ۔ ہفت روزہ اہل حدیث لاہور کا بھی نگران تھا اس میں منکرین ختم نبوت کا انجام کے عنوان سے پروفیسر ساجد میر صاحب کا ایک مضمون چھپا تو مولانا نے مجھے بلایا اور بہت تعریف کی اور قومی ڈائجسٹ کو دئیے گئے اپنے ایک انٹرویو کے ذریعے اس مضمون کی بڑی تحسین فرمائی۔ 1992 میں وزارت حج کی دعوت پر ان کے ساتھ حج کرنے کا موقع ملا۔5 جون کو آخری فلائٹس میں سے پوری رات جدہ ائرپورٹ پر سعودی وزارت حج کے مہمانان گرامی دنیا بھر سے جمع ہوتے رہے اور یہ سلسلہ ساری رات جاری رہا۔ مولانا ضیاء القاسمی، مولانا سید حبیب الرحمٰن شاہ راولپنڈی اور بے شمار علماء اور دنیا بھر کے وزراء اور شہزادے سبھی ایک چھت تلے جمع ہوتے رہے۔ مہمانوں کو مختلف ہوٹلوں میں شفٹ کیا جارہا تھا اور یہ کام بڑی آہستہ روی سے ہورہا تھا سبھی حضرات ارض حرمین پہنچ کر حرم اقدس سے دوری کو بہت محسوس کر رہے تھے۔ مولانا عبد الستار نیازی، سید حبیب الرحمٰن شاہ اور مولانا ضیا القاسمی نے مجھے نمائندہ بنا کر ذمہ داران سے بات کرنے کا کہا کہ تم عربی میں بے تکلفی سے بات کرسکتے ہو۔ اب مسئلہ یہ بنا کہ کون کہاں جائے گا حیات ریجنسی جدہ یا انٹرکان مکہ مکرمہ، ہم تینوں کو مختلف جگہوں کے لیے منتخب کیا گیا جب لسٹ ملی تو مولانا عبد الستار نیازی نے کہا دوبارہ ان سے بات کرو کہ ہمیں سیدھا مکہ مکرمہ بھیجو۔ ارض حرم پہنچ کر دوری بہت محسوس ہوتی ہے۔ بہرحال تھوڑی سی رد وقدح کے بعد ہمیں مکہ مکرمہ کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ اسی ہوٹل میں پشاور سے قومی اسمبلی کے رکن مولانا جان محمد ، انڈیا سے مولانا انور شاہ کاشمیری کے صاحبزادے، سوڈان کے صدر عمر البشیر اور بے شمار لوگ موجود تھے ۔ کھانے کے لیے بوفے سسٹم تھا مولانا عبد الستار نیازی کھانے پر جاتے ہوئے میرے کمرے میں تشریف لاتے اور مجھے ساتھ ضرور لے جاتے۔ مولانا عبدالستار نیازی کا قد کاٹھ ماشا اللہ بڑا وجیہ تھا سبھی اخباری نمائندے انٹرویو کرتے مجھے ترجمانی کا موقع ملتا اس طرح مولانا عبد الستار کے ساتھ بہت گہرا تعلق رہا وہ کافی بوڑھے تھے انہیں خدمت کی بہت ضرورت تھی اور مولانا عبد الستار مجھ پر بڑے خوش تھے۔ علامہ احسان الہٰی کے ساتھ مولانا کو بہت پیار کیونکہ علامہ صاحب جیسا خطیب کوئی اور نہ تھا۔6ستمبر 1974کی شب لاہور کی بادشاہی مسجد میں مجلس عمل ختم نبوت کے تحت آخری جلسہ تھا۔ مفتی محمود مرحوم خلاف توقع سامنے والے گیٹ سے اندر داخل ہوئے جس کے ساتھ ہی نعرے بازی شروع ہوگئی، مولانا سید ابوالاعلی مودودی کی تقریر شور و شرابے کی نذر ہوگئی مولانا اپنی لکھی ہوئی تقریر پریس کے حوالے کرکے چلے گئے لیکن ہنگامہ قابو سے باہر ہو رہا تھا کوئی حیلہ کارگر نہیں ہو رہا تھا۔ اتنے میں علامہ احسان الٰہی ظہیر نے مائیک سنبھالا اور چند ایسے جملے بولے کہ پورے مجمع پر سکوت کی چادر تن گئی اگر خدانخواستہ یہ جلسہ ہلڑ بازی کا شکار ہو جاتا تو اگلا دن بہت بھاری پرتا لیکن علامہ ظہیر نے معاملہ سنبھال لیا۔ مولانا سید بنوری، مولانا عبد الستار نیازی اور مولانا شاہ احمد نورانی، آغا شورش کاشمیری، سید مظفر علی شمسی اور دیگر اکابرین نے اپنی اپنی سیٹ سے اٹھ کر علامہ صاحب کا ماتھا چوما۔ حضرت مولانا عبدالستار نیازی کی پوری زندگی تحفظ ختم نبوت کے لیے گزری۔ عشق رسالت ان کی زندگی کا بڑا اہم پہلو تھا انہیں 1953میں تحریک تحفظ ختم نبوت کی قیادت کا اعزاز بھی حاصل ہوا جب 25 فروری کوتمام قائدین گرفتار کر لیے گئے تو مجاہد ملت نے تحریک کی قیادت سنبھالی اور اپنی بے پناہ قائدانہ صلاحیتوں سے دم توڑتی تحریک میں اس طرح جان ڈال دی کہ ایوان حکومت میں زلزلہ آ گیا۔ لاہور میں روزانہ دو جلسے ہوتے تھے ایک عصر سے پہلے دہلی دروازہ کے باہر اور دوسرا عشا کے بعد مسجد وزیر خان میں۔ مولانا نیازی کی عشق رسول ﷺ سے لبریز ایمان فروز تقاریر سے تحریک میں اس قدر شدت پیدا ہو گئی کہ حکومت نے اسے دبانے کے لیے تشدد کی راہ اختیار کی ڈی ایس پی فردوس علی شاہ آپ کو گرفتار کرنے آیا تو رضا کاروں نے اسے دروازے پر روک لیا، تلخی بڑھی تو ایک رضا کار نے اسے چھرا مار کر قتل کر دیا۔ مجاہد ملت عبد الستار نیازی گرفتار ہوئے اور آپ پر دو مقدمے قائم ہوئے ایک ڈی ایس پی کو قتل کرنے کا اور دوسرا پاکستان سے بغاوت کا۔ پہلا مقدمہ تو ثابت نہ ہو سکا لیکن دوسرے مقدمے میں آپ کو سزائے موت سنا دی گئی۔ اسپیشل ملٹری کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ”تمہاری گردن پھانسی کے پھندے میں اس وقت تک لٹکائی جائے گی جب تک تمہاری موت واقع نہ ہو جائے“ مولانا عبد الستار نیازی نے فرمایا ”کیا یہی سزا لائے ہو؟ اگر میرے پاس ایک لاکھ جانیں ہوتیں تو ان سب کو محمد مصطفی ﷺ پر قربان کر دیتا “ ایک لمحے کے لیے موت کے خوف کا حملہ ہوا، معاً یہ آیت کریمہ دل میں آئی ( اللہ وہ ہے جس نے موت اور زندگی پیدا کی تا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل والا ہے)۔ اس سے آپ نے یہ نکتہ اخذ کیا زندگی اور موت کا ما لک اللہ تعالی ہے ، یہ لوگ میری زندگی نہیں چھین سکتے۔ اس سے آپ کو بڑا حوصلہ ملا۔ اس کے ساتھ ہی یہ شعر آپ کی زبان پر جاری ہو گیا ” گشتگان خنجر تسلیم را ہر زبان از غیب جانے دیگراست “ آپ یہی شعر زیر لب پڑھتے ہوئے پورے اطمینان کے ساتھ کمرے سے باہر آئے تو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل مہر محمد حیات نے یہ سمجھا کہ ملٹری کورٹ نے آپ کو بری کر دیا ہے کہنے لگے، عبد الستار نیازی صاحب مبارک ہو! آپ بری ہو گئے۔ اس کے وہم گمان میں بھی یہ بات نہیں آ سکتی تھی کہ سزائے موت کا حکم سن کر کوئی شخص اتنا ہشاش بشاس ہو سکتا ہے۔ مولانا عبد الستارنیازی نے کہا کہ میں اس سے بھی آگے نکل گیا ہوں۔ اس نے کہا کیا مطلب؟ عبد الستارنیازی صاحب نے کہا اب ان شاء اللہ تعالی حضور پاکﷺ کے غلاموں اور عاشقوں کی فہرست میں میرا نام بھی شامل ہوگا۔ وہ پھر بھی نہ سمجھا تو مولانا عبد الستار نیازی نے فرمایا (رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا) مئی 1953ء میں مولانا نیازی کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دی گئی بعد میں 29 اپریل 1955ء کو جیل سے رہائی ملی مگر آپ کی حق گوئی اور صداقت شعاری آپ کو بار بار اسیرزنداں کراتی رہی۔ ہر بار آپ ایک نئے جوش اور ولولہ سے اٹھتے اور باطل کے ایوانوں پر زلزلہ طاری ہو جاتا۔ مولانا عبد الستارنیازی 86سال کی عمر میں کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد لاہور میں انتقال کرگئے ان کی تدفین ان کے آبائی علاقے میں ہوئی ۔ اللہ کریم ان کی خدمات کو قبول فرماتے ہوئے جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے آمین۔
تازہ ترین