آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ذیقعد 1441ھ 10؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کورونا سے لوگ ذہنی مریض بن گئے، مستقبل دوا ساز انڈسٹری کا ہوگا، ڈاکٹر جمال ناصر

راولپنڈی (جنگ نیوز) معروف پیتھالوجسٹ اور صدر پاکستان گرین ٹاسک فورس ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس نے لوگوں کو ذہنی مریض بنا کر رکھ دیا ہے، اس مرض کے حوالے سے پیدا کئے گئے خوف کی وجہ سے لوگ اپنے سگے و حقیقی رشتہ داروں، پڑوسیوں اور دوست احباب سے بھی دور ہو کر رہ گئے ہیں۔ آنے والا دور ادویات اور ویکسین کی انڈسٹری کا دور ہوگا اور ٹیکنالوجی پر دسترس اور جدید علوم سے آگاہی رکھنے والے ممالک ہی طاقتور قوموں کے طور پر ابھریں گی جبکہ معاشی لحاظ سے کمزور اور دیوالیہ ہونے والے ممالک کی حیثیت غلام اقوام جیسی ہو جائیگی۔ لاک ڈائون نے عوام و خواص کو ذہنی مریض بنا کر رکھ دیا ہے۔ اس حوالے سے سپریم کورٹ نے مثبت فیصلہ دے کر غریب عوام کے دل جیت لئے ہیں کیونکہ لاک ڈائون کی وجہ سے غریبوں کو گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کورونا وائرس اورلاک ڈائون سے پیدا شدہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے گزشتہ تین ماہ میں پاکستان میں تقریباً ایک ہزار افراد وفات پا چکے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد ہزاروں میں بتائی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ کورونا کے مقابلے میں دیگر امراض سے بھی اموات ہو رہی ہیں۔ نمونیہ اور ڈائریا سے تقریباً ایک ہزار بچے روزانہ وفات پا جاتے ہیں۔ 44ہزار مریض سالانہ ٹی بی سے مر جاتے ہیں۔ سولہ ہزار مریض سالانہ ایسے بھی پیدا ہوتے ہیں جن پر کوئی دوا ہی اثر نہیں کرتی‘ حتیٰ کہ ٹی بی کے مریضوں پر اینٹی باڈی کام نہیں کر پا رہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال 50ہزار سے ایک لاکھ تک مریض ملیریا سے مر جاتے ہیں، چار لاکھ سے زائد لوگ ہارٹ اٹیک و دیگر امراض قلب اور تقریباً ایک لاکھ افراد کینسر کے باعث اگلے جہاں سدھار جاتے ہیں۔ اسی طرح ایک کروڑ ستر لاکھ مریض گردے کے امراض میں مبتلا ہوتے ہیں، ہر سال ہیپا ٹائٹس بی اور سی سے مجموعی طور پر ایک کروڑ 60لاکھ افراد متاثر ہوتے ہیں جن میں زیادہ تر جگر کی بیماریوں اور کینسر کے مریض بن جاتے ہیں۔ دنیا میں ہر سال ایڈز کے باعث لاکھوں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ کورونا وائرس کیلئے PCRایک مہنگا ٹیسٹ ہے، اس کے مقابلے میں Anty Bodyسستا، آسان اور جلد ہونے جانے والا ٹیسٹ ہے، اسلئے PCRکی جگہ اینٹی باڈی ٹیسٹ کو اپنایا جانا چاہئے۔ پی سی آر ٹیسٹ ہر لیبارٹری نہیں کر سکتی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون ختم کرنے سے لوگوں میں قوت مدافعت بڑھے گی۔ ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ لاک ڈائون کا تسلسل معاشی مسائل میں اضافے کا سبب بنے گا، یہ لاک ڈائون کھاتے پیتے لوگوں کا مسئلہ نہیں کیونکہ اُن کے پیٹ بھرے ہیں، انہیں خوراک وغیرہ کا کوئی مسئلہ نہیں، اسلئے وہ اسکی حمایت کر رہے ہیں۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ جب لاک ڈائون کے سبب غریب اور پسماندہ علاقوں میں بھوک اور افلاس کے سائے بڑھیں گے تو اس کے منفی اثرات سے امیر بھی بچ نہیں پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پسماندہ علاقوں کے عوام ناقص خوراک اور آب و ہوا کے باوجود صحت مند زندگی بسر کرتے ہیں‘ اس کی وجہ سے یہ ان میں قوت مدافعت موجود ہے۔ المیہ یہ ہوگا کہ آئندہ کورونا سے اتنے لوگ نہیں مریں گے جتنے غربت کی وجہ سے اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فرانس، سپین، سویڈن اور امریکہ میں حال ہی میں کی گئی ایک ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس سے دنیا بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد اصل سے کئی گنا زیادہ ہے اور ان کیسز میں زیادہ تر ایسے ہیں کہ جن میں کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی اور انکے جسم میں کورونا وائرس کیخلاف قوت مدافعت پیدا ہوئی۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا میں اب وہی قوم ترقی کریں گی جس کے پاس ویکسین اور ادویات ہوں گی۔ آنے والے دور میں بہت ہی غریب یا بہت ہی امیر ممالک رہ جائیں گے۔ دو ا ساز اور ویکسین انڈسٹریز وسعت پائیں گی، تعلیم و صحت کو فوقیت دینے والے ممالک ہی زندہ رہ پائیں گے۔ ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ اس وقت پانچ سے آٹھ کروڑ لوگوں کو ایک وقت کی روٹی میسر ہے، خود وزیراعظم عمران خان نے کورونا کے سبب دو کروڑ افراد کے بیروزگار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ملکی معیشت کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے قبل پاکستان میں ڈالر کا ریٹ 157روپے تھا جو اب بڑھ کر 163روپے تک پہنچ چکا ہے۔ 200ارب روپے کا قرض بڑھ چکا ہے، وطن عزیز کی معاشی مشکلات بتدریج بڑھ رہی ہیں لیکن کسی کو اس کا احساس نہیں ہو پا رہا۔ ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ کورونا کو وباء کا نام دیکر لوگوں کو پریشان کرنا قطعاً نامناسب ہے، اگر یہ وباء ہو تو سڑکوں اور گلی محلوں میں لاشیں گرنا چاہئے‘ لیکن ایسا کہیں دیکھنے میں نہیں آیا۔ قبرستانوں کے بارے میں کئے گئے سروے کے مطابق بھی اموات کی شرح عام دنوں سے کم ہے، لیکن خوف کی فضا تکلیف دہ صورت اختیار کرتی جارہی ہے۔ تاہم آزمائش کی اس گھڑی میں کسی کو بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں، کورونا وائرس ختم تو نہیں ہو سکتا، لیکن ہمیں اس کے ساتھ ساتھ ہی چلنا ہوگا، معمول کے مطابق ہی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی کیونکہ انکے بغیر ہم کورونا وائرس سے محفوظ نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے حوالے سے لاک ڈائون اور بے جا منفی پروپیگنڈے نے لوگوں کے دل و دماغ کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔ گلیوں، بازاروں اور گھروں میں لڑائی جھگڑے معمول بن چکے ہیں، طلاق کی شرح بڑھتی جا رہی ہے‘ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل قریب میں ملک میں خانہ جنگی یا خونی انقلاب کو آنے سے کوئی روک نہیں سکتا اسلئے حکومت کو چاہئے کہ وہ لاک ڈائون کے حوالے سے ملکی حالات کے تناظر میں مثبت پالیسی اپنائے، لوگوں کو گھروں میں محصور کرنا موجودہ مسئلے کا کوئی حل ہرگز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی موجودہ صورتحال کو زیادہ دیر جاری رکھا جا سکتاہے۔
اسلام آباد سے مزید