آپ آف لائن ہیں
اتوار20؍ذیقعد 1441ھ 12؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عاصمہ ثاقب

ایک چوہا کسان کے گھر میں بل بنا کر رہتا تھا، ایک دن چوہے نے دیکھا کہ کسان اور اس کی بیوی ایک تھیلے سے کچھ نکال رہے ہیں،چوہے نے سوچا کہ شاید کچھ کھانے کا سامان ہے-

خوب غور سے دیکھنے پر اسے سمجھ آئی کہ وہ ایک چوہےدانی تھی- خطرہ بھانپنے پر اس نے گھر کے پچھواڑے میں جا کر کبوتر کو یہ بات بتائی کہ،’’گھر میں چوہےدانی آ گئی ہے-‘‘

کبوتر نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا ،’’کہ مجھے کیا؟ مجھے کون سا اس میں پھنسنا ہے؟‘‘

مایوس چوہا یہ بات مرغ کو بتانے گیا-

دل چسپ اور سبق آموز حکایت: کسان اور چوہا

مرغ نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا ،’’کہ ... جا بھائی یہ میرا مسئلہ نہیں ہے‘‘-

مایوس چوہے نے دیوار میں جا کر بکرے کو یہ بات بتائی تو بکرا ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوگیا-

اسی رات چوہےدانی میں کھٹاک کی آواز ہوئی، جس میں ایک زہریلا سانپ پھنس گیا تھا-

اندھیرے میں اس کی دم کو چوہا سمجھ کر کسان کی بیوی نے جب اس کو نکالاتو سانپ نے اسے ڈس لیا-

بیوی کی طبیعت بگڑنے پر کسان نے حکیم کو بلوایا، حکیم نے اسے کبوتر کا سوپ پلانے کا مشورہ دیا،

*کبوتر ابھی برتن میں ابل رہا تھا*

خبر سن کر کسان کے کئی رشتہ دار ملنے آ پہنچے ،جن کے کھانے کے انتظام کےلئے اگلے دن مرغ کو ذبح کیا گیا۔

کچھ دنوں کے بعد کسان کی بیوی مر گئی۔ جنازہ اور موت کی ضیافت میں بکرا ذبح کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔

چوہا دور جا چکا تھا ........ بہت دور ............

اگلی بار کوئی آپ کو اپنے مسئلے بتائے اور آپ کو لگے کہ یہ میرا مسئلہ نہیں ہے تو انتظار کیجئیے اور دوبارہ سوچیں .... ہم سب خطرے میں ہیں ....

خود تک محدود مت رہیے- دوسروں کا احساس کیجئیے۔