آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ذیقعد 1441ھ 10؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے کرائم میٹنگ

پشاور(کرائم رپورٹر ) اندرون شہر اور صدر ڈویژن میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور موجودہ حالات کا جائزہ لینے کی خاطر ایس ایس پی آپریشنز ظہور بابر آفریدی کی سربراہی میں ملک محمد سعد شہید پولیس لائن میں کرائم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں ایس پی سٹی محمد شعیب، ایس پی صدر ڈویژن عبدالسلام خالد سمیت سٹی اور صدر ڈویژنز کے تمام ایس ڈی پی اوز نے شرکت کی، ایس ایس پی آپریشنز نے موجودہ حالات کے تناظر میں سٹی اور صدر ڈویژنز میں ہونے والے جرائم اور ان کی تفتیش کا جائزہ لیتے ہوئے کرونا وائرس کی روک تھام اور عوامی آگاہی مہم کے حوالے سے خصوصی ہدایات دیں، انہوں نے اس ضمن میں علاقہ عمائدین اور علماء کرام کے کلیدی کردار کی بھی تعریف کی، انہوں نے سنگین جرائم کی روک تھام اور ان کی تفتیش سے آگاہی حاصل کرتے ہوئے تفتیش کے دوران مدعیان کے ساتھ رابطے میں رہنے کی تلقین اور تفتیش سے متعلق ان کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی تفصیلات کے مطابق ایس ایس پی آپریشن ظہور بابر آفریدی کی سربراہی میں گزشتہ روز ملک سعد شہید پولیس لائن میں کرائم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں ایس پی سٹی محمد شعیب، ایس پی صدر ڈویژن عبدالسلام خالد سمیت سٹی اور صدر ڈویژنز کے ایس ڈی پی اوز نے بھی شرکت کی، اس موقع پر سٹی اور صدر ڈویژنز میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہونے والی کارروائیوں، سنگین جرائم کی روک تھام اور ان تفتیش کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی گئی، میٹنگ کے دوران کرونا وائرس کی بابت حکومتی احکامات پر عمل درآمد کا بھی جائزہ لیا گیا، ایس ایس پی آپریشنز ظہور بابر آفریدی نے گزشتہ ماہ ہونے والے جرائم کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے دونوں ڈویژنز میں بہترین حکمت عملی کی بدولت جرائم کی کمی پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کی خاطر ظہور بابر آفریدی کی، انہوں نے کرونا وائرس کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال اور اس کی روک تھام کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کا بھی جائزہ لیتے ہوئے اس ضمن میں علماء کرام کے کردار کو سراہا، ایس ایس پی آپریشنز نے نوجوان نسل کو منشیات کی تباہ کاریوں سے بچانے اور مکروہ دھندے میں ملوث افراد کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کو مزید تیز کرنے جبکہ ملوث عناصر کے خلاف بلا تفریق کاروائیاں کرنے کی بھی ہدایت کی۔
پشاور سے مزید