آپ آف لائن ہیں
ہفتہ6؍ربیع الاوّل 1442ھ 24؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

چین بھارت تصادم، مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت

چین اور بھارت کے تعلقات ایک عرصے سے اس نوعیت کے چل رہے ہیں کہ جن میں کسی وقت بھی کشیدگی کا پہلو نمایاں ہو جاتا ہے اور جب سے بھارت کو یہ زعم ہوا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی طاقت ہے، وہ اس وقت سے گمان کرنے لگا ہے کہ ہر معاملے میں اس کی اجارہ داری بھی ہونی چاہیے۔ جنوبی ایشیا کی حد تک بھی بھارت کا یہ زعم حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ پاکستان بھارت کے حوالے سے کبھی بھی یہ قبول نہیں کر سکتا کہ جنوبی ایشیا میں صرف بھارت ہی طاقت ورہو سو ضرورت کے مطابق پاکستان بھارت کو یہ احساس بھی دلاتا رہتا ہے اور اس کا ایک ثبوت ابھینندن کو چائے پینے پر مجبور کر دینا بھی تھا۔ مگر جب سے نواز شریف حکومت کے دور میں سی پیک کا منصوبہ چین سے طے ہوا ہے، اس وقت سے بھارت کا پاگل پن آسمان کو چھونے لگا ہے کیونکہ بھارت اچھی طرح سے جانتا ہے کہ سی پیک کی کامیابی کی صورت میں پاکستان معاشی طور پر بہت توانا ہو جائے گا اور معاشی توانائی ہی مضبوط دفاع اور خارجہ پالیسی کی بنیاد ہوتی ہے، اس لئے بھارت نے سی پیک کے آغاز کے وقت ہی چین سے اس کو روکنے کے حوالے سے بات کی مگر چین بھارتی خواہشات کو پر کے برابر بھی اہمیت نہیں دے رہا۔ اس صورتحال کے بعد بھارت نے یہ حکمت عملی اختیار کرنے کی کوشش کی کہ وہ سی پیک کے راستے کو خطرے کے زون میں لے جائے۔ چین اور بھارت کی تازہ کشیدگی میں درحقیقت یہی بھارتی حکمت عملی کارفرما ہے۔ بھارت اپنی فوجی موجودگی کو سی پیک کے راستے تک پہنچانا چاہتا ہے، بھارت چین کو پریشان کرنے کی غرض سے شروع سے ہی تبت میں سرکشی کو ہوا دیتا رہا ہے اور اس وقت بھی ہوا دے رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں چین زیادہ طاقتور ہونے کے باوجود تحمل کی حکمت عملی پر گامزن ہے۔ چین نے اس کی بھی کوشش کی کہ بھارت سے تعلقات دونوں ملکوں کے درمیان عمومی تعلقات کی مانند قائم ہو جائیں مگر بھارتی قیادت تبت سے لیکر لداخ تک اپنے رویے میں کسی قسم کی تبدیلی لانے کیلئے تیار نظر نہیں آتی، اور جب بھارت تبت میں مداخلت اور لداخ میں فوجی مداخلت کی پالیسی پر گامزن ہے تو چین نے بھی ایک سرخ لکیر طے کر رکھی ہے کہ اگر بھارت نے یہ لائن عبور کی تو ایسی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔ وادی گلوان میں بھارتی فوج کی نقل و حرکت نے چین کو یہ محسوس کرنے پر مجبور کر دیا کہ بھارت اس سرخ لکیر تک پہنچ چکا ہے اور اب وہ لکیر کو کسی وقت بھی عبور کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں چین نے بھارت کو انتباہ کرنا شروع کر دیا کہ اس لکیر کے بعد تحمل کی پالیسی اختیار نہیں کی جائے گی کیونکہ چین اپنے مفادات کے تحفظ کا عزم رکھتا ہے اور اس میں یہ صلاحیت بھی موجود ہے کہ وہ اپنے مفادات کا کھل کر تحفظ کر سکے۔ اس لیے جب بھارت کی فوج نے اس علاقے میں دراندازی کی تو چین نے بھارت کو باقاعدہ انتباہ کیا مگر بھارتی باز نہ آئے اور انہوں نے تھوڑی دیر بعد ہی دوبارہ چین کے علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی، دوبارہ بھی انتباہ جاری کیا گیا مگر بھارت مخصوص حکمت عملی کے تحت وہاں حالات خراب کر رہا تھا سو نتيجتاً اپنے کرنل سمیت کم از کم 20فوجی ہلاک کروا بیٹھا۔

خیال رہے کہ کسی بھی تصادم سے بچنے کی غرض سے چین اور بھارت کی افواج اس علاقے تک اپنے فوجیوں کو غیر مسلح رکھتی ہیں اس لیے یہ تصادم آہنی ڈنڈوں اور پتھروں سے ہوا اور گھنٹوں جاری رہا۔ اس واقعے کے بعد چین نے دوبارہ تحمل کی بات کی کہ یہ معاملہ کسی بڑے فوجی تصادم کی طرف نہ چلا جائے۔ چینی میڈیا بھی خبر کو ایسے بیان کر رہا ہے کہ جس کی وجہ سے چینی عوام میں اشتعال نہ پھیلے۔ چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے انتہائی ذمہ دارانہ انداز میں اس واقعہ کو بیان کیا اور اس پر تبصرہ کیا مگر دوسری جانب بھارتی میڈیا اس طرح چلّا رہا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی، جوش میں ہوش کھونے کے مشورہ دیے جا رہے ہیں۔ تاہم اس واقعے کے بعد یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ بھارتی قیادت کے ہوش ٹھکانے آ جائیں گے اور وہ مزید کسی اشتعال انگیز کارروائی کے بغیر صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرے گی کیونکہ اگر کسی بھی نوعیت کی اشتعال انگیز کارروائی کو چین کے ساتھ روا رکھنے کی کوشش کی گئی تو ایسی صورت میں یہ طے شدہ امر ہے کہ چین بھرپور جوابی کارروائی کرے گا اور اب یہ جوابی کارروائی صرف آہنی ڈنڈوں اور پتھروں سے نہیں ہوگی۔ جب اس زمانہ قدیم کے ہتھیاروں سے اتنا نقصان پہنچا دیا گیا ہے تو ایسی صورت میں کہ جب جدید ترین ہتھیار استعمال ہوں گے، بھارت کو کتنا نقصان پہنچایا جا سکتا ہے، یہ بخوبی تصور کیا جا سکتا ہے۔ بھارتی اب ضرور سمجھنے لگے ہوں گے کیونکہ اگر بھارت نے کسی قسم کی اشتعال انگیزی کی تو یہ لازمی امر ہے کہ چین کے پاس بھی اس کے بہت سارے ابھینندن چائے پینے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ان حالات سے ظاہر ہے کہ پاکستان لاتعلق نہیں رہ سکتا کیونکہ اول تو پاکستان بھارت کی کسی بھی علاقے میں فوجی عزائم سے چشم پوشی سرے سے نہیں کر سکتا اور یہ معاملہ جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے کہ سی پیک کے نزدیک ہے تو اس میں وطن عزیز کی دلچسپی اور مفادات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ مگر افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت اربابِ حکومت سے شہباز شریف کو گرفتار کرنے کی کوششوں یا ان کی بیماری کا مذاق اڑانے کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہو رہا حالانکہ اس وقت بھارت نہ صرف پاکستان اور چین سے تصادم کی حالت میں ہے بلکہ دیگر ہمسایوں سے بھی اس کے تعلقات خراب ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ بھارت کے تمام ہمسایہ ممالک کی ایک کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا جائے تاکہ بھارتی فوجی عزائم کی بیوقوفیوں سے خطے کو محفوظ رکھا جا سکے مگر یہاں تو بس ایک خاندان کو گرانا مقصود ہے۔