آپ آف لائن ہیں
بدھ16؍ربیع الثانی 1442ھ2؍دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جج کو دھمکی، مولوی افتخار کو نوٹس جاری

سپریم کورٹ آف پاکستان نے آغا افتخار الدین ویڈیو از خود نوٹس کیس میں مولوی افتخار الدین مرزا کو نوٹس جاری کر دیا، جبکہ ڈی جی ایف آئی اے کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب یہ سب کیا ہو رہا ہے؟

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی بالکل دیکھا ہے میں نے، جج کی اہلیہ نے تھانے میں درخواست دی ہے، پولیس نے معاملہ ایف ائی اے کو بھیج دیا ہے، ایف آئی اے نے الیکٹرانک کرائم کے تحت کارروائی شروع کر دی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایف آئی اے کچھ نہیں کر رہا، ایف آئی اے کے پاس ججز کے دیگر معاملات بھی ہیں۔

سپریم کورٹ نے مولوی افتخار الدین مرزا کو نوٹس جاری کر دیا۔

مولوی افتخار الدین مرزا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مولانا صاحب خود عدالت آئے ہیں لیکن پولیس نے ان کو حراست میں لے لیا ہے، مولانا صاحب آئے تو ان کو اٹھا کر لے گئے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پولیس ان کو کیوں پکڑ کر لے گئی ہے، مولانا صاحب کو بلا لیں، اٹارنی جنرل آئندہ سماعت پر خود پیش ہو کر عدالت کی معاونت کریں۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایسا کوئی میکنزم نہیں کہ ہر چیز کو مانیٹر کیا جا سکے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایف آئی اے کو کچھ کرنا نہیں آتا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ویڈیو میں ملک کے ادارے کو دھمکی دی گئی ہے، اس ادارے کے جج کا نام تضحیک آمیز انداز سے لیا گیا ہے، ریاستی مشینری نے تاخیر سے ایکشن کیوں لیا؟

یہ بھی پڑھیئے:۔

جسٹس فائز عیسیٰ کو دھمکی آمیز ویڈیو، سپریم کورٹ کا نوٹس

چیف جسٹس آ ف پاکستان گلزار احمد نے کہا کہ ایف آئی اے نے کسی معاملے پر نتائج نہیں دیئے۔

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ایف آئی اے نے الیکٹرانک کرائم کے تحت کارروائی شروع کر دی ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے مولوی افتخار الدین مرزا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کرلیا اور کیس کی سماعت 2 جولائی تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ دھمکی آمیز ویڈیو میں اعلیٰ عدلیہ اور ججز کے بارے میں توہین اور دھمکی آمیز زبان استعمال کی گئی ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حوالے سے دھمکی آمیز ویڈیو کا از خود نوٹس لیتے ہوئے اسے سماعت کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔

دوسری جانب آغا افتخار الدین ویڈیو ازخود نوٹس کیس میں سینئر اینکر پرسن حامد میر نے بھی سپریم کورٹ آف پاکستان میں فریق بننے کی درخواست دے دی۔

قومی خبریں سے مزید