• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خصوصی تحریر:سید شہزاد علی -لوٹن


سید منور حسن کی جہد مسلسل کی داستان نصف صدی پر محیط ہے، لوٹن کی اوک روڈ پر واقع یوکے اسلامک مشن کی مدینہ مسجد میں درس و تدریس سے وابستہ برطانیہ کے ممتاز عالم دین قاری نزیر محمد جنہیں سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان کی رفاقت میں پاکستان کے اندر جماعت اسلامی کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا شرف حاصل رہا ہے اور جنہوں نے برطانوی سوسائٹی میں مرحوم کی نظریاتی آبیاری کی، نے ان کے حالات زندگی نمائندہ جنگ کے ساتھ شیئر کیے ہیں جنہیں قارئین کی دلچسپی کے لیے اس موقع کی مناسبت سے شامل اشاعت کیا جا رہا ہے۔سید منور حسن اگست1941ء میں دہلی میں پیدا ہوئے،آپ کے والد سید اخلاق حسین دہلی کے ایم بی ہائی اسکول میں معلم تھے۔ قیام پاکستان کے وقت وہ ایم بی ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے اور والدہ بچوں کو قرآن مجید پڑھاتی تھیں۔ یعنی منور حسن ایک علمی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور پھر آپ ان محب وطن لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے ہجرت کے زخم سہے، آپ نے دہلی سے لاہور اور پھر لاہور سے کراچی قیام پزیر ہوئے، ہجرت کا خون آشام سفر انہوں نے اپنی جاگتی آنکھوں سے ملاحظہ کیا تھا، دنیا بھر میں فکر اسلامی کا اعزاز حاصل کرنے والی اس نابغہ روزگار شخصیت نے ابتدائی تعلیم جیکب لائن کراچی کے ایک اسکول سے حاصل کی۔ آپ کو 1963ءاور 1966ء کے عرصے میں جامعہ کراچی سے عمرانیات اوراسلامیات میں ایم اے کے امتحانات امتیازی حیثیت سے پاس کرنے کا اعزاز حاصل ہوا،ساتھ ساتھ آپ طلبہ سیاست میں حصہ لیتے رہے اور طلبہ کے حقوق اور ملک کے کسان، مزدور اور غریب طبقے کے حقوق کے لیے نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے انہوں نے ملک بھر میں کام کیا اور 1959میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر بھی رہے تاہم اس عرصے میں انہوں نے محسوس کیا کہ یہ جدوجہد تب ہی نتیجہ خیز ثابت ہو سکتی ہے کہ جب اس میں دین اسلام کی آفاقی سچائی پر مبنی فکر بھی شامل ہو ،اس عرصے میں انہوں نے دنیا بھر کی اسلامی تنظیموں کے روح رواں سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ مرحوم کے انقلاب آفرین لٹریچر کا گہرائی سے مطالعہ کیا اور پھر اسلامی جمعیت طلبہ کے ہر اول میں شامل ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ زمانہ طالب علمی میں ہی سید منورحسن اپنی تحریروں اور خطابت کے باعث شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے ،آپ کالج میگزین کے ایڈیٹر بھی رہے۔علاوہ ازیں بیڈمنٹن کے ایک اچھے کھلاڑی بھی رہے۔آپ جمعیت کے مختلف عہدوں پر فائز رہے ، اکتوبر 1962ءمیں، انہوں نے اسلامی جمعیت طلبہ کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھایا، 1962میں اسلامی جمعیت طلبہ جامعہ کراچی کے ناظم بھی رہے، سید منورحسن 1963میں اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کے ناظم رہے۔27 دسمبر 1964ءکے سالانہ اجتماع میں جمعیت کے ارکان نے انہیں اسلامی جمعیت طلبہ کا ناظم اعلیٰ منتخب کیا اور تین مرتبہ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظمِ اعلیٰ منتخب ہوئے۔ یہ ان کی ولولہ انگیز قیادت کا اعجاز ہی تھا کہ ان کے دورِ نظامت میں جمعیت نے طلبہ کے مسائل، نظام تعلیم، اور تعلیم ِ نسواں کو درپیش مسائل کے حل کے سلسلے میں رائے عامہ کو بیدار کرنے کے لیے متعدد مہمات کا آغاز کیا۔سید منورحسن نے 27 دسمبر 1964ءسے 19 نومبر 1967ءتک اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ کے طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔ 1968 میں آپ نے جماعت اسلامی پاکستان میں شمولیت اختیار کی، سید منورحسن نے جماعت اسلامی کراچی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور نائب امیرکی حیثیت سے بھی اپنے فرائض انجام دئیے۔ جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ اور مجلس عاملہ کے بھی رکن منتخب ہوئے۔ 1977کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور ملک بھر میں سب سے زیادہ ووٹ لینے کا ریکارڈ قائم کیا۔ پھر انہوں نے1977میں جماعت اسلامی کراچی کے سیکرٹری جنرل کے طور پر بھی فرائض انجام دیئے۔.سید منورحسن نے1977میں چلائی جانے والی تحریک نظام مصطفی کو کراچی میں منظم کرنے کا شرف بھی حاصل کیا، آپ کی خدمات کا دائرہ کار بہت وسیع ہے، اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی کے ڈائریکٹر بھی رہے، ان کی نگرانی میں ہی اس تحقیقی اکیڈمی نے 70سے زاید علمی کتابیں شائع کیں جب کہ جنگ کو فراہم کی گئی مزید معلومات کے مطابق انہوں نے اسلامک ریسرچ اکیڈمی سے شائع ہونے والے جریدے The Criterionاور The Universal Messageکی ادارت بھی کی۔انہوں نے متعدد بین الاقوامی فورمز پر جماعت اسلامی کی نمائندگی کی۔سید منورحسن جنوری1989سے نومبر1991ءتک جماعت اسلامی کراچی کے امیر کے منصب پر فائز رہے۔ سید منور حسن کو 1992 میں جماعت اسلامی پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مقرر کیے گئے۔ آپ 2009 میں بھاری اکثریت سے جماعت اسلامی پاکستان کے چوتھے امیر مقرر ہوئے اور 2014 تک بطور امیر جماعت اسلامی پاکستان اس منصب پر فائز رہے۔ آج وہ ہم میں موجود نہیں رہے اللہ پاک انہیں غریق رحمت کرے، ان کی رحلت پر لوٹن کے دینی حلقوں میں سوگ کی کیفیت طاری ہے -

تازہ ترین