آپ آف لائن ہیں
اتوار20؍ذیقعد 1441ھ 12؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پاکستانی پائلٹس کے حوالے سے انکشافات تشویشناک ہیں، کمیونٹی شخصیات

بریڈفورڈ (محمد رجاسب مغل )وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان کے پاکستان کی پارلیمنٹ میں بیان نے پاکستان کی ہوابازی کی صنعت، اس کے لیے کام کرنے والے سینکڑوں پائلٹس اور ان کے مستقل اور قابلیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے جو دنیا بھر میں یہاں سے لائسنس لے کر کام کر رہے ہیں یا زیرتربیت ہیں۔ دنیا بھر کے میڈیا نے پاکستان کے مشکوک لائسنس ہولڈر پائلٹس کے انکشاف کو نمایاں اور تشویش ناک قرار دیا ہے موجودہ تباہ حال ایوی ایشن کی صنعت جو کورونا وائرس سے شاید بچ کر نکل جائے مگر اس بحران سے نکلنے کے لیے اسے ایک شفاف، قابل اعتبار سول ایوی ایشن اتھارٹی اور اس معاملے کی شفاف بین الاقوامی معیار کی تحقیقاتی رپورٹ ہی بچا سکے گی۔روزنامہ جنگ لندن سے کمیونٹی نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے جہاں تشویش اور غصے کا اظہار کیا وہاں وفاقی وزیر برائے ہوا بازی کے بیان کو دنیا بھر میں شرمندگی اور ندامت کا باعث قرار دیا ہے۔ کمیونٹی نے کسی بھی قسم کے ناجائز طریقوں سے لائسنس کے حصول کی مذمت کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کو سزائیں دی جائیں ۔پاکستان پیپلز پارٹی برطانیہ کے انفارمیشن سیکرٹری جنرل زاہد مغل نے وفاقی وزیر برائے ہوا بازی کی جانب سے جعلی لائسنس ہولڈر پائلٹس کو بے نقاب کرنے کو ایک درست اقدام قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام ادارے کرپشن سے تباہ اور برباد ہو چکے ہیں ماضی میں محض اس لیے ان پر پردے ڈالے گئے کہ دنیا میں جگ ہنسائی ہو گی مگر حقائق کو تسلیم کرنا اور اس کے حل کے لیے اقدامات کا خیر مقدم کرتے ہیں اگر چہ پاکستان کی ائر لائن کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا مگر کسی نہ کسی نے اس کو ٹھیک کرنا تھا ۔ پاکستان تحریک انصاف یارکشائر اینڈ ہمبر کے سابق صدر طاہر ایوب نے کہا کہ پائلٹس کے مشکوک لائسنسزسے پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے، وزیراعظم پاکستان سے ازسر نو پی آئی اے کی اس غلطی کی تحقیقات اور ساتھ ساتھ ادارے کی بہتری کیلئے بھی اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اوورسیز ایڈوائزری کونسل کے خالد خالق نے وزیر ہوا بازی کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے کیونکہ مشکوک لائنسز کہیں اور سے نہیں بلکہ پاکستان ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جاری کیے جاتے ہیں بہتر یہی ہوتا کہ ادارے کے اندر سے کرپشن ختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جاتے محض بیان بازی مسئلہ کاحل نہیں، پہلے سے تباہ حال ائرلائن کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا گیا ہے انہوں نے وفاقی وزیر ہوا بازی سے استعفے کا مطالبہ کیا ۔مسلم لیگ ن آزادکشمیر کے رہنما ساجد پنوں نے کہا کہ ادارے کی کرپشن میں جو بھی ملوث ہے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر ڈیوزبری کے صدر چوہدری محمد فاضل نے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا کہ وہ کرپٹ عناصر کو کیفرکردار تک پہنچائیں، قومی ائر لائن ہمارا فخر ہے مگر اس کے اندر موجود کالی بھیڑیں ملک کی بدنامی کا باعث ہیں، موجودہ کورونا وائرس میں بین الاقوامی ائرلائنز کی بندش کے بعد پی آئی اے نے جس طرح لوٹ مار کا بازار گرم کیا اور پھر وزیر ہوا بازی کا بیان کہ اوورسیز کمیونٹی وطن ہی نہ آئے اب پائلٹس کا نیا پنڈورا بکس کھول دینے سے نہ صرف دنیا بھر میں بدنامی ہوئی بلکہ ہماری نسلیں بھی اپنے وطن جانے سے کترائیں گی ۔اوورسیز پاکستانی ویلفیئر کونسل کے سیکرٹری جنرل اور تحریک انصاف کے رہنما آصف خان نے کہا کہ وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان کے اس بیان کے بعد جس میں انہوں نے یہ انکشاف کیا ہے کہ 300 پاکستانی پائلٹس کی قابلیت اور ڈگریاں مشکوک ہیں، نے پی آئی اے کی پہلے سے خراب کارکردگی اور اس کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور یہ قوم کے لئے باعث تشویش اور شرمندگی ہے، پی آئی اے کو فوری توجہ اور اصلاح کی ضرورت ہے۔ کمیونٹی کی جانب سے ردعمل ایسے موقع پر دیا جارہا جب کراچی طیارہ حادثے کی تحقیقات منظر عام پر لائی گئیں اور وفاقی وزیر ہوا بازی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ دس سال میں چار حادثات ہوئے جن میں سے تین کے ذمہ دار پائلٹ تھے۔ جعلی لائسنس والے پائلٹس کے خلاف فوجداری مقدمات چلائیں گے۔ 28 پائلٹس کے لائسنس کی منسوخی کی سمری کابینہ کو بھیجی جائے گی۔ مسافروں کو ایسے لوگوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جعلی لائسنس دینے پر سول ایوی ایشن نے 5افراد کو معطل کر دیا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے کو مقدمات بھیجے جائیں گے۔ جعلی لائسنس جاری کرنے میں آئی ٹی کے لوگ بھی شامل ہیں۔

یورپ سے سے مزید