آپ آف لائن ہیں
جمعرات 22؍ ذی الحج 1441ھ13؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مافیاز کا تسلط اور حکومتی کار گزاری

کون نہیں جانتا کہ پاکستان میں کئی طاقتور مافیاز ہیں۔ یقیناً یہ وزیراعظم عمران خان جانتے تھے اور جانتے بھی ہیں لیکن ماضی کی اکثر حکومتوں نے ان مافیاز کو ایک حد میں رکھا اور جہاں معاملات طے بھی کرنا پڑے تو ایسے طریقے سے طے کئے کہ ملک و قوم کا نقصان نہ ہو۔ یوں حکومتیں بھی چلتی رہیں اور نظام مملکت بھی۔ نواز شریف کی تیسری حکومت میں گردشی قرضے سینکڑوں ارب میں تھے جب لوڈ شیڈنگ کا خطرہ بڑھا تو پاور کمپنیوں کو ادائیگیاں کی گئیں۔ اس وقت موجودہ وزیراعظم اپوزیشن میں تھے تو بہت شور مچایا گیا۔ یہاں تک کہا گیا کہ اپنوں کو نوازنے کے لئے یہ فوری ادائیگیاں کی گئیں۔ اب گردشی قرضے 2500ارب روپے سے بڑھ گئے، حالانکہ اس سے پہلے بھی ادائیگیاں کی گئی ہیں، اس کے باوجود یہ قرضے اس حد تک بڑھ گئے ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اربوں روپے ان قرضوں پر سود بنتا ہے۔ یہ بات کہاں پہنچے گی معلوم نہیں البتہ یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ آنے والی حکومت بھی یہی کہے گی کہ سابقہ حکومت بہت مشکلات چھوڑ کے گئی ہے وغیرہ وغیرہ۔ بات مافیاز کی ہو رہی تھی موجودہ حکومت کی کچھ باتیں بہت خاص ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ عملی طور پر عنانِ حکومت اور فیصلوں پر بعض افراد اور مافیاز کا تسلط ہے۔ شوگر مافیا کا پہلے بہت چرچا کیا گیا۔ کمیشن، رپورٹ، فرانزک وغیرہ لیکن ہوا کیا؟ ہائیکورٹ کے فیصلے کے باوجود کچھ بھی نہ ہوا۔

البتہ چینی کی قیمت مزید بڑھ گئی۔ اس سب ہنگامے کے باوجود چینی 95روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے جس میں جلد مزید اضافے کا امکان ہے۔ بجلی کمپنیوں کی لوٹ مار کا غلغلہ ہوا۔ کمیشن اور رپورٹ لیکن کارروائی صفر۔ پورے ملک میں لوڈشیڈنگ اور ان ہی کمپنیوں کی منشا کے مطابق بجلی کے نرخوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ بجلی کے بل دیکھ کر عوام کی اپنی بجلی فیل ہو جاتی ہے۔ پنجاب کے وزیر خوراک نے اعلان کیا کہ گندم خریداری کا ہدف پورا ہو گیا ہے اور گندم کی مزید خریداری بند کر دی گئی ہے لیکن آٹا مہنگا ہونا شروع ہوگیا، فلور ملوں کے گوداموں پر چھاپے مارے گئے، ڈرامائی کارکردگی دکھانے کی کوشش کی گئی۔ دوسرے صوبوں خصوصاً کے پی کو گندم، آٹے کی سپلائی بھی روک دی گئی لیکن نتیجہ صفر۔ اب وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا ہے کہ پندرہ لاکھ ٹن گندم کا شارٹ فال ہے۔ کیا اس کے ذمہ دار پنجاب کے وزیر خوراک ہیں یا بے چارہ سیکریٹری خوراک پنجاب جس کا حسب روایت موجودہ حکومت میںتبادلہ کر دیا گیا۔ عوام مہنگی روٹی کھانے پر مجبور ہیں وہ کس سے فریاد کریں۔ پٹرول جب عالمی مارکیٹ میں سستا ترین ہو گیا تو کچھ ہی دنوں بعد پٹرول کی قیمت کم کر دی گئی۔ پٹرول مافیا نے پٹرول ہی غائب کر دیا اور حکومت نے پٹرول درآمد بند کر دی کہ اب پٹرول کے ذخائر کافی ہیں مزید درآمد کی ضرورت نہیں ہے۔ جب عوام اچھی طرح خوار ہوئے تو راتوں رات بغیر قاعدہ قانون کے پٹرول اتنا مہنگا کر دیا گیا کہ عوام حیران و پریشان ہو گئے۔ پٹرول کا مہنگا ہونا تھا کہ مارکیٹ میں پٹرول ہی پٹرول ہو گیا۔ مافیاز حکومت پر مسلط ہیں یا حکومت مافیاز کو نواز رہی ہے جو بھی ہے لیکن خمیازہ تو عوام بھگت رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار تو پلس ثابت نہ ہو سکے لیکن ان کی کرسی کو برقرار رکھنے کے لئے کئی اعلیٰ افسران کو بلی چڑھایا گیا۔ اسٹیل ملز کو پائوں پر کھڑا کرنے اور مزدوروں کا ساتھ دینے کے دعویداروں نے ایسا یو ٹرن لیا کہ عوام حیران اور مزدور پریشان ہو گئے۔ پچاس لاکھ مکانات اور ایک کروڑ نوکریوں کا مطلب شاید لوگ غلط سمجھے تھے۔ صحیح مطلب ان اعلانات کا یہ تھا جو اب سامنے آرہا ہے اور یہ ٹارگٹ پورا ہو گا۔ سیدھی بات ہے لیکن پاکستانی قوم کو بعد میں سمجھ آتی ہے۔ تبدیلی کا وعدہ تھا اور پورا ہو رہا ہے۔عوام نے جو مرضی مطلب لیا تھا۔ پی آئی اے کو دیکھ لیں پہلے پی آئی اے میں کرپشن اور بدعنوانیوں کا خوب چرچا کیا گیا۔ پھر وزیر ہوا بازی نے پائلٹوں کے بارے میں ایسا ڈھول پیٹا کہ نہ صرف بیرونی ممالک میں پاکستانی پائلٹوں کو نوکریوں سے ہٹایا گیا بلکہ پاکستان میں بھی سینکڑوں بےروزگار ہوگئے۔ اس تمام معاملے میں پی آئی اے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔

یورپی ممالک میں چھ ماہ کے لئے پی آئی اے پر پابندی لگا دی گئی۔ یوں پی آئی اے کو اربوں کا نقصان اور کھربوں کی بدنامی ملی۔ ذمہ دار کون ہے یہ کوئی پتا نہیں۔ البتہ اعلان کرنے والے وزیر موصوف بدستور اپنے منصب پر براجمان ہیں۔ پی آئی اے کے نیویارک میں تاریخی روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری کے خلاف شور مچا تو اب اس ہوٹل کو پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے چلانے کا منصوبہ ہے۔ یعنی کسی لاڈلے کو نوازنا ہی ہے چاہے کسی بھی طریقہ سے ہو۔ اس تمام صورتحال کو دیکھا جائے تو یہ وہ اونٹ ہے جس کی کوئی کل سیدھی نہیں ہے لیکن اس کا انجام کیا ہوگا یہ تو خدا جانتا ہے۔ بظاہر تو مائنس ون نہیں بلکہ مائنس آل ہوگا اور اس کے بعد اکثر مشیر تو بریف کیس اٹھا کر یہ جا وہ جا ہو جائیں گے، کچھ وزیر کسی اور آشیانے کا رُخ کر لیں گے شاید کچھ کے ساتھ کچھ ہو جائے لیکن اب عوام بھگت رہے ہیں اور دھڑن تختہ کسی اور کا ہو جائے گا۔ آخر میں عوام تیار رہیں کہ پٹرول اور بجٹ کی وجہ سے مہنگائی کا سونامی آنے والا ہے، خدا خیر کرے۔