آپ آف لائن ہیں
جمعہ16؍ذی الحج 1441ھ7؍اگست2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

لاش پر بیٹھے بچے کی تصویر۔ عالمی ضمیر نہ جگاسکی

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی معصوم بچے کی اپنے نانا کی لاش پر بیٹھے زار و قطار روتے تصویر جس نے بھی دیکھی، اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور مجھ سمیت ہر درد دل رکھنے والے صاحب اولاد کو رلاکر رکھ دیا۔ یہ تصویر مقبوضہ کشمیر کے 3سالہ عیاد کی تھی جس کے 60 سالہ نانا بشیر احمد کو سوپور میںایک ناکے پر موجود بھارتی سیکورٹی اہلکاروں نے گاڑی سے اتارکر بچے کے سامنے گولیاں مارکر شہید کردیا ، خوفزدہ سہما ہوا ننھا عیاد اپنے نانا کی لاش پر بیٹھا پوری دنیا کو دکھائی دیا۔ مقتول کے بیٹے نے درد بھری آواز میں کہا کہ لداخ میں چینی فوج کے ہاتھوں رسوا ہونے والی بھارتی فوج بے گناہ کشمیریوں پر اپنا غصہ نکال رہی ہے اور انہیں انتقام کا نشانہ بنارہی ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے علاقے سوپور میں پیش آنے والا حالیہ دردناک واقعہ مظلوم کشمیریوں پر بھارتی ظلم و بربریت کا منہ بولتا ثبوت ہے، روزانہ کتنے ہی بچے بھارتی ظلم و جبر کے نتیجے میں یتیم اور بے سہارا ہورہے ہیں جو دنیا کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ حالیہ کچھ مہینوں میں بھارتی سیکورٹی فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کی نئی داستانیں رقم کی ہیں۔ رواں سال اب تک مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں سینکڑوں کشمیری شہید ہوچکے ہیں۔ کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے کے ساتھ ساتھ مودی حکومت کشمیری مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے ان کی نسل کشی بھی کررہی ہے اور مقبوضہ وادی میں آئین کے آرٹیکل 370 اور 35-A کے خاتمے کے بعد بھارتی ہندوئوں کو ملازمت اور کاروبار کے نام پر مقبوضہ کشمیر میں مستقل طور پر آباد کیا جارہا ہے اب تک ہزاروں بھارتی ہندو جائیدادیں خرید کر مقبوضہ کشمیر میں آباد ہوچکے ہیں۔

گزشتہ دنوں لداخ میں چینی فوج کے ہاتھوں رسوا ہونے کے بعد نریندر مودی کا اپنے فوجیوں کا حوصلہ بڑھانے کیلئے لداخ کا اچانک دورہ اور فوجیوں سے معنی خیز خطاب یہ ثابت کرتا ہے کہ مودی حکومت اپنی خفت مٹانے اور عوام کی توجہ شکست سے ہٹانے کیلئے مذموم کارروائیوں میں مصروف ہے اور اس کا بدلہ لینے کیلئے پاکستان کیخلاف مزید کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے جس کیلئے پاکستان کو ہر لمحہ تیار اور چوکس رہنا ہوگا۔ بھارت کی کوشش ہے کہ پاکستان میں امن و امان کی صورتحال خراب کرکے اور دہشت گردی کرواکے غیر یقینی صورتحال پیدا کی جائے اور اس کی معیشت کو کمزور کیا جائے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات اور گزشتہ دنوں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر ہونے والا دہشت گردی کا حملہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

بھارت کے مذموم عزائم کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ایسے میں جب دنیا کےتمام ممالک اپنے تمام وسائل کورونا وائرس سے نمٹنے اور اپنےعوام کی فلاح کیلئے بروئے کار لارہے ہیں، بھارت دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس پر اس نازک صورتحال میں بھی جنگی جنون سوار ہے اور وہ جنگی ساز و سامان کی خریداری پر اپنے تمام وسائل بے دریغ خرچ کررہا ہے۔ گزشتہ دنوں بھارت نے روس سے 25 مگ 29جنگی طیارے اور 12ایس یو 30ایم کے آئی ایئر کرافٹس خریدنے اور اپنے 59 مگ 29 جنگی طیاروں کو اپ گریڈ کرنے کا دفاعی معاہدہ کیا ہے جس کی مجموعی مالیت 39 ہزار کروڑ بھارتی روپے ہے۔ حالیہ معاہدہ گزشتہ سال نومبر میں فرانس سے ہونے والی اس دفاعی ڈیل کے علاوہ ہے جس میں بھارت نے فرانس سے 36 ریفائل فائٹر جیٹ طیارے خریدے جن کی مجموعی مالیت 8.3 ارب ڈالر تھی۔ یہ بات واضح ہے کہ بھارت یہ سب کچھ سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت کررہا ہے جس کا مقصد پاکستان پر دفاعی برتری حاصل کرکے اس کی سلامتی کو خطرات سے دوچار کرنا ہے۔

معصوم کشمیری بچوں کا اپنے باپ، بھائیوں اور رشتہ داروں کی لاشوں پر رونا روز کا معمول بن گیا ہے ۔ حالیہ واقعہ انسانی حقوق کے ان علمبرداروں کیلئے لمحہ فکریہ ہے جنہوں نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور انسانیت کے ان جھوٹے علمبرداروں کو معصوم کشمیریوں کی تذلیل اور ان پر ظلم و بربریت نظر نہیں آتی۔ وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھارت کو واضح پیغام دیں کہ مقبوضہ کشمیر کے نہتے شہریوںپر بھارتی ظلم و ستم برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بھارت کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ کل یہی بچے بڑے ہوکر بندوق اٹھاکر اپنے پیاروں کے خون کا بدلہ بھارتی سیکورٹی فورسز سے لیں گے جس کا الزام ہمیشہ کی طرح بھارت، پاکستان پر ڈالے گا۔سمجھا تو یہ جارہا تھا کہ معصوم کشمیری بچے کی یہ تصویر دنیا کی اُن طاقتوں اور انسانی حقوق کے چمپئن کہلوانے والوں کے ضمیر کو جھنجوڑ کر رکھ دے گی مگر افسوس کہ انسانیت کا پرچار کرنے والے مغربی ممالک اور ترقی یافتہ قوموں جن کے مفادات بھارت کی معاشی منڈی سے جڑے ہوئے ہیں، کو نانا کی لاش پر بیٹھے عیاد کے آنسو نظر نہیں آئے اور یہ تصویر عالمی ضمیر نہ جگاسکی۔